جناح اسپتال کی منتقلی کیخلاف جاری حکم امتناع میں توسیع

عدالت عالیہ میں انضمام کیخلاف درخواستوں کی سماعت، آئندہ سماعت پر ایڈووکیٹ جنرل حکومت سندھ کا موقف پیش کریں گے

سیمی جمالی اور تسنیم احسن کو عہدوں سے ہٹانے کے خلاف حکم امتناع میں توسیع،اداروں کی منتقلی غیر آئینی ہے، درخواست گزار۔ فوٹو: فائل

سندھ ہائیکورٹ نے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل اسپتال کو سندھ میڈیکل یونیورسٹی میں ضم کرنے اور انتظام صوبائی حکومت کو منتقل کرنے کیخلاف حکم امتناع میں 10 ستمبر تک توسیع کردی۔

جسٹس احمد علی ایم شیخ کی سربراہی میں جسٹس منیب اختر اور جسٹس محمد علی مظہر پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے منگل کو انضمام کیخلاف درخواستوں کی سماعت کی، اس موقع پر درخواست گزاروں کے وکیل انور منصور خان نے دلائل دیے، آئندہ سماعت پر ایڈووکیٹ جنرل حکومتی موقف پیش کریں گے، قبل ازیں حکومت کی جانب سے رضاربانی نے عدالت کو بتایا تھا کہ اٹھارہویں ترمیم کے تحت شعبہ تعلیم اور صحت کو صوبوں کو منتقل کردیا گیا ہے۔




عدالت نے جے پی ایم سی کے شعبہ حادثات کی انچارج ڈاکٹر سیمی جمالی اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر تسنیم احسن کو عہدے سے ہٹانے کے حکم کیخلاف بھی حکم امتناع میں توسیع کردی، ڈاکٹروں کی جانب سے دائر درخواست میں وفاقی و صوبائی وزارتوں اور جے پی ایم سی، قومی ادارہ برائے امراض قلب اور قومی ادارہ برائے صحت اطفال کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا گیا ہے 18 ویں ترمیم کے بعد کہ مذکورہ اداروں کا اختیار صوبائی حکومت کو منتقل کردیا گیا ہے، جناح اسپتال جیسا ادارہ تحقیق و تعلیم کے شعبہ میں اہم کردار ادا کررہا ہے، یہاں سے وفاقی اداروں کے 3 لاکھ ملازمین اور اہل خانہ کو علاج کی سہولت فراہم کی جارہی ہے، مذکورہ اداروں کا انتظام صوبائی حکومت کو منتقل کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے لہٰذا ان اداروں کا اختیار صوبائی حکومت کو منتقل کرنیکا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔
Load Next Story