انگلینڈ کے خلاف سیریز میں شکست
شائقین کرکٹ کو شاہینوں کے کھیل اور ان کی مجموعی پرفارمنس سے سخت مایوسی ہوئی ہے۔
شائقین کرکٹ کو شاہینوں کے کھیل اور ان کی مجموعی پرفارمنس سے سخت مایوسی ہوئی ہے۔ فوٹو: فائل
کرکٹ کے ورلڈ کپ کے حوالے سے پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم سے وابستہ امیدوں کا تاج محل ڈگمگا رہا ہے۔انگلینڈ کے خلاف حالیہ کرکٹ سیریز میں قومی کرکٹ کی کارکردگی مایوس کن رہی۔ جس چیز نے شائقین کرکٹ کو دل گرفتہ کیا ہے وہ بیٹنگ اور بولنگ کمبی نیشن مین دراڑ کا پڑنا ہے۔
قوم کی تمناؤں کا گھنا سایہ ٹیم کے ہمراہ تھا۔ ٹیم اسکواڈ کو حوصلہ سے کام لینا چاہیے۔ انگلش کرکٹ ٹیم نے سیریز کے پانچویں اور آخری ایک روزہ انٹرنیشنل میچ میں پاکستان کو ہراکر سیریز 4-0 سے جیت لی۔ پہلا میچ بارش کی نذر ہوگیا تھا۔ اتوار کو گرین شرٹس352 رنز کے تعاقب میں 297 رنز بنا سکے۔
اس میچ میں ٹیم کی خامیوں ، بولنگ، بیٹنگ، فیلڈنگ اور تکنیک میں موجود خامیوں نے کوچ مکی آرتھر کو گہری سوچ میں ڈبودیا ہے، تاہم وہ دلاسا دے تو رہے ہیں مگر پاکستان ٹیم کے نوجوان اسٹار کھلاڑیوں نے بھی اپنے کھیل سے مایوس کردیا۔ ان کی روش ماضی سے مختلف نہیں رہی ۔ ٹیم پریشر میں نہیں کھیل سکی۔ اب بھی اگر ورلڈ کپ میں بریک تھرو کا کوئی چانس ہے تو ٹیم کی بولنگ میں بہتری لانا ضروری ہے ۔محمد شاداب خان کی شمولیت اچھا شگون ہے جنھیں میڈیا رپورٹس کے مطابق ورلڈ کپ میں شریک 9 ٹیموں کے 14 خطرناک اسپنرز میں شامل کیا گیا ہے محمد عامر اور وہاب ریاض کی شمولیت سے فاسٹ بولنگ خاصی متوازن ہوگئی ہے ۔
پانچویں ون ڈے میں انگلینڈ نے 54 رنز سے شکست دے کر سیریز 4-0 سے اپنے نام کرلی۔ شائقین کرکٹ کو شاہینوں کے کھیل اور ان کی مجموعی پرفارمنس سے سخت مایوسی ہوئی ہے، ان کا کہنا ہے کہ صرف شاداب کو میچ وننگ بولر سمجھنا صائب انداز نظر نہیں، کیونکہ شاداب کی مکمل صحت یابی ابھی ایک مسئلہ ہے۔ خدا کرے وہ سپر فٹ ہوں اور کچھ کرسکیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ انگلینڈ کے علاوہ بھی تو ورلڈ کپ میں فائٹنگ ٹیمیں ہیں، آسٹریلیا ، جنوبی افریقہ، نیوزی لینڈ ، بھارت ، سری لنکا اور ویسٹ انڈیز پانسہ پلٹ سکتی ہیں۔ دریں اثنا کرکٹ لیجنڈز ، سینئر کھلاڑیوں اور تجزیہ کاروں نے آخری میچ میں جان لڑانے سے گریز کو ''میں ہوں اپنی شکست کی آواز'' سے تعبیر کیا ہے۔
کپتان سرفراز احمد نروس نائنٹیز کا شکار رہے، بابر اعظم کے 80 رنز بھی کام نہ آسکے، انگلینڈ کے بولرکرس ووئکس نے 5 وکٹیں لیں ۔ شاہین آفریدی نے 4 اور عماد نے 3 وکٹیں اڑائیں، روٹ 84 جب کہ ایون مورگن 76 رنز بنا کر نمایاں رہے۔ انگلینڈ نے تمام شعبوں میں اپنی برتری ثابت کردی۔ اب بھی وقت ہاتھ سے نہیں نکلا، ٹیمم مینیجر،کوچ اور کھلاڑی اس سیریز کے میچوں سے سبق حاصل کریں، یہ ڈریس ریہرسل تھی، اصل مقابلہ ورلڈ کپ میں ہوگا جس میں9 دن رہ گئے ہیں۔
قوم کی تمناؤں کا گھنا سایہ ٹیم کے ہمراہ تھا۔ ٹیم اسکواڈ کو حوصلہ سے کام لینا چاہیے۔ انگلش کرکٹ ٹیم نے سیریز کے پانچویں اور آخری ایک روزہ انٹرنیشنل میچ میں پاکستان کو ہراکر سیریز 4-0 سے جیت لی۔ پہلا میچ بارش کی نذر ہوگیا تھا۔ اتوار کو گرین شرٹس352 رنز کے تعاقب میں 297 رنز بنا سکے۔
اس میچ میں ٹیم کی خامیوں ، بولنگ، بیٹنگ، فیلڈنگ اور تکنیک میں موجود خامیوں نے کوچ مکی آرتھر کو گہری سوچ میں ڈبودیا ہے، تاہم وہ دلاسا دے تو رہے ہیں مگر پاکستان ٹیم کے نوجوان اسٹار کھلاڑیوں نے بھی اپنے کھیل سے مایوس کردیا۔ ان کی روش ماضی سے مختلف نہیں رہی ۔ ٹیم پریشر میں نہیں کھیل سکی۔ اب بھی اگر ورلڈ کپ میں بریک تھرو کا کوئی چانس ہے تو ٹیم کی بولنگ میں بہتری لانا ضروری ہے ۔محمد شاداب خان کی شمولیت اچھا شگون ہے جنھیں میڈیا رپورٹس کے مطابق ورلڈ کپ میں شریک 9 ٹیموں کے 14 خطرناک اسپنرز میں شامل کیا گیا ہے محمد عامر اور وہاب ریاض کی شمولیت سے فاسٹ بولنگ خاصی متوازن ہوگئی ہے ۔
پانچویں ون ڈے میں انگلینڈ نے 54 رنز سے شکست دے کر سیریز 4-0 سے اپنے نام کرلی۔ شائقین کرکٹ کو شاہینوں کے کھیل اور ان کی مجموعی پرفارمنس سے سخت مایوسی ہوئی ہے، ان کا کہنا ہے کہ صرف شاداب کو میچ وننگ بولر سمجھنا صائب انداز نظر نہیں، کیونکہ شاداب کی مکمل صحت یابی ابھی ایک مسئلہ ہے۔ خدا کرے وہ سپر فٹ ہوں اور کچھ کرسکیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ انگلینڈ کے علاوہ بھی تو ورلڈ کپ میں فائٹنگ ٹیمیں ہیں، آسٹریلیا ، جنوبی افریقہ، نیوزی لینڈ ، بھارت ، سری لنکا اور ویسٹ انڈیز پانسہ پلٹ سکتی ہیں۔ دریں اثنا کرکٹ لیجنڈز ، سینئر کھلاڑیوں اور تجزیہ کاروں نے آخری میچ میں جان لڑانے سے گریز کو ''میں ہوں اپنی شکست کی آواز'' سے تعبیر کیا ہے۔
کپتان سرفراز احمد نروس نائنٹیز کا شکار رہے، بابر اعظم کے 80 رنز بھی کام نہ آسکے، انگلینڈ کے بولرکرس ووئکس نے 5 وکٹیں لیں ۔ شاہین آفریدی نے 4 اور عماد نے 3 وکٹیں اڑائیں، روٹ 84 جب کہ ایون مورگن 76 رنز بنا کر نمایاں رہے۔ انگلینڈ نے تمام شعبوں میں اپنی برتری ثابت کردی۔ اب بھی وقت ہاتھ سے نہیں نکلا، ٹیمم مینیجر،کوچ اور کھلاڑی اس سیریز کے میچوں سے سبق حاصل کریں، یہ ڈریس ریہرسل تھی، اصل مقابلہ ورلڈ کپ میں ہوگا جس میں9 دن رہ گئے ہیں۔