پاکستان اور زمبابوے کے درمیان دوسرا ون ڈے آج کھیلا جائے گا

آج زمبابوے سے ہرارے میں دوسرا ون ڈے، کمزور حریف کے خلاف ایک اور غفلت تاریخی بدنامی کا باعث بن جائے گی

انٹرنیشنل کرکٹ میں کوئی ٹیم کمزور نہیں ہوتی، پہلے میچ میں مضبوط دستہ میدان میں اتار کر بھی ہار گئے، باقی میچز جیتنے کیلیے پوری قوت کا مظاہرہ کرنا ہوگا، مصباح الحق۔ فوٹو: فائل

پاکستان کا آج دوسرے ون ڈے میں زمبابوے سے ایک بارپھر ہرارے میں ٹکراؤ ہوگا، پہلے میچ میں ناکامی کے بعد سیریز گنوانے کے خطرے نے گرین شرٹس کی نیندیں اڑا دیں۔

کمزور حریف کے خلاف ایک اور غفلت تاریخی بدنامی کا باعث بن جائے گی، ناصر جمشید کی فارم پر مینجمنٹ کی تشویش بڑھنے لگی ہے، عبدالرحمان کو حارث سہیل کی جگہ میدان میں اتارا جاسکتا ہے، کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ میں کوئی ٹیم کمزور نہیں ہوتی، ہم مضبوط دستہ میدان میں اتار کر بھی ہار گئے، اب باقی میچز جیتنے کیلیے پوری قوت کا مظاہرہ کرنا ہوگا، دوسری جانب پہلے میچ میں فتح سے میزبان سائیڈ کے حوصلے آسمان کو چھونے لگے،اس کی نگاہیں نئی تاریخ رقم کرنے پر مرکوز ہوچکیں، کپتان برینڈن ٹیلر کا کہنا ہے کہ ہم صرف ایک کامیابی پر ہی اکتفا نہیں کرنا چاہتے، سیریز جیتنے کی پوری کوشش کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق زمبابوے نے پہلے ون ڈے میں 7 وکٹ سے کامیابی حاصل کی، یہ اس کی پاکستان کے خلاف 15 برس بعد پہلی فتح بنی، اب وہ گرین شرٹس کے خلاف سیریز جیت کر نئی تاریخ رقم کرنا چاہتا ہے، مقصد حاصل کرنے کیلیے اسے باقی 2 مقابلوں میں صرف ایک فتح درکار ہو گی،اس سے پہلے زمبابوے نے 12 برس قبل نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز 2-1 سے جیتی تھی۔ایک اور غفلت پاکستان کو بھی تاریخی بدنامی سے دوچار کرسکتی ہے، یہ پہلا موقع ہوگا جب اسے کسی کمزور سائیڈ سے سیریز میں شکست کی رسوائی برداشت کرنا پڑے گی۔

پہلے میچ میں گرین شرٹس بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ تینوں شعبوں میں بہتر کارکردگی نہیں دکھا پائے، ٹاپ آرڈر بیٹنگ لائن بدستور تشویش کا باعث ہے، اس کی سب سے بڑی وجہ اوپنر ناصر جمشید کا مسلسل آؤٹ آف فارم ہونا بنی،انھیں فارم میں واپسی کیلیے مسلسل مواقع دیے جا رہے ہیں مگر بیٹ رنز اگلنے کو تیار ہی دکھائی نہیں دیتا۔




پہلے میچ میں کپتان مصباح الحق نے اعتراف کیا کہ ان سے پچ کا اندازہ لگانے میں غلطی ہوئی مگر ایک اور بڑی کوتاہی صرف 2 فاسٹ بولرز کو کھلانے کی بھی نشاندہی ہو چکی، دوسرے میچ میں حارث سہیل کی جگہ ایک اور اسپنر عبدالرحمان کو میدان میں اتارے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، تیسرے پیسرکو بھی کھلائے جانے کا امکان رد نہیں کیا جاسکتا۔ زمبابوین ٹیم کی پوزیشن دیکھتے ہوئے اس سیریز میں زیادہ نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دینے کا مطالبہ کیا گیا جس نے مصباح الحق کو بھڑکا بھی دیا تھا، اب ناکامی کے بعد انھیں اپنی دلیل کو درست ثابت کرنے کا موقع مل گیا۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان میں لوگ سمجھتے تھے کہ ہم یہ میچز آسانی سے جیت جائیں گے اس لیے نئے کھلاڑیوں کو موقع دینا چاہیے مگر میرے خیال میں ہمیں یہ سوچ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، ہم نے مضبوط ٹیم میدان میں اتاری پھر بھی ہار گئے، انٹرنیشنل کرکٹ میں سب ٹیمیں ہی بہترین ہوتی اور ان کے خلاف 100 فیصد کھیل پیش کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، بصورت دیگر آپ نے معمولی سی غلطی کی اور اس طرح کے اپ سیٹس کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، اب ہمیں مضبوط کم بیک کرتے ہوئے باقی میچز جیتنے کی کوشش کرنا ہوگی۔

دوسری جانب زمبابوے کی نگاہیں اب سیریز کامیابی پر مرکوز ہیں،پلیئنگ الیون میں تبدیلی کا کوئی امکان نہیں ہے، کپتان برینڈن ٹیلر نے کہا کہ ہم نے اس سیریز کیلیے کافی محنت کی، یہ صرف ایک کامیابی ہے ہم سہل پسندی کا مظاہرہ نہیں کرسکتے، ہمیں مزید فتوحات کی ضرورت ہے۔ کوچ اینڈی والر نے کا کہا کہ پہلے میچ میں کھلاڑیوں نے گیم پلان پر مکمل عملدرآمد کیا، دوسرے مقابلے میں ہم زیادہ بہتر فیلڈنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیریز جیتنے کی پوری کوشش کریں گے۔
Load Next Story