قاری شبیر احمد عثمانی کی نماز جنازہ میں ہزاروں افراد امڈ آئے
جنازہ ان کے بیٹے مولانا طیب عثمانی نے پڑھائی، مدرسہ کے احاطے میں ہی تدفین
مرحوم جامعہ تعلیم القرآن والسنہ منظورکالونی کے بانی و مہتمم تھے، ہزاروں شاگرد ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس
جامعہ تعلیم القرآن والسنہ منظورکالونی کے بانی ومہتمم مولانا قاری شبیر احمد عثمانی کی نماز جنازہ میں ہزاروں افراد امڈ آئے۔
جامعہ تعلیم القران والسنہ کے مہتمم اور تحریک تعمیر انسانیت کے چیئرمین مفتی شبیر احمد عثمانی کی نماز جنازہ گزشتہ روز منظور کالونی گجر چوک کے قریب ادا کردی گئی، نماز جنازہ وصیت کے مطابق ان کے صاحبزادے مولانا محمد طیب عثمانی نے پڑھائی۔
اس موقع پر جمعیت علمائے اسلام خیبرپختونخواہ کے مفتی کفایت اللہ،جے یوآئی صوبہ سندھ کے نائب امیر قاری محمد عثمان، وفاق المدارس کے مولانا ڈاکٹر عادل خان، پیر حافظ عبدالقیوم نعمانی،عالمی مجلس ختم نبوت کے مبلغ مولانا قاضی احسان احمد،مولانا عبدالکریم عابد، مولانا فتح اللہ،سیاسی شخصیات میں عرفان اللہ خان مروت،حافظ زاہد سعید مولانا نورالحق،حافط نعیم الرحمن ،فرحان غنی،دانیال گجر سمیت کثیر تعداد میں علمائے کرام نے شرکت کی۔
نماز جنازہ کے موقع پر اطراف کی گلیوں میں ہزاروں افراد موجود تھے،جنازے کے بعد میت کو جامعہ میں ہی سپرد خاک کردیا گیا،شبیر احمد عثمانی مرحوم ہمیشہ لادین قوتوں کے سامنے ڈٹ کر دین حق کی بات کرنے والے علمائے کرام میں شامل تھے۔
افغان جنگ کے وقت ان علمائے کرام میں شامل تھے جو پاکستان کو اس جنگ کا حصہ نہ بنانے کے حامی تھے جبکہ ہند و بچیوں رنکل کماری کیس میں سب سے پہلے مولانا قاری شبیر احمد عثمانی عدالت پہنچے تھے جس میں انھوں بہت زیادہ دبائو کا سامنا تھا تاہم انھوں نے استقامت کے ساتھ نومسلم بچیوں کا ساتھ دیا تھا،مولانا ہمیشہ اتحاد امت کے علمبردار رہے ہیں اور علاقے میں ان کو تمام مسالک میں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
جامعہ تعلیم القران والسنہ کے مہتمم اور تحریک تعمیر انسانیت کے چیئرمین مفتی شبیر احمد عثمانی کی نماز جنازہ گزشتہ روز منظور کالونی گجر چوک کے قریب ادا کردی گئی، نماز جنازہ وصیت کے مطابق ان کے صاحبزادے مولانا محمد طیب عثمانی نے پڑھائی۔
اس موقع پر جمعیت علمائے اسلام خیبرپختونخواہ کے مفتی کفایت اللہ،جے یوآئی صوبہ سندھ کے نائب امیر قاری محمد عثمان، وفاق المدارس کے مولانا ڈاکٹر عادل خان، پیر حافظ عبدالقیوم نعمانی،عالمی مجلس ختم نبوت کے مبلغ مولانا قاضی احسان احمد،مولانا عبدالکریم عابد، مولانا فتح اللہ،سیاسی شخصیات میں عرفان اللہ خان مروت،حافظ زاہد سعید مولانا نورالحق،حافط نعیم الرحمن ،فرحان غنی،دانیال گجر سمیت کثیر تعداد میں علمائے کرام نے شرکت کی۔
نماز جنازہ کے موقع پر اطراف کی گلیوں میں ہزاروں افراد موجود تھے،جنازے کے بعد میت کو جامعہ میں ہی سپرد خاک کردیا گیا،شبیر احمد عثمانی مرحوم ہمیشہ لادین قوتوں کے سامنے ڈٹ کر دین حق کی بات کرنے والے علمائے کرام میں شامل تھے۔
افغان جنگ کے وقت ان علمائے کرام میں شامل تھے جو پاکستان کو اس جنگ کا حصہ نہ بنانے کے حامی تھے جبکہ ہند و بچیوں رنکل کماری کیس میں سب سے پہلے مولانا قاری شبیر احمد عثمانی عدالت پہنچے تھے جس میں انھوں بہت زیادہ دبائو کا سامنا تھا تاہم انھوں نے استقامت کے ساتھ نومسلم بچیوں کا ساتھ دیا تھا،مولانا ہمیشہ اتحاد امت کے علمبردار رہے ہیں اور علاقے میں ان کو تمام مسالک میں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔