حصص مارکیٹ پھر مندی کا شکار 398 پوائنٹس کی کمی
انڈیکس 22523 پر بند، 356 کمپنیوں میں سے 266 کے دام گر گئے
مندی کے سبب75 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی جبکہ سرمایہ کاروں کے87 ارب 70 کروڑ 94 لاکھ29 ہزار196 روپے ڈوب گئے. فوٹو: اے ایف پی/ فائل
لاہور:
کراچی اسٹاک ایکس چینج میں ایک روزہ تیزی کے بعد منگل کو اتار چڑھائو اور مندی کے اثرات دوبارہ غالب رہی جس سے انڈیکس کی 22900 ،22800 ،22700 اور22600 کی 4 حدیں بیک گرگئیں۔
مندی کے سبب75 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی جبکہ سرمایہ کاروں کے87 ارب 70 کروڑ 94 لاکھ29 ہزار196 روپے ڈوب گئے، ٹریڈنگ کے دوران بینکوں ومالیاتی اداروں، میوچل فنڈز اور این بی ایف سیز کی جانب سے مجموعی طور پر 21 لاکھ5 ہزار194 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری سے ابتدائی اوقات میں 140 پوائنٹس کی تیزی سے انڈیکس کی23000 کی نفسیاتی حد بحال ہو گئی تھی لیکن اس دوران غیرملکیوں کی جانب سے4 لاکھ34 ہزار 753 ڈالر، مقامی کمپنیوں کی جانب سے5 لاکھ45 ہزار 850 ڈالر، انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے2 لاکھ 23 ہزار407 ڈالر اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے 9 لاکھ ایک ہزار184 ڈالر مالیت کے سرمائے کے انخلا اور منافع کے حصول پر رحجان غالب ہونے سے تیزی مندی میں تبدیلی ہوگئی۔
نتیجتاً کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس398.53 پوائنٹس کی کمی سے 22523.71 ہو گیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 328.82 پوائنٹس کی کمی سے 17480.23 اور کے ایم آئی 30 انڈیکس 732.44 پوائنٹس کی کمی سے 38666.14 ہو گیا، کاروباری حجم پیر کی نسبت 7.26 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر18 کروڑ75 لاکھ93 ہزار 380 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 356 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں71 کے بھائو میں اضافہ، 266 کے داموں میں کمی اور19 کی قیمتوں میں استحکام رہا
کراچی اسٹاک ایکس چینج میں ایک روزہ تیزی کے بعد منگل کو اتار چڑھائو اور مندی کے اثرات دوبارہ غالب رہی جس سے انڈیکس کی 22900 ،22800 ،22700 اور22600 کی 4 حدیں بیک گرگئیں۔
مندی کے سبب75 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی جبکہ سرمایہ کاروں کے87 ارب 70 کروڑ 94 لاکھ29 ہزار196 روپے ڈوب گئے، ٹریڈنگ کے دوران بینکوں ومالیاتی اداروں، میوچل فنڈز اور این بی ایف سیز کی جانب سے مجموعی طور پر 21 لاکھ5 ہزار194 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری سے ابتدائی اوقات میں 140 پوائنٹس کی تیزی سے انڈیکس کی23000 کی نفسیاتی حد بحال ہو گئی تھی لیکن اس دوران غیرملکیوں کی جانب سے4 لاکھ34 ہزار 753 ڈالر، مقامی کمپنیوں کی جانب سے5 لاکھ45 ہزار 850 ڈالر، انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے2 لاکھ 23 ہزار407 ڈالر اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے 9 لاکھ ایک ہزار184 ڈالر مالیت کے سرمائے کے انخلا اور منافع کے حصول پر رحجان غالب ہونے سے تیزی مندی میں تبدیلی ہوگئی۔
نتیجتاً کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس398.53 پوائنٹس کی کمی سے 22523.71 ہو گیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 328.82 پوائنٹس کی کمی سے 17480.23 اور کے ایم آئی 30 انڈیکس 732.44 پوائنٹس کی کمی سے 38666.14 ہو گیا، کاروباری حجم پیر کی نسبت 7.26 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر18 کروڑ75 لاکھ93 ہزار 380 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 356 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں71 کے بھائو میں اضافہ، 266 کے داموں میں کمی اور19 کی قیمتوں میں استحکام رہا