ویڈیو لنک کے ذریعے مقدمات کی سماعت
یہ چیف جسٹس کا کریڈٹ ہے کہ وہ مقدمات کے فیصلوں میں برسوں ہونیوالی تاخیر اور رکاوٹوں کو دور کرنا چاہتے ہیں۔
یہ چیف جسٹس کا کریڈٹ ہے کہ وہ مقدمات کے فیصلوں میں برسوں ہونیوالی تاخیر اور رکاوٹوں کو دور کرنا چاہتے ہیں۔ فوٹو:فائل
SYDNEY, AUSTRALIA:
چیف جسٹس جناب آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے اسلام آباد میں بیٹھ کر وڈیو لنک کے ذریعے کراچی رجسٹری میں مقدمات کی سماعت کی۔ بلاشبہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں یہ انقلابی قدم ہے، ای کورٹ سے کم خرچ میں فوری انصاف ممکن ہو سکے گا۔
یہ چیف جسٹس کا کریڈٹ ہے کہ وہ مقدمات کے فیصلوں میں برسوں ہونیوالی تاخیر اور رکاوٹوں کو دور کرنا چاہتے ہیں۔ چند روز پیشتر انھوں نے اسلام آباد میں فوری انصاف کی فراہمی سے متعلق کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ''بدقسمتی سے انصاف کا شعبہ پارلیمنٹ کی ترجیحات میں نہیں، لہٰذا پارلیمنٹ اور انتظامیہ کو بھی عدلیہ کی طرح انصاف کے شعبے میں بہتری کی ذمے داری لینا ہو گی'' انھوں نے مثال دیتے ہوئے کہا تھا کہ برطانیہ اور دیگر ملکوں میں مقدمے کے فیصلوں کے لیے وقت مقرر کیا جاتا ہے۔
امریکا اور برطانیہ کی سپریم کورٹ سال میں 100 مقدمات کے فیصلے کرتی ہیں۔ پاکستان کی عدلیہ کے 3 ہزار ججز نے گزشتہ سال 34 لاکھ مقدمات کے فیصلے کیے ہیں، ماڈل کورٹس کے قیام کا مقصد فوری اور سستے انصاف کی فراہمی تھا۔
معروف مثل ہے کہ '' انصاف میں تاخیر کا مطلب انصاف سے انکار ہے'' یہ مثل جتنی اہل پاکستان پر حرف بہ حرف صادق آتی ہے، شاید کسی اور ملک اور قوم پر نہیں۔ کیونکہ جس طرح ایک عام پاکستانی حصول انصاف کے لیے در بدر ہوتا ہے، ٹھوکریں کھاتا ہے، عدالت مقدمے کی تاریخ پر تاریخ دیتی رہتی ہے اور وکیلوں کی فیسیں ادا کرتے کرتے، سائل کے تن کے کپڑے بھی بک جاتے ہیں لیکن اسے انصاف نہیں ملتا ، اگر ہم بات کرتے ہیں مقدمات میں تاخیر کی تو اس کی پوری ذمے داری عدلیہ پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ اس میں وکلا، ہمارا نظام، پولیس ہم سب برابر کے ذمے دار ہیں، وکیلوں کے لیے بھی چیک اینڈ بیلنس کا نظام ہونا چاہیے۔
اسی طرح جوڈیشری خاص طور پر لوئر جوڈیشری میں تعینات ہونے والے ججز کی تربیت مکمل نہیں ہوتی، ان پر اوپر سے نیچے تک کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے۔ مقدمات کو جلد از جلد نمٹانے کے لیے ججز کو بہتر ماحول فراہم کیا جائے۔ ہمارے ہاں ججز کی تعداد کم ہے، حکومتیں غیر ذمے داری کا مظاہرہ کرتی ہیں جس کی وجہ سے بوجھ بڑھتا ہے، اگر حکومتی ادارے اپنے فرائض باقاعدہ سرانجام دیں تو بہت سے کیس عدالتوں میں نہ جائیں، بلکہ وہ محکموں ہی میں حل ہو جائیں۔ جہاں تک جدید سائنسی آلات کے استعمال کا معاملہ ہے، یہ بہت مفید ہے۔
ہماری عدالتوں میں ویڈیو لنک کے ذریعے دہشت گردی کے مقدمات یا ایسے کیسز جس کے ملزم کسی اور کیس میں کسی دوسری جیل میں ہوں، وہاں سے ویڈیو لنک کے ذریعے خصوصی عدالتوں میں مقدمات چلتے ہیں، لیکن ابھی اس عمل کو زیادہ موثر نہیں بنایا گیا، اس لیے پراسس میں دیر ہو جاتی ہے۔ اگر حکومت ان کا سسٹم مناسب انداز میں چلائے تو یہ ایک بہترین ذریعہ ہو سکتا ہے۔
ڈی این اے ایک بہت موثر ذریعہ شہادت ہے لیکن ہمارے ملک میں ڈی این اے کی تشخیص اور اس کے باقی پراسس کے لیے اچھی لیبارٹریز نہیں ہیں۔ حکومت پنجاب نے بھی ایک فرانزک ٹیسٹ لیبارٹری بنائی ہے، اس کے علاوہ کوئی بہت اچھی لیبارٹریز نہیں ہیں۔ نتیجتاً ڈی این اے رپورٹس کی بنا پر جو مدد ملنی چاہیے تھے، وہ نہیں مل رہی۔
اگر حکومت توجہ دے تو یہ ایک بڑی مدد ہوگی، جیسے اس مذکورہ بالا مقدمے کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ ای کورٹ سسٹم سے صرف ایک روز میں سائلین کے بیس سے پچیس لاکھ بچ گئے، وکلا بزنس کلاس میں سفر کرتے اور فائیو اسٹار ہوٹلوں میں رہتے ہیں جب کہ سائلین کے خرچ پر وکلا اسلام آباد میں کھانے بھی کھاتے ہیں، سستا اور فوری انصاف فراہم کرنا آئینی ذمے داری ہے جسے پوری کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انتہائی صائب خیالات کی روشنی میں دیکھا جائے تو وکلا حضرات کو بھی توجہ دینی چاہیے کہ وہ عدالتی نظام کو فعال بنانے میں آئے دن کی ہڑتالوں سے اجتناب کریں اور مقدمات میں تاریخ پر تاریخ لینے کی علت جو صرف پاکستان میں رائج ہے اس کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ہماری وکلا برادری میں اب جو سب سے بڑی خرابی پیدا ہو رہی ہے وہ یہ ہے کہ جو کچھ نہیں کر سکتا وہ آ کر وکیل بن جاتا ہے اور ایسے وکلا کی وجہ سے مقدمات تاخیر کا شکار ہوتے ہیں۔
انویسٹی گیشن والے بھی دیر کرتے ہیں ، پراسیکیویشن والے بھی دیر کرتے ہیں، پھر دفاع کرنے والے بھی تاریخیں لیتے رہتے ہیں۔ یعنی آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ برطانوی وزیراعظم ونسٹن چرچل نے ٹھیک ہی کہا تھا کہ '' اگر ہماری عدالتیں انصاف کر رہی ہیںِ، تو ہمیں پریشان نہیں ہونا چاہیے، ہم سرخرو ہوں گے۔ دنیا فراہمی انصاف کے اس اصول کے گرد گھوم رہی ہے کہ انصاف میں تاخیر انصاف کا قتل ہے۔ '' انصاف ہونا چاہیے چاہے آسمان ٹوٹ پڑے۔ ملک میں سستے اور جلد انصاف کی فراہمی کے لیے ای کورٹ سسٹم کا دائرہ پورے پاکستان پر پھیلانے کی ضرورت ہے۔
چیف جسٹس جناب آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے اسلام آباد میں بیٹھ کر وڈیو لنک کے ذریعے کراچی رجسٹری میں مقدمات کی سماعت کی۔ بلاشبہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں یہ انقلابی قدم ہے، ای کورٹ سے کم خرچ میں فوری انصاف ممکن ہو سکے گا۔
یہ چیف جسٹس کا کریڈٹ ہے کہ وہ مقدمات کے فیصلوں میں برسوں ہونیوالی تاخیر اور رکاوٹوں کو دور کرنا چاہتے ہیں۔ چند روز پیشتر انھوں نے اسلام آباد میں فوری انصاف کی فراہمی سے متعلق کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ''بدقسمتی سے انصاف کا شعبہ پارلیمنٹ کی ترجیحات میں نہیں، لہٰذا پارلیمنٹ اور انتظامیہ کو بھی عدلیہ کی طرح انصاف کے شعبے میں بہتری کی ذمے داری لینا ہو گی'' انھوں نے مثال دیتے ہوئے کہا تھا کہ برطانیہ اور دیگر ملکوں میں مقدمے کے فیصلوں کے لیے وقت مقرر کیا جاتا ہے۔
امریکا اور برطانیہ کی سپریم کورٹ سال میں 100 مقدمات کے فیصلے کرتی ہیں۔ پاکستان کی عدلیہ کے 3 ہزار ججز نے گزشتہ سال 34 لاکھ مقدمات کے فیصلے کیے ہیں، ماڈل کورٹس کے قیام کا مقصد فوری اور سستے انصاف کی فراہمی تھا۔
معروف مثل ہے کہ '' انصاف میں تاخیر کا مطلب انصاف سے انکار ہے'' یہ مثل جتنی اہل پاکستان پر حرف بہ حرف صادق آتی ہے، شاید کسی اور ملک اور قوم پر نہیں۔ کیونکہ جس طرح ایک عام پاکستانی حصول انصاف کے لیے در بدر ہوتا ہے، ٹھوکریں کھاتا ہے، عدالت مقدمے کی تاریخ پر تاریخ دیتی رہتی ہے اور وکیلوں کی فیسیں ادا کرتے کرتے، سائل کے تن کے کپڑے بھی بک جاتے ہیں لیکن اسے انصاف نہیں ملتا ، اگر ہم بات کرتے ہیں مقدمات میں تاخیر کی تو اس کی پوری ذمے داری عدلیہ پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ اس میں وکلا، ہمارا نظام، پولیس ہم سب برابر کے ذمے دار ہیں، وکیلوں کے لیے بھی چیک اینڈ بیلنس کا نظام ہونا چاہیے۔
اسی طرح جوڈیشری خاص طور پر لوئر جوڈیشری میں تعینات ہونے والے ججز کی تربیت مکمل نہیں ہوتی، ان پر اوپر سے نیچے تک کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے۔ مقدمات کو جلد از جلد نمٹانے کے لیے ججز کو بہتر ماحول فراہم کیا جائے۔ ہمارے ہاں ججز کی تعداد کم ہے، حکومتیں غیر ذمے داری کا مظاہرہ کرتی ہیں جس کی وجہ سے بوجھ بڑھتا ہے، اگر حکومتی ادارے اپنے فرائض باقاعدہ سرانجام دیں تو بہت سے کیس عدالتوں میں نہ جائیں، بلکہ وہ محکموں ہی میں حل ہو جائیں۔ جہاں تک جدید سائنسی آلات کے استعمال کا معاملہ ہے، یہ بہت مفید ہے۔
ہماری عدالتوں میں ویڈیو لنک کے ذریعے دہشت گردی کے مقدمات یا ایسے کیسز جس کے ملزم کسی اور کیس میں کسی دوسری جیل میں ہوں، وہاں سے ویڈیو لنک کے ذریعے خصوصی عدالتوں میں مقدمات چلتے ہیں، لیکن ابھی اس عمل کو زیادہ موثر نہیں بنایا گیا، اس لیے پراسس میں دیر ہو جاتی ہے۔ اگر حکومت ان کا سسٹم مناسب انداز میں چلائے تو یہ ایک بہترین ذریعہ ہو سکتا ہے۔
ڈی این اے ایک بہت موثر ذریعہ شہادت ہے لیکن ہمارے ملک میں ڈی این اے کی تشخیص اور اس کے باقی پراسس کے لیے اچھی لیبارٹریز نہیں ہیں۔ حکومت پنجاب نے بھی ایک فرانزک ٹیسٹ لیبارٹری بنائی ہے، اس کے علاوہ کوئی بہت اچھی لیبارٹریز نہیں ہیں۔ نتیجتاً ڈی این اے رپورٹس کی بنا پر جو مدد ملنی چاہیے تھے، وہ نہیں مل رہی۔
اگر حکومت توجہ دے تو یہ ایک بڑی مدد ہوگی، جیسے اس مذکورہ بالا مقدمے کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ ای کورٹ سسٹم سے صرف ایک روز میں سائلین کے بیس سے پچیس لاکھ بچ گئے، وکلا بزنس کلاس میں سفر کرتے اور فائیو اسٹار ہوٹلوں میں رہتے ہیں جب کہ سائلین کے خرچ پر وکلا اسلام آباد میں کھانے بھی کھاتے ہیں، سستا اور فوری انصاف فراہم کرنا آئینی ذمے داری ہے جسے پوری کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انتہائی صائب خیالات کی روشنی میں دیکھا جائے تو وکلا حضرات کو بھی توجہ دینی چاہیے کہ وہ عدالتی نظام کو فعال بنانے میں آئے دن کی ہڑتالوں سے اجتناب کریں اور مقدمات میں تاریخ پر تاریخ لینے کی علت جو صرف پاکستان میں رائج ہے اس کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ہماری وکلا برادری میں اب جو سب سے بڑی خرابی پیدا ہو رہی ہے وہ یہ ہے کہ جو کچھ نہیں کر سکتا وہ آ کر وکیل بن جاتا ہے اور ایسے وکلا کی وجہ سے مقدمات تاخیر کا شکار ہوتے ہیں۔
انویسٹی گیشن والے بھی دیر کرتے ہیں ، پراسیکیویشن والے بھی دیر کرتے ہیں، پھر دفاع کرنے والے بھی تاریخیں لیتے رہتے ہیں۔ یعنی آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ برطانوی وزیراعظم ونسٹن چرچل نے ٹھیک ہی کہا تھا کہ '' اگر ہماری عدالتیں انصاف کر رہی ہیںِ، تو ہمیں پریشان نہیں ہونا چاہیے، ہم سرخرو ہوں گے۔ دنیا فراہمی انصاف کے اس اصول کے گرد گھوم رہی ہے کہ انصاف میں تاخیر انصاف کا قتل ہے۔ '' انصاف ہونا چاہیے چاہے آسمان ٹوٹ پڑے۔ ملک میں سستے اور جلد انصاف کی فراہمی کے لیے ای کورٹ سسٹم کا دائرہ پورے پاکستان پر پھیلانے کی ضرورت ہے۔