’’میں جانا پردیس‘‘ نے پرویز مہدی کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچایا

اصل نام پرویز حسن ،مہدی حسن کے شاگردی کے بعد پرویز مہدی نام رکھا

پرویز مہدی کے والد بشیر راہی بھی معروف فوک گلوکار تھے۔ فوٹو: فائل

لاہور:
معروف غزل گو اور فوک سنگر پرویز مہدی کی آٹھویں برسی 29اگست کو منائی جائے گی۔

گلوکار پرویز مہدی کو بچپن سے ہی گائیکی سے لگائو تھا اس لیے وہ زمانہ طالب علمی میں ہی اپنے اسکول میں بزم ادب میں نعت خوانی کرتے تھے ۔ ان کے والد بشیر راہی نے اپنے بیٹے کی لگن اور شوق کو دیکھتے ہوئے اس کی حوصلہ افزائی کی ۔ ان کے والد بشیر راہی بھی معروف فوک گلوکار تھے ۔پرویز مہدی نے 70ء کی دہائی میں ریڈیو پاکستان لاہور کے لیے ایک گیت ''میں جانا پردیس'' گایا جس نے انھیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا ۔ پرویز مہدی کااصلی نام پرویز حسن تھا لیکن شنہشاہ غزل مہدی حسن کی شاگردی اختیار کرنے کے بعد ان کے ساتھ عقیدت کی بناء پر اپنا نام پرویز مہدی رکھ لیا اور اسی نام سے جانے پہچانے جاتے تھے ۔

گلوکار غلام عباس ، آصف مہدی ،ریڈیو اسٹیشن ڈائریکٹر خالد اصغر اور پرویزمہدی ایک ہی روز مہدی حسن کے شاگرد ہوئے تھے ۔ پرویز مہدی بنیادی طور پر غزل گائیک تھے ۔ انھوں نے جہاں اپنے استاد مہدی حسن کے رنگ کو بھی اپنایا وہاں انھوں نے اپنے منفرد انداز گائیکی سے غزل گائیکی کو جلا بخشی ۔ وہ غزل کے علاوہ گیت اور فوک گانے بھی کمال مہارت سے گائے جو آج بھی کانوں میں رس گھولتے ہیں ۔ پرویز مہدی نے ملکہ ترنم نورجہاں کے ساتھ یادگار دوگانا ''تک چن پیا جاندا ای '' اتنی مہارت سے گایا کہ ملکہ ترنم نورجہاں نے ریکارڈنگ کے بعد پرویز مہدی کا ماتھا چوم لیا ۔




پرویز مہدی نے پاکستان کے علاوہ امریکا ، انگلینڈ سمیت تمام یورپی ممالک کے کامیاب ٹور کیے جہاں پر ان کی فنی خدمات کے اعتراف میں اعزازات سے نوازا گیا ۔بھارت کے مقبول پاپ اسٹار دلیر سنگھ پرویزمہدی کو روحانی استاد مانتے تھے اور انھوں نے باقاعدہ شاگردی بھی اختیار کی ۔پرویز مہدی ایسے گلوکار تھے کہ جن کے انڈیا میں بھی سیکڑوں پرستار تھے جو ان کی غزلیں ،گیت شوق سے سنتے تھے ۔ استاد سلامت علیخان مرحوم نے پرویز مہدی کے حوالے سے کہا تھا کہ جتنی خوبصورتی کے ساتھ پرویز مہدی غزل گاتا ہے دوسرا کوئی نہیں گاسکتا۔

ان کے علاوہ ''میں پاگل میرا دل وی پاگل''، ''جاو ے پردیسیا''، ''سات سروں کا بہتا دریا''، ''فاصلے ایسے بھی ہونگے کبھی سوچا بھی نہ تھا '' ، ''میں جانا پردیس''، ''اسے تشبیہ کیا دوں اصرار کی'' جیسے متعدد مشہور گیت گائے جو آج بھی لوگوں میں بے حد مقبول ہیں ۔ پرویز مہدی کی فنی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے ستارہ امیتاز دینے کا اعلان کیا تھا ۔ پرویز مہدی نے پروڈیوسر عفت علوی کے مقبول ریڈیو پروگرام ''میرا فن آپ کے نام '' کے لیے زندگی کا آخری انٹرویو ریکارڈ کروایا تھا۔ و ہ 29اگست 2005ء کو مختصر علالت کے بعد اپنے مالک حقیقی سے جا ملے تھے۔
Load Next Story