ایڈز سندھ حکومت کے لیے ٹیسٹ کیس
امید کی جانی چاہیے کہ وفاق و سندھ کے ماہرین صحت میں ایڈز کے انسداد کے لیے تعاون کا نیٹ ورک جلد قائم ہو گا۔
امید کی جانی چاہیے کہ وفاق و سندھ کے ماہرین صحت میں ایڈز کے انسداد کے لیے تعاون کا نیٹ ورک جلد قائم ہو گا۔ فوٹو : فائل
لاڑکانہ کے تعلقہ رتو ڈیرو میں ایچ آئی وی خوفناک صورت اختیارکر رہا ہے۔ ایک ویک اپ کال کی ضرورت ہے۔ اطلاعات کے مطابق لاڑکانہ میں مزید 17 افراد میں ایچ آئی وی وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، 835 افراد کی اسکریننگ سے 575 بچوں سمیت 698 افراد وائرس سے متاثرہ نکلے، نوشہرو اسپتال میں 92 افراد کی اسکریننگ ہوئی۔ ادھر ماہرین صحت نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر صوبائی حکومت نے بیماری کے پھیلاؤ کی روک تھام میں غفلت برتی تو انسانی صحت کے لیے خطرات بڑھ جائیں گے۔
ادھر میڈیا نے سندھ حکومت کے طرز عمل پر سوالات اٹھادیئے ہیں، بتایا جاتا کہ رتو ڈیرو تعلقہ میں 23 ہزار افراد کے ٹیسٹ کیے گئے ان میں 681 افراد میں ایچ آئی وی پازٹیوکی تصدیق کی گئی ہے جن میں 558 بچے بھی شامل ہیں جب کہ70 خواتین سمیت 123 معمر افراد ہیں، سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اب تک کی جانے والی اسکریننگ میں 80 فیصد بچے اس وائرس کا شکار ہو گئے۔ ان میں سے55 فیصد بچے ایسے ہیں جن کی عمریں ایک سے 5 سال کے درمیان ہیں، ان میں سے18 فیصد بچے ایسے ہیں جن کی عمریں ایک سال سے بھی کم ہیں۔
خواتین میں اس وائرس کی شرح 60 فیصد رپورٹ ہوئی ہے ، دنیا کا پہلا واقعہ ہے کہ لاڑکانہ کے شہر رتو ڈیرو میں بچوں میں ایچ آئی وی کا سب سے بڑا آؤٹ بریک سامنے آ رہا ہے جب کہ مزید تین تعلقے باقی ہیں جہاں اسکریننگ کا عمل شروع نہیں کیا گیا۔ عالمی ادارے پریشان ہیں، حکومت سندھ نے اس وبائی صورتحال سے نکلنے اور قابو پانے کے لیے تاحال کوئی حکمت عملی وضح نہیں کی ۔ قومی ادارہ صحت برائے اطفالNiCH کے سربراہ و ماہرین صحت نے بتایا کہ رتو ڈیرو کی آبادی3 لاکھ31 ہزار ہے، ابھی تک 7 فیصد آبادی کے ایچ آئی وی ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔37 سالہ تاریخ میں افریقہ ، انڈیا ، تھائی لینڈ سمیت دیگر ممالک میں بچوں میں ایچ آئی وی کا اتنا بڑا آؤٹ بریک نہیں ہوا ہے۔
سندھ میں ایڈز نے متعدد شہروں کو متاثر کیا ہے۔ تاہم ایک اطلاع کے مطابق معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو کو ایڈز کے مرض پر قابو پانے اور متاثرین کی جلد صحت یابی کے لیے وفاقی حکومت کے تعاون کا یقین دلایا ہے۔
ظفر مرزا نے یہ بھی یقین دلایا کہ ماہرین صحت نے سندھ ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کو خدمات پیش کرنے کا اعلان کیا ہے، انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت وزارت صحت کو 3 ایڈز ٹریٹمنٹ سینٹر کے قیام میں میں مدد دے گی ، یہ سینٹرز نواب شاہ، میرپور خاص اور عباسی اسپتال حیدر آباد میں قائم کیے جائیں گے۔ امید کی جانی چاہیے کہ وفاق و سندھ کے ماہرین صحت میں ایڈز کے انسداد کے لیے تعاون کا نیٹ ورک جلد قائم ہو گا تا کہ غریب مریضوں کی جانیں بچائی جا سکیں جن میں بہت بڑی تعداد معصوم بچوں کی ہے۔ ماہرین کی ٹیم کراچی پہنچ چکی ہے۔ بلاشبہ سندھ حکومت لیے ایڈز وائرس ٹیسٹ کیس ہو گا۔
ادھر میڈیا نے سندھ حکومت کے طرز عمل پر سوالات اٹھادیئے ہیں، بتایا جاتا کہ رتو ڈیرو تعلقہ میں 23 ہزار افراد کے ٹیسٹ کیے گئے ان میں 681 افراد میں ایچ آئی وی پازٹیوکی تصدیق کی گئی ہے جن میں 558 بچے بھی شامل ہیں جب کہ70 خواتین سمیت 123 معمر افراد ہیں، سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اب تک کی جانے والی اسکریننگ میں 80 فیصد بچے اس وائرس کا شکار ہو گئے۔ ان میں سے55 فیصد بچے ایسے ہیں جن کی عمریں ایک سے 5 سال کے درمیان ہیں، ان میں سے18 فیصد بچے ایسے ہیں جن کی عمریں ایک سال سے بھی کم ہیں۔
خواتین میں اس وائرس کی شرح 60 فیصد رپورٹ ہوئی ہے ، دنیا کا پہلا واقعہ ہے کہ لاڑکانہ کے شہر رتو ڈیرو میں بچوں میں ایچ آئی وی کا سب سے بڑا آؤٹ بریک سامنے آ رہا ہے جب کہ مزید تین تعلقے باقی ہیں جہاں اسکریننگ کا عمل شروع نہیں کیا گیا۔ عالمی ادارے پریشان ہیں، حکومت سندھ نے اس وبائی صورتحال سے نکلنے اور قابو پانے کے لیے تاحال کوئی حکمت عملی وضح نہیں کی ۔ قومی ادارہ صحت برائے اطفالNiCH کے سربراہ و ماہرین صحت نے بتایا کہ رتو ڈیرو کی آبادی3 لاکھ31 ہزار ہے، ابھی تک 7 فیصد آبادی کے ایچ آئی وی ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔37 سالہ تاریخ میں افریقہ ، انڈیا ، تھائی لینڈ سمیت دیگر ممالک میں بچوں میں ایچ آئی وی کا اتنا بڑا آؤٹ بریک نہیں ہوا ہے۔
سندھ میں ایڈز نے متعدد شہروں کو متاثر کیا ہے۔ تاہم ایک اطلاع کے مطابق معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو کو ایڈز کے مرض پر قابو پانے اور متاثرین کی جلد صحت یابی کے لیے وفاقی حکومت کے تعاون کا یقین دلایا ہے۔
ظفر مرزا نے یہ بھی یقین دلایا کہ ماہرین صحت نے سندھ ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کو خدمات پیش کرنے کا اعلان کیا ہے، انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت وزارت صحت کو 3 ایڈز ٹریٹمنٹ سینٹر کے قیام میں میں مدد دے گی ، یہ سینٹرز نواب شاہ، میرپور خاص اور عباسی اسپتال حیدر آباد میں قائم کیے جائیں گے۔ امید کی جانی چاہیے کہ وفاق و سندھ کے ماہرین صحت میں ایڈز کے انسداد کے لیے تعاون کا نیٹ ورک جلد قائم ہو گا تا کہ غریب مریضوں کی جانیں بچائی جا سکیں جن میں بہت بڑی تعداد معصوم بچوں کی ہے۔ ماہرین کی ٹیم کراچی پہنچ چکی ہے۔ بلاشبہ سندھ حکومت لیے ایڈز وائرس ٹیسٹ کیس ہو گا۔