پانی کا بحران جاری کئی علاقوں میں احتجاج
واٹر بورڈ کی نااہلی سے کورنگی ،ناظم آباد،نارتھ نا ظم آباد،سرجانی ٹاؤن ،گلشن اقبال،گلستان جوہر، نیوکراچی شدید متاثر
نائٹ کرکٹ میچزکھیلنے والے نوجوان قلت آب،بے روزگاری اور بدترین مہنگائی پرسندھ اور وفاقی حکومت کے خلاف نعرے بازی کے بعد میچ شروع کرنے لگے ۔فوٹو :فائل
شہر میں پانی کا بحران مزید سنگین شکل اختیار کر گیا،مختلف علاقوں میں پانی کی فراہمی متاثر ہونے سے شہریوں کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔
کراچی میں 15رمضان کے بعد سے شہر میں پانی کا بحران سنگین صورتحال اختیار کرگیاہے،شہر کے مختلف علاقوں میں پانی کی فراہمی شدید متاثر ہے جس میں کورنگی ، ناظم آباد ، نارتھ ناظم آباد ، سرجانی ٹاؤن ، گلشن اقبال ، گلستان جوہر ،اسکیم33 ، نیوکراچی شدید متاثر ہیں ، واٹر بورڈ محکمہ بلک کے سینئرافسران کی ناقص حکمت عملی کی وجہ سے شہر میں پانی کا بحران سنگین شکل اختیار کرگیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے اسکاؤٹ کالونی گلشن اقبال میں کنڈیوٹ کی لائنوں کو توڑا جارہا ہے جس میں شہری نہارہے ہیں،گزشتہ روز اس لائن میں نو جوان ڈوب کر ہلاک ہوگیا، نوجوان کی لاش برآمد کرنے کے لیے مرکزی لائنوں کو بند کردیا گیا جس کی وجہ سے شہر میں پانی کی مزید کمی ہوگئی،گلشن اقبال سے گزر نے والی لائن کو6 گھنٹے بند رکھا گیا جس کے باعث ضلع وسطی،شرقی اور جنوبی میں پانی کی فراہمی شد ید متاثر رہی ہے۔
شہر میں پانی کی جگہ جگہ چوری کی وجہ سے بھی پانی کے بحران میں شدت آرہی ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی میں پانی کی کمی 60 کر وڑ گیلن ہے اس کمی کو پور ا کر نے کے لیے شہر میں ناغہ سسٹم کے تحت پانی فراہم کیا جاتا ہے لیکن واٹر بورڈ کے بلک کے سینئرافسران کی حکمت عملی کی وجہ سے شہر میں پانی کا بحران مزید سنگین شکل اختیار کرتا جارہا ہے۔
مختلف علاقوں میں نائٹ کرکٹ میچزکھیلنے والے نوجوان قلت آب، بے روزگاری اور بدترین مہنگائی ودیگر مسائل پرسندھ اور وفاقی حکومت کے خلاف نعرے بازی کے بعد میچ شروع کرنے لگے، نوجوانوں کا کہنا ہے کہ جب مسائل حل نہیں کرسکتے تو وزیراعظم بنتے کیوں ہو۔
کراچی میں 15رمضان کے بعد سے شہر میں پانی کا بحران سنگین صورتحال اختیار کرگیاہے،شہر کے مختلف علاقوں میں پانی کی فراہمی شدید متاثر ہے جس میں کورنگی ، ناظم آباد ، نارتھ ناظم آباد ، سرجانی ٹاؤن ، گلشن اقبال ، گلستان جوہر ،اسکیم33 ، نیوکراچی شدید متاثر ہیں ، واٹر بورڈ محکمہ بلک کے سینئرافسران کی ناقص حکمت عملی کی وجہ سے شہر میں پانی کا بحران سنگین شکل اختیار کرگیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے اسکاؤٹ کالونی گلشن اقبال میں کنڈیوٹ کی لائنوں کو توڑا جارہا ہے جس میں شہری نہارہے ہیں،گزشتہ روز اس لائن میں نو جوان ڈوب کر ہلاک ہوگیا، نوجوان کی لاش برآمد کرنے کے لیے مرکزی لائنوں کو بند کردیا گیا جس کی وجہ سے شہر میں پانی کی مزید کمی ہوگئی،گلشن اقبال سے گزر نے والی لائن کو6 گھنٹے بند رکھا گیا جس کے باعث ضلع وسطی،شرقی اور جنوبی میں پانی کی فراہمی شد ید متاثر رہی ہے۔
شہر میں پانی کی جگہ جگہ چوری کی وجہ سے بھی پانی کے بحران میں شدت آرہی ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی میں پانی کی کمی 60 کر وڑ گیلن ہے اس کمی کو پور ا کر نے کے لیے شہر میں ناغہ سسٹم کے تحت پانی فراہم کیا جاتا ہے لیکن واٹر بورڈ کے بلک کے سینئرافسران کی حکمت عملی کی وجہ سے شہر میں پانی کا بحران مزید سنگین شکل اختیار کرتا جارہا ہے۔
مختلف علاقوں میں نائٹ کرکٹ میچزکھیلنے والے نوجوان قلت آب، بے روزگاری اور بدترین مہنگائی ودیگر مسائل پرسندھ اور وفاقی حکومت کے خلاف نعرے بازی کے بعد میچ شروع کرنے لگے، نوجوانوں کا کہنا ہے کہ جب مسائل حل نہیں کرسکتے تو وزیراعظم بنتے کیوں ہو۔