انسداد ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام کے 12 مراکز میں ادویہ ختم
ہیپاٹائٹس بی اور سی کے 30ہزارمریضوں کی زندگی دوائیں نہ ہونے سے خطرے میں پڑگئیں،پروگرام غیرفعال ہونے کے امکانات بڑھ گئے
ادویہ سپلائی کرنیوالی فرم نے ٹینڈرز کے حوالے سے متعلقہ عدالت میں درخواست دائرکردی ٹینڈرز کا عمل بھی روک دیا گیا ہے، ذرائع۔ فوٹو: فائل
صوبے میں وزیراعلیٰ انسدادہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام میں ہیپاٹائٹس سی میں مبتلا مریضوں کے علاج کی دوائوں کااسٹاک ختم ہوگیا جس کے بعد مریضوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہوگئے اور پروگرام کے غیر فعال ہونے کے امکانات بھی واضح ہوگئے ہیں۔
اس پروگرام کے تحت صوبے بھر میں ہیپاٹائٹس بی اور سی کے رجسٹرڈمریضوںکی تعداد30 ہزاربتائی جاتی ہے،کراچی میں اس پروگرام کے تحت 12 مراکز قائم ہیں جہاں ادویہ ختم ہوگئی ہیں جبکہ سندھ بھرمیں ان مراکز کی تعداد 80 بتائی گئی ہے، ذرائع نے بتایا کہ ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام کیلیے دوائوں کاسالانہ بجٹ ایک ارب روپے جاری کیا جاتا ہے، ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام کے ذرائع کے مطابق ہیپاٹائٹس سی وائرس کے مریضوں کے علاج کیلیے ماہانہ 2 لاکھ انجکشن انٹرفیرون درکارہوتے ہیں جس کا اسٹاک ختم ہوگیا ہے اور حکومت نے رواں مالی سال کے بجٹ کی پہلی سہ ماہی قسط جاری کردی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ سالانہ بجٹ میں ادویہ کی خریداری کیلیے ٹینڈرز جاری کیے گئے تھے،ادویہ سپلائی کرنے والی ایک فرم نے ٹینڈرزکے حوالے سے متعلقہ عدالت میں درخواست دائرکردی جس کی وجہ سے ٹینڈرزکا عمل بھی روک دیا گیا ہے، کنٹرول پروگرام کے ذمے دار افسرکے مطابق کراچی سمیت پورے سندھ کے ہیپا ٹائٹس کے مراکز میں انٹرفیرون انجکشن کا اسٹاک ختم ہوگیا ہے اگر ان مریضوںکو مقررہ وقت پرانٹرفیرون انجکشن فراہم نہیں کیے گئے تو مرض کی پیچیدگیوں میں اضافہ اور مرض شدت اختیار کرسکتا ہے۔
ماہرین طب کا کہنا ہے کہ انٹرفیرون انجکشن ہیپاٹائٹس سی وائرس میں مبتلامریضوں کے علاج میں استعمال کیا جاتا ہے جس کا کورس مکمل کرنا لازمی ہوتا ہے بصورت دیگر مریض کا جگر شدید متاثر ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے مریض لیور سیروسس میں مبتلا ہوجاتا ہے جو جگر کا کینسر کہلاتا ہے۔
اس پروگرام کے تحت صوبے بھر میں ہیپاٹائٹس بی اور سی کے رجسٹرڈمریضوںکی تعداد30 ہزاربتائی جاتی ہے،کراچی میں اس پروگرام کے تحت 12 مراکز قائم ہیں جہاں ادویہ ختم ہوگئی ہیں جبکہ سندھ بھرمیں ان مراکز کی تعداد 80 بتائی گئی ہے، ذرائع نے بتایا کہ ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام کیلیے دوائوں کاسالانہ بجٹ ایک ارب روپے جاری کیا جاتا ہے، ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام کے ذرائع کے مطابق ہیپاٹائٹس سی وائرس کے مریضوں کے علاج کیلیے ماہانہ 2 لاکھ انجکشن انٹرفیرون درکارہوتے ہیں جس کا اسٹاک ختم ہوگیا ہے اور حکومت نے رواں مالی سال کے بجٹ کی پہلی سہ ماہی قسط جاری کردی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ سالانہ بجٹ میں ادویہ کی خریداری کیلیے ٹینڈرز جاری کیے گئے تھے،ادویہ سپلائی کرنے والی ایک فرم نے ٹینڈرزکے حوالے سے متعلقہ عدالت میں درخواست دائرکردی جس کی وجہ سے ٹینڈرزکا عمل بھی روک دیا گیا ہے، کنٹرول پروگرام کے ذمے دار افسرکے مطابق کراچی سمیت پورے سندھ کے ہیپا ٹائٹس کے مراکز میں انٹرفیرون انجکشن کا اسٹاک ختم ہوگیا ہے اگر ان مریضوںکو مقررہ وقت پرانٹرفیرون انجکشن فراہم نہیں کیے گئے تو مرض کی پیچیدگیوں میں اضافہ اور مرض شدت اختیار کرسکتا ہے۔
ماہرین طب کا کہنا ہے کہ انٹرفیرون انجکشن ہیپاٹائٹس سی وائرس میں مبتلامریضوں کے علاج میں استعمال کیا جاتا ہے جس کا کورس مکمل کرنا لازمی ہوتا ہے بصورت دیگر مریض کا جگر شدید متاثر ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے مریض لیور سیروسس میں مبتلا ہوجاتا ہے جو جگر کا کینسر کہلاتا ہے۔