شمالی وزیرستان میں شرپسندوں کا چیک پوسٹ پر حملہ

یہ حملہ مستقبل میں آنے والے خطرات کی گھنٹی بھی ہے جس کا تدارک کیا جانا ضروری ہے۔

یہ حملہ مستقبل میں آنے والے خطرات کی گھنٹی بھی ہے جس کا تدارک کیا جانا ضروری ہے۔ فوٹو: فائل

شمالی وزیرستان کے علاقہ خرقمر چیک پوسٹ پر اتوار کو روز ایک مسلح گروہ نے حملہ کر دیا جس سے 5 اہلکار زخمی ہوگئے جب کہ جوابی فائرنگ سے 3حملہ آور ہلاک اور 10زخمی ہوئے۔

فوج کے محکمہ تعلقات عامہ کے ڈی جی میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ گروہ کے حملے کا مقصد دہشت گردوں کے مشتبہ سہولت کارکو چھڑانے کے لیے دباؤ ڈالنا تھا۔ حملے کے دوران جوانوں نے اشتعال انگیزی کے سامنے انتہائی صبر وتحمل کا مظاہرہ کیا، رکن قومی اسمبلی علی وزیر کو 8ساتھیوں سمیت حراست میں لے لیا گیا جب کہ محسن جاوید داوڑ لوگوں کو اشتعال دلانے کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔زخمیوں کو طبی امداد کے لیے آرمی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

قبائلی علاقوں میں بعض شرپسندوں کی جانب سے سکیورٹی چیک پوسٹ پر حملے کا قابل مذمت واقعہ پہلی بار رونما ہوا ہے جو اس حقیقت کا مظہر ہے کہ چند شرپسند عناصر اپنی مذموم کارروائیوں اور من گھڑت نظریات کے ذریعے لوگوں کو اکسا کر علاقے میں امن و امان کے مسائل پیدا کر رہے ہیں۔یہ حملہ مستقبل میں آنے والے خطرات کی گھنٹی بھی ہے جس کا تدارک کیا جانا ضروری ہے۔

اس واقعے کے پس منظر میں کار فرما قوتوں اور ماسٹر مائنڈ تک پہنچنا ناگزیر ہو چکا ہے تاکہ آیندہ ایسے شرانگیز واقعات کا اعادہ نہ ہو سکے لیکن اب تک کی ملنے والی اطلاعات بہت افسوسناک ہیں جن کے مطابق کچھ مقامی قوتیں بیرونی آشیرباد پر ملکی سلامتی اور بقا کے لیے مسائل پیدا کر رہی ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پی ٹی ایم کے معصوم کارکنوں کو احتیاط کی ضرورت ہے' چند افراد مذموم مقاصد کے لیے انھیں اکسا کر ریاستی اداروں کے خلاف استعمال کر رہے ہیں' بہادر قبائلیوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دیں گے' دہائیوں پر مشتمل قومی جدوجہد کے ثمرات ضایع کرنے کی اجازت نہیں دیں گے' پی ٹی ایم کے سپورٹرز اور ورکرز کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔


وفاقی وزیر فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ کچھ شرپسند عناصر پاکستان کی ترقی کی راہ میں روڑے اٹکانا چاہتے ہیں۔شمالی وزیرستان میں سکیورٹی چیک پوسٹ پر حملے پر ردعمل دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایک جتھے کی جانب سے سکیورٹی چیک پوسٹ پر حملہ انتہائی افسوسناک ہے۔

بڑی قربانیوں کے بعد قبائلی علاقوں میں امن بحال ہوا ہے، وزیراعظم نے قبائلی عوام کے زخموں پر مرہم رکھا، علاقے کی تعمیر و ترقی کے لیے اقدامات ہو رہے تھے، قبائلی عوام کے حقوق کے لیے مثبت پیش رفت کا آغاز ہوا، قبائلی عوام کو قربانیوں کے ثمرات ملنے کا وقت آیا تھا، لیکن کچھ لوگ بین الاقوامی قوتوں کے آلہ کار بن گئے، ریاست کے خلاف مسلسل پروپیگنڈا کر کے لوگوں کو گمراہ کیا جا رہا تھا، ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث افراد کو چھڑانے کی کوشش کی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ قبائلی عوام ملک کی تعمیر و ترقی میں ہراول دستہ بنیں گے، عوام ان گروہوں سے لاتعلقی کا اظہار کر کے پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے اور حکومت کا ایکشن آئین اور قانون کے مطابق ہو گا۔

ان سرحدی علاقوں میں چند شرپسند عناصر کی جانب سے ریاست کے خلاف پروپیگنڈے کی خبریں ایک عرصے سے آ رہی تھیں جس کا ذکر کچھ روز قبل ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے بھی کیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ برائی کو شروع میں ہی دبا دیا جائے تو اسے پنپنے کا موقع نہیں ملتا اگر اس سے صرف نظر کیا جائے تو برائی اس قدر طاقتور ہو جاتی ہے کہ نیکی کی قوتوں کی بقا خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ جب ان قبائلی علاقوں میں شرپسند عناصر کی مذموم کارروائیوں کی اطلاع مل رہی تھی تو پارلیمنٹ اور عوام کو اعتماد میں لے کر ان عناصر کے خلاف فوری کارروائی کیوں نہیں کی گئی' کیوں ان عناصر کو اتنے عرصے تک ڈھیل دی گئی کہ آج وہ آگے بڑھ کر سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں پر حملے کر رہے ہیں۔

شمالی وزیرستان میں آپریشن کر کے دہشت گرد قوتوں کا خاتمہ کر دیا گیا مگر وطن دشمن بیرونی قوتیں یہاں کچھ مقامی عناصر کی مدد سے حقوق کی آڑ میں وہی نظریاتی جنگ لڑ رہی ہیں جو مشرقی پاکستان میں لڑی گئی۔ وطن دشمن قوتیں جان چکی ہیں کہ وہ پاکستانی قوم کو میدان جنگ میں شکست نہیں دے سکتیں، اسے کمزور کرنے کا ایک ہی طریقہ کہ حقوق اور نظریات کی بنا پر پھوٹ ڈال کر قوم کو تقسیم کیا اور ریاست کے خلاف ابھارا جائے۔

ان قوتوں کو شکست دینے کے لیے مقامی علمائے کرام،اکابرین اور دانشور حلقوں کے تعاون سے بڑے محتاط انداز میں عسکری کارروائیوں کے ساتھ ساتھ نظریاتی محاذ پر بھی آپریشن کی ضرورت ہے۔ عوام کو بنیادی ضروریات مہیا کرنا بھی حکومت کی ذمے داری ہے جب عوام کو ان کے حقوق نہیں ملتے تو شرپسند عناصر اس سے فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔
Load Next Story