انٹر بینک میں ڈالر پہلی بار 104 روپے کا ہوگیا
اوپن مارکیٹ میں قدرے بہتری،ڈالرکے مقابل روپے کی قدر104.50کی سطح پر رہی
آئی ایم ایف شرائط کیلیے ڈالر 105روپے کا کرنے کی کوشش ہے، مہنگائی بڑھے گی، ہارون اگر فوٹو: اے ایف پی/ فائل
FAISALABAD:
ملک میں زرمبادلہ کی آمد گھٹنے اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کو قرضوں کی واپسی نے بدھ کوانٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالرکو 104 روپے کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچادیا ہے جبکہ ڈالر کے 6 ماہ کے پیشگی سودے بھی 107 روپے میں کیے جارہے ہیں۔
بدھ کوقدر میں اضافے کے بعد انٹربینک مارکیٹ میں گزشتہ 15 یوم کے دوران روپے کی نسبت امریکی ڈالر کی قدر میں مجموعی طور پر 1.20 روپے کا اضافہ ہو۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ 6 ماہ کے لیے فی ڈالر 107 روپے کے حساب سے پیشگی سودوں سے مستقبل کی سمت واضح ہوتی جارہی ہے جس سے اس امر کی نشاندہی ہورہی ہے کہ آنے والے دنوں میں مہنگائی مزید بڑھے گی تاہم حکومت کی محصولات کی وصولیوں کا حجم بھی بڑھے گا۔
اس ضمن میں کراچی چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ہارون اگر نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ برآمدات پر 6 ماہ کی فارورڈ بکنگ 107 روپے اور درآمدات کے لیے پیشگی سودے 107.40 روپے فی ڈالر کے حساب سے کیے جارہے ہیںجو خوفناک صورتحال کا پیش خیمہ ہے، یوں محسوس ہوتا ہے کہ حکومتی سطح پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی شرائط کو پورا کرنے کے لیے امریکی ڈالر کی قدر کو105 روپے کی سطح تک پہنچانے کی کوششیں کی جارہی ہیں لیکن یہ پالیسی اختیار کرنے سے مہنگائی میں خوفناک اضافہ ہوگا اور پاکستانی روپے کی قدر مزید تنزلی کا شکار ہوجائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ ڈالر کی قدر بڑھنے سے برآمدی آمدنی میں تو اضافہ ہوگا لیکن درآمدی لاگت بڑھنے کے نقصانات اس سے کہیں زیادہ ہوں گے، پاکستان میں صنعتی وکاروباری لاگت مزید بڑھ جائے گی۔ دوسری جانب اینٹی منی لانڈرنگ کے ترمیمی سرکلر میں تبدیلی کے بعد اوپن کرنسی مارکیٹ میں بدھ کو صورتحال قدرے بہتر رہی جہاں ڈالر کی قیمت 104.50 روپے ہے۔
ملک میں زرمبادلہ کی آمد گھٹنے اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کو قرضوں کی واپسی نے بدھ کوانٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالرکو 104 روپے کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچادیا ہے جبکہ ڈالر کے 6 ماہ کے پیشگی سودے بھی 107 روپے میں کیے جارہے ہیں۔
بدھ کوقدر میں اضافے کے بعد انٹربینک مارکیٹ میں گزشتہ 15 یوم کے دوران روپے کی نسبت امریکی ڈالر کی قدر میں مجموعی طور پر 1.20 روپے کا اضافہ ہو۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ 6 ماہ کے لیے فی ڈالر 107 روپے کے حساب سے پیشگی سودوں سے مستقبل کی سمت واضح ہوتی جارہی ہے جس سے اس امر کی نشاندہی ہورہی ہے کہ آنے والے دنوں میں مہنگائی مزید بڑھے گی تاہم حکومت کی محصولات کی وصولیوں کا حجم بھی بڑھے گا۔
اس ضمن میں کراچی چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ہارون اگر نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ برآمدات پر 6 ماہ کی فارورڈ بکنگ 107 روپے اور درآمدات کے لیے پیشگی سودے 107.40 روپے فی ڈالر کے حساب سے کیے جارہے ہیںجو خوفناک صورتحال کا پیش خیمہ ہے، یوں محسوس ہوتا ہے کہ حکومتی سطح پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی شرائط کو پورا کرنے کے لیے امریکی ڈالر کی قدر کو105 روپے کی سطح تک پہنچانے کی کوششیں کی جارہی ہیں لیکن یہ پالیسی اختیار کرنے سے مہنگائی میں خوفناک اضافہ ہوگا اور پاکستانی روپے کی قدر مزید تنزلی کا شکار ہوجائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ ڈالر کی قدر بڑھنے سے برآمدی آمدنی میں تو اضافہ ہوگا لیکن درآمدی لاگت بڑھنے کے نقصانات اس سے کہیں زیادہ ہوں گے، پاکستان میں صنعتی وکاروباری لاگت مزید بڑھ جائے گی۔ دوسری جانب اینٹی منی لانڈرنگ کے ترمیمی سرکلر میں تبدیلی کے بعد اوپن کرنسی مارکیٹ میں بدھ کو صورتحال قدرے بہتر رہی جہاں ڈالر کی قیمت 104.50 روپے ہے۔