لینڈ مافیا پھر سرگرم کھربوں روپے مالیت کی زمینوں کو خطرات لاحق
الزامات پر عہدے سے ہٹائے گئے ڈی سی ملیرمحمد علی کی تعیناتی کی تیاری
لینڈ مافیا نے اپنے منظور نظر افسران کی اہم عہدوں پر تعیناتی کرانا شروع کردی ہے فوٹو: فائل
طاقتور لینڈ مافیا کا گروہ ایک بار پھر متحرک ہوگیا اور کراچی کی کھربوں روپے مالیت کی زمینوں کو خطرات لاحق ہوگئے۔
لینڈ مافیا کی مبینہ سرپرستی کے سنگین الزامات پر عہدے سے ہٹائے جانے والے ڈپٹی کمشنر ملیر محمد علی شاہ کو ایک بارپھر ڈپٹی کمشنر تعینات کرنے کی تیاریاں کر لی گئیں، پنک ریزیڈنسی، العین ہاؤسنگ پروجیکٹ سمیت دیگرپر بنائے گئے ریفرنسز کوسبوتاژ اور ریکارڈ میں تبدیلی کے لیے اہم عہدوں پر سسٹم سے وابستہ من پسند افسران کی تعیناتیاں شروع کردی گئیں۔
دانش سعید کو ممبر لینڈ یوٹیلائزیشن تعینات کیے جانے پرہاؤسنگ وتعمیرات سے وابستہ افراد سمیت محکمہ بورڈ آف ریونیو کے سینئر افسران میں سخت تشویش کی لہر دوڑ گئی،شجاعت حسین کو ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ملیر،عبدالستار ہکڑو کو اسسٹنٹ کمشنر ایئر پورٹ جبکہ عمران جسکانی کو مختیار کار ایئر پورٹ پہلے ہی تعینات کیا جاچکا ہے۔
باوثوق ذرائع کے مطابق کراچی کی کھربوں روپے مالیت کی زمینوں کو ایک بارپھر انتہائی منظم انداز میں جعل سازی کے ذریعے ٹھکانے لگانے کی تیاریاں شروع کردی گئی ہیں، طاقتور لینڈ مافیا کا سسٹم ایک بارپھر شہر کی قیمتی اراضی ٹھکانے لگانے کیلیے طاقتور لینڈ مافیا نے اپنے منظور نظر افسران کی اہم عہدوں پر تعیناتیاں کرانا شروع کردی ہیں۔
ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ اس سلسلے میں سابق ڈپٹی کمشنر ملیر محمد علی شاہ جن پر لینڈ مافیا کی سرپرستی اور اربوں روپے کی سرکاری ونجی اراضی ٹھکانے لگانے کے الزامات تھے اور ان پر واٹر کمیشن نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں عہدے سے ہٹایا تھا تاہم انہیں ایک مرتبہ پھر ڈپٹی کمشنر تعینات کرنے کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔
لینڈ مافیا کی جانب سے ائیر پورٹ کے اطراف کی قیمتی اراضی ہڑپ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے جس کیلیے محمد علی شاہ کو ڈپٹی کمشنر شرقی لگانے کی کوششیں شروع کردی گئی ہیں،ذرائع کا کہنا ہے کہ پنک ریزیڈنسی اور العین ہاؤسنگ پروجیکٹ کے حوالے سے بنائے گئے ریفرنس کو سبوتاڑ کرنے کے منصوبے پر بھی کام جاری ہے۔
محکمہ بورڈ آف ریونیو کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یونس میمن اور خالد یوسفی نامی افراد جن پر زمینوں پر قبضے کے سنگین الزامات ہیں مذکورہ افراد اس کھیل میں بھرپور انداز سے متحرک بتائے جاتے ہیں اور اس سلسلے میں دانش سعید کو ممبر لینڈ یوٹیلائزیشن کے اہم عہدے سے نوازدیاگیا ہے۔
واضح رہے کہ دانش سعید کا شمار بھی سندھ حکومت کے چہیتے افسران میں کیا جاتا ہے۔
موجودہ صورتحال میں محکمہ بورڈ آف ریونیو اور لینڈ یوٹیلائزیشن کے سینئر افسران نے سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زمینوں کے ریکارڈ میں بڑے پیمانے پر ہیر پھیر کا خطرہ ظاہر کر دیا ہے اور اس سلسلے میں اعلی تحقیقاتی اداروں سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی گئی ہے۔
لینڈ مافیا کی مبینہ سرپرستی کے سنگین الزامات پر عہدے سے ہٹائے جانے والے ڈپٹی کمشنر ملیر محمد علی شاہ کو ایک بارپھر ڈپٹی کمشنر تعینات کرنے کی تیاریاں کر لی گئیں، پنک ریزیڈنسی، العین ہاؤسنگ پروجیکٹ سمیت دیگرپر بنائے گئے ریفرنسز کوسبوتاژ اور ریکارڈ میں تبدیلی کے لیے اہم عہدوں پر سسٹم سے وابستہ من پسند افسران کی تعیناتیاں شروع کردی گئیں۔
دانش سعید کو ممبر لینڈ یوٹیلائزیشن تعینات کیے جانے پرہاؤسنگ وتعمیرات سے وابستہ افراد سمیت محکمہ بورڈ آف ریونیو کے سینئر افسران میں سخت تشویش کی لہر دوڑ گئی،شجاعت حسین کو ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ملیر،عبدالستار ہکڑو کو اسسٹنٹ کمشنر ایئر پورٹ جبکہ عمران جسکانی کو مختیار کار ایئر پورٹ پہلے ہی تعینات کیا جاچکا ہے۔
باوثوق ذرائع کے مطابق کراچی کی کھربوں روپے مالیت کی زمینوں کو ایک بارپھر انتہائی منظم انداز میں جعل سازی کے ذریعے ٹھکانے لگانے کی تیاریاں شروع کردی گئی ہیں، طاقتور لینڈ مافیا کا سسٹم ایک بارپھر شہر کی قیمتی اراضی ٹھکانے لگانے کیلیے طاقتور لینڈ مافیا نے اپنے منظور نظر افسران کی اہم عہدوں پر تعیناتیاں کرانا شروع کردی ہیں۔
ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ اس سلسلے میں سابق ڈپٹی کمشنر ملیر محمد علی شاہ جن پر لینڈ مافیا کی سرپرستی اور اربوں روپے کی سرکاری ونجی اراضی ٹھکانے لگانے کے الزامات تھے اور ان پر واٹر کمیشن نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں عہدے سے ہٹایا تھا تاہم انہیں ایک مرتبہ پھر ڈپٹی کمشنر تعینات کرنے کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔
لینڈ مافیا کی جانب سے ائیر پورٹ کے اطراف کی قیمتی اراضی ہڑپ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے جس کیلیے محمد علی شاہ کو ڈپٹی کمشنر شرقی لگانے کی کوششیں شروع کردی گئی ہیں،ذرائع کا کہنا ہے کہ پنک ریزیڈنسی اور العین ہاؤسنگ پروجیکٹ کے حوالے سے بنائے گئے ریفرنس کو سبوتاڑ کرنے کے منصوبے پر بھی کام جاری ہے۔
محکمہ بورڈ آف ریونیو کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یونس میمن اور خالد یوسفی نامی افراد جن پر زمینوں پر قبضے کے سنگین الزامات ہیں مذکورہ افراد اس کھیل میں بھرپور انداز سے متحرک بتائے جاتے ہیں اور اس سلسلے میں دانش سعید کو ممبر لینڈ یوٹیلائزیشن کے اہم عہدے سے نوازدیاگیا ہے۔
واضح رہے کہ دانش سعید کا شمار بھی سندھ حکومت کے چہیتے افسران میں کیا جاتا ہے۔
موجودہ صورتحال میں محکمہ بورڈ آف ریونیو اور لینڈ یوٹیلائزیشن کے سینئر افسران نے سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زمینوں کے ریکارڈ میں بڑے پیمانے پر ہیر پھیر کا خطرہ ظاہر کر دیا ہے اور اس سلسلے میں اعلی تحقیقاتی اداروں سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی گئی ہے۔