قمری کیلنڈر
علماء کا کہنا ہے کہ از خود چاند کی رویت شرعی لحاظ سے صحیح نہیں ہو گی، چاند کو دیکھنا شرط ہے۔
علماء کا کہنا ہے کہ از خود چاند کی رویت شرعی لحاظ سے صحیح نہیں ہو گی، چاند کو دیکھنا شرط ہے۔ فوٹو فائل
عید الفطر کو باقی چند دن رہ گئے لیکن چاند دیکھنے کی شرعی حیثیت و رویت ہلال کی روایت کو سامنا ہے سائنس و ٹیکنالوجی کی مدد سے قمری کیلنڈر کی تیاری کا جس کا وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے سرکاری طور پر گزشتہ دنوں افتتاح کیا ہے، ایک انگریزی معاصر اخبار کے مطابق اس قمری یا ہجری کیلنڈر کی سائنس و ٹیکنالوجی کی بنیاد پر تیاری کا نتیجہ بدیہی طور پر یہی سامنے آیا ہے کہ حکومت نے عید الفطر5 جون کو ہوگی۔
تاہم اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا ہے کہ قمری کیلنڈر کی شرعی حیثیت کا فیصلہ عید کے بعد ہو گا ، قمری کیلنڈر غور طلب معاملہ ہے، علماء کی رائے کے بغیر حتمی رائے نہیں دے سکتے، ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا قمری کیلنڈر اپنی جگہ لیکن عید اور روزے کے لیے رویت ضروری ہے، تاہم شعبہ تحقیق اور علماء کی رائے کے باعث عید سے پہلے فیصلہ ممکن نہیں، واضح رہے قبلہ ایاز نے وضاحت کی کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے قمری کیلنڈر کو مسترد نہیں کیا، قمری کیلنڈر پر علماء کرام کی رائے کے لیے عید کے بعد اجلاس بلایا جائے گا۔
علماء کا کہنا ہے کہ از خود چاند کی رویت شرعی لحاظ سے صحیح نہیں ہو گی، چاند کو دیکھنا شرط ہے۔ بلاشبہ رویت ہلال کا مسئلہ پوری قوم کے لیے ایک حساس معاملہ ہے جس پر کسی قسم کے تنازع کی گنجائش نہیں، 22 کروڑ عوام بھی اس کے متحمل نہیں ہو سکتے ۔ وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کے بیان پر علماء کرام کا رد عمل بھی سامنے آیا ہے، وزیر سائنس و ٹیکنالوجی کے مطابق قمری کیلنڈر کے بعد رویت ہلال کمیٹی کی ضرورت نہیں ہے ، ادھر اس سائنسی کیلنڈر کی تیاری یا اس پر عملدرآمد کے ضمن میں متعدد مسلمان ملکوں کا حوالہ بھی دیا جاتا ہے.
تاہم فہمیدہ اسکالرز، علماء اور جید مفتیان دین کی صائب رائے اور کیلنڈر کی ترتیب میں سائنسی ماہرین کی آرا پر بھی کسی نتیجہ پر پہنچا جا سکتا ہے، چونکہ چاند دیکھنے کی شرعی روایت برس ہا برس سے ملک میں موجود ہے اس لیے میڈیا کی جانب سے اس سنجیدہ رائے کو بھی زیر غور لایا جانا چاہیے کہ ایک کمیٹی ایسی تشکیل پائے جس میں علما اور ماہرین دونوں مل بیٹھ کر رویت ہلال اور کیلنڈر کی سائنسی بنیاد کے بین بین اتفاق رائے پیدا کریں اور علماء سائنسی حقائق اور بنیاد کو بھی چیلنج نہ کریں۔ تاکہ کوئی کنٹرو ورسی جنم نہ لے۔
تاہم اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا ہے کہ قمری کیلنڈر کی شرعی حیثیت کا فیصلہ عید کے بعد ہو گا ، قمری کیلنڈر غور طلب معاملہ ہے، علماء کی رائے کے بغیر حتمی رائے نہیں دے سکتے، ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا قمری کیلنڈر اپنی جگہ لیکن عید اور روزے کے لیے رویت ضروری ہے، تاہم شعبہ تحقیق اور علماء کی رائے کے باعث عید سے پہلے فیصلہ ممکن نہیں، واضح رہے قبلہ ایاز نے وضاحت کی کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے قمری کیلنڈر کو مسترد نہیں کیا، قمری کیلنڈر پر علماء کرام کی رائے کے لیے عید کے بعد اجلاس بلایا جائے گا۔
علماء کا کہنا ہے کہ از خود چاند کی رویت شرعی لحاظ سے صحیح نہیں ہو گی، چاند کو دیکھنا شرط ہے۔ بلاشبہ رویت ہلال کا مسئلہ پوری قوم کے لیے ایک حساس معاملہ ہے جس پر کسی قسم کے تنازع کی گنجائش نہیں، 22 کروڑ عوام بھی اس کے متحمل نہیں ہو سکتے ۔ وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کے بیان پر علماء کرام کا رد عمل بھی سامنے آیا ہے، وزیر سائنس و ٹیکنالوجی کے مطابق قمری کیلنڈر کے بعد رویت ہلال کمیٹی کی ضرورت نہیں ہے ، ادھر اس سائنسی کیلنڈر کی تیاری یا اس پر عملدرآمد کے ضمن میں متعدد مسلمان ملکوں کا حوالہ بھی دیا جاتا ہے.
تاہم فہمیدہ اسکالرز، علماء اور جید مفتیان دین کی صائب رائے اور کیلنڈر کی ترتیب میں سائنسی ماہرین کی آرا پر بھی کسی نتیجہ پر پہنچا جا سکتا ہے، چونکہ چاند دیکھنے کی شرعی روایت برس ہا برس سے ملک میں موجود ہے اس لیے میڈیا کی جانب سے اس سنجیدہ رائے کو بھی زیر غور لایا جانا چاہیے کہ ایک کمیٹی ایسی تشکیل پائے جس میں علما اور ماہرین دونوں مل بیٹھ کر رویت ہلال اور کیلنڈر کی سائنسی بنیاد کے بین بین اتفاق رائے پیدا کریں اور علماء سائنسی حقائق اور بنیاد کو بھی چیلنج نہ کریں۔ تاکہ کوئی کنٹرو ورسی جنم نہ لے۔