معیشت عوام کو ثمرات دے
آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے تحت زرمبادلہ کی مارکیٹوں میں ڈالر کی قدر کے تعین کو چونکہ آزاد کردیا گیا ہے۔
آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے تحت زرمبادلہ کی مارکیٹوں میں ڈالر کی قدر کے تعین کو چونکہ آزاد کردیا گیا ہے۔ فوٹو: فائل
معیشت کو درست ٹریک پر ڈالنے کی کوششوں کو مختلف زاویوں سے جانچنے پر مامور اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومتی معاشی ٹیم کے لیے سب سے بڑا ٹاسک اقتصادیات کو ریسکیو کرنے کی مشترکہ کاوشوں میں ترتیب اور نتیجہ خیزی کا ہے۔
ماہرین کے مطابق معیشت کی اضطراری کیفیت اسٹاک مارکیٹ کی مندی اور تیزی کی غیر معمولی کمشکش کی عکاسی کرتی ہے ، صورتحال کی غیر یقینیت نے تجارتی اور کاروباری طبقات ، سرمایہ کاروں اور مارکیٹ فورسز کو بھی تذبذب میں ڈال دیا ہے کہ حکومت کب اور کس شعبے میں غیر متوقع اعلان کرکے تاجر برادری اور صنعتی حلقوں کو مزید حیرت زدہ کردے۔
مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ اپنے رفقا کے ہمراہ بجٹ تیاریوں میں مصروف ہیں جب کہ ایف بی آر کے سربراہ شبر زیدی ٹیکس نیٹ میں توسیع اور دیگر بنیادی مالی اور زری اصلاحات کے لیے ماسٹر پلان کا سوچ رہے ہیں ،وہ گزشتہ دنوں پورے ٹیکس نظام کی تبدیلی کا عندیہ بھی دے چکے ہیں تاہم معیشت کے آزاد ذرائع کا کہنا ہے کہ ملکی معیشت کی مکمل تطہیر،تنظیم نو اور نشاۃ ثانیہ اہم ترین چیلنجز ضرور ہیں ، بحران زدہ معیشت میں استحکام آئے مگر عوام اقتصادیات کی باریکیوں اور اعدادوشمار کے گورکھ دھندوں کا کوئی علم نہیں رکھتے انھیں فوری ریلیف کا انتظارہے جو انھیں تاحال نہیں مل سکا ہے، حکومت کے پاس عوام کے لیے بس ایک ہی عذر رہ گیا کہ کچھ مہلت دی جائے، وزیراعظم بھی کہہ چکے ہیں کہ دو ماہ مشکل ہیں ۔
مگر معاشی غیر یقینی کے منفی اثرات سے واقف ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ عوام کو زیادہ دیر ٹالا نہیں جا سکتا اور نہ ہی ملک کے معاشی مسائل اور مشکلات سے دوچار عوام پی ٹی آئی رہنماؤں اور وزراء کے اس استدلال پر مستقل چپ رہ سکتے ہیں کہ ابھی حکومت کو دن ہی کتنے ہوئے ہیں کہ ہر شخص دس سال کی معاشی بربادی کا حکومت سے جواب مانگ رہا ہے اور فوری ریلیف اور مراعات مانگی جانے لگی ہیں۔
لیکن حقیقت پی ٹی آئی کے انتخابی وعدوں اور نعروں نے عوام کے ذہن پر نقش کردی ہے، پی ٹی آئی نے ن لیگ حکومت کا محاصرہ کرتے ہوئے مسائل کا حل اقتدار میں آتے ہی پیش کرنے کا دعویٰ کیا تھا، آج بھی حکومت اسی معذرت خواہی کے پیچھے چھپ رہی ہے کہ پی پی اور ن لیگ نے معیشت کا بیڑا غرق کیا اور ملک کو قرضوں کے بوجھ تلے دبا دیا ۔
تاہم عام آدمی معاشی جبر اور روزمرہ کے مسائل میں اس قدر الجھا ہے کہ اسے معیشت کے روڈ میپ یا خوشحالی ،سرمایہ کاری،روزگار،رہائش اور تعیشات کے لالی پاپ سے مزید بہلایا نہیں جاسکتا ، متوسط طبقہ تاریخ میں پہلی بار پچک گیا ہے، غربت اور افلاس کے مظاہر سڑکوں پر نظر آتے ہیں، ماہ رمضان کا آخری عشرہ بھی ختم ہورہا ہے مگر حکومت موثر و شفاف پرائس کنٹرول اور اشیائے ضروری کی ارزاں فراہمی کا کوئی انتظام بھی بروئے کار نہ لاسکی،جتنی مہنگائی عوام پر مسلط کی گئی اس کی مارکیٹ تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی ، تاجروں اور دکانداروں نے شہریوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا ہے ۔
غریبوں پر مہنگائی کا بوجھ بڑھتا جارہا ہے ۔ تازہ ترین بم مہنگی بجلی اور پٹرول کا گرایا گیا ہے ، بجلی صارفین پر 5 ارب 20 کروڑ کا اضافی بوجھ پڑے گا، دیگر پٹرولیم مصنوعات بھی مہنگی ہونگی، سمری بھیجی جا چکی ہے۔
دریں اثنا حکومت کی جانب سے20ارب روپے کے ڈیزاسٹرسپورٹ فنڈ متحرک ہونے سے قبل ہی موخر ہونے کی اطلاعات اور فوری منافع کے حصول پر رجحان غالب ہونے سے پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں5 روزہ تیزی کے بعد منگل کوایک بار پھر بڑی نوعیت کی مندی رونما ہوئی جس سے انڈیکس کی35ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی حد بھی گرگئی۔ مندی کے سبب73فیصد حصص کی قیمتیں گرگئیں جب کہ سرمایہ کاروں کے 98ارب22کروڑایک لاکھ53ہزار344روپے ڈوب گئے۔
ماہرین کا کہنا تھاکہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے کینیڈین نژاد سی ای اوچرڈمورن کے بورڈ کے تحفظات پرمستعفی ہونے سے مارکیٹ کی سرگرمیاں متاثرنہیں ہوئیں لیکن فوری منافع کے لیے مارکیٹ میں مختصرالمدت سرمایہ کاری رجحان بڑھنے اور نئے وفاقی بجٹ میں ممکنہ طورپر نئے ٹیکسزعائد ہونے کی خبروں نے مارکیٹ میں فروخت کی شدت کو بڑھا دیا جس کے نتیجے میں کاروبار کے آغاز سے شروع ہونے والی مندی اختتام تک برقرار رہی۔
ماہرین کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے تحت زرمبادلہ کی مارکیٹوں میں ڈالر کی قدر کے تعین کو چونکہ آزاد کردیا گیا ہے اس لیے اب دونوں مارکیٹوں میں ڈالر کی قدر کا تعین طلب و رسد کی بنیاد پر کیاجا رہا ہے۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت آئی ایم ایف سے پیکیج لے چکی، ادارہ جاتی سطح پر اسٹیٹ بینک اور ایف بی آر میں نئی تقرریوں اور معاشی ٹیم میں ردوبدل کے بعد مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی قیادت میں معاشی ثمرات کی ابتدا ہوجانی چاہیے، بندہ پرورو! عوام کی حالت قابل رحم ہوگئی ہے۔
ماہرین کے مطابق معیشت کی اضطراری کیفیت اسٹاک مارکیٹ کی مندی اور تیزی کی غیر معمولی کمشکش کی عکاسی کرتی ہے ، صورتحال کی غیر یقینیت نے تجارتی اور کاروباری طبقات ، سرمایہ کاروں اور مارکیٹ فورسز کو بھی تذبذب میں ڈال دیا ہے کہ حکومت کب اور کس شعبے میں غیر متوقع اعلان کرکے تاجر برادری اور صنعتی حلقوں کو مزید حیرت زدہ کردے۔
مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ اپنے رفقا کے ہمراہ بجٹ تیاریوں میں مصروف ہیں جب کہ ایف بی آر کے سربراہ شبر زیدی ٹیکس نیٹ میں توسیع اور دیگر بنیادی مالی اور زری اصلاحات کے لیے ماسٹر پلان کا سوچ رہے ہیں ،وہ گزشتہ دنوں پورے ٹیکس نظام کی تبدیلی کا عندیہ بھی دے چکے ہیں تاہم معیشت کے آزاد ذرائع کا کہنا ہے کہ ملکی معیشت کی مکمل تطہیر،تنظیم نو اور نشاۃ ثانیہ اہم ترین چیلنجز ضرور ہیں ، بحران زدہ معیشت میں استحکام آئے مگر عوام اقتصادیات کی باریکیوں اور اعدادوشمار کے گورکھ دھندوں کا کوئی علم نہیں رکھتے انھیں فوری ریلیف کا انتظارہے جو انھیں تاحال نہیں مل سکا ہے، حکومت کے پاس عوام کے لیے بس ایک ہی عذر رہ گیا کہ کچھ مہلت دی جائے، وزیراعظم بھی کہہ چکے ہیں کہ دو ماہ مشکل ہیں ۔
مگر معاشی غیر یقینی کے منفی اثرات سے واقف ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ عوام کو زیادہ دیر ٹالا نہیں جا سکتا اور نہ ہی ملک کے معاشی مسائل اور مشکلات سے دوچار عوام پی ٹی آئی رہنماؤں اور وزراء کے اس استدلال پر مستقل چپ رہ سکتے ہیں کہ ابھی حکومت کو دن ہی کتنے ہوئے ہیں کہ ہر شخص دس سال کی معاشی بربادی کا حکومت سے جواب مانگ رہا ہے اور فوری ریلیف اور مراعات مانگی جانے لگی ہیں۔
لیکن حقیقت پی ٹی آئی کے انتخابی وعدوں اور نعروں نے عوام کے ذہن پر نقش کردی ہے، پی ٹی آئی نے ن لیگ حکومت کا محاصرہ کرتے ہوئے مسائل کا حل اقتدار میں آتے ہی پیش کرنے کا دعویٰ کیا تھا، آج بھی حکومت اسی معذرت خواہی کے پیچھے چھپ رہی ہے کہ پی پی اور ن لیگ نے معیشت کا بیڑا غرق کیا اور ملک کو قرضوں کے بوجھ تلے دبا دیا ۔
تاہم عام آدمی معاشی جبر اور روزمرہ کے مسائل میں اس قدر الجھا ہے کہ اسے معیشت کے روڈ میپ یا خوشحالی ،سرمایہ کاری،روزگار،رہائش اور تعیشات کے لالی پاپ سے مزید بہلایا نہیں جاسکتا ، متوسط طبقہ تاریخ میں پہلی بار پچک گیا ہے، غربت اور افلاس کے مظاہر سڑکوں پر نظر آتے ہیں، ماہ رمضان کا آخری عشرہ بھی ختم ہورہا ہے مگر حکومت موثر و شفاف پرائس کنٹرول اور اشیائے ضروری کی ارزاں فراہمی کا کوئی انتظام بھی بروئے کار نہ لاسکی،جتنی مہنگائی عوام پر مسلط کی گئی اس کی مارکیٹ تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی ، تاجروں اور دکانداروں نے شہریوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا ہے ۔
غریبوں پر مہنگائی کا بوجھ بڑھتا جارہا ہے ۔ تازہ ترین بم مہنگی بجلی اور پٹرول کا گرایا گیا ہے ، بجلی صارفین پر 5 ارب 20 کروڑ کا اضافی بوجھ پڑے گا، دیگر پٹرولیم مصنوعات بھی مہنگی ہونگی، سمری بھیجی جا چکی ہے۔
دریں اثنا حکومت کی جانب سے20ارب روپے کے ڈیزاسٹرسپورٹ فنڈ متحرک ہونے سے قبل ہی موخر ہونے کی اطلاعات اور فوری منافع کے حصول پر رجحان غالب ہونے سے پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں5 روزہ تیزی کے بعد منگل کوایک بار پھر بڑی نوعیت کی مندی رونما ہوئی جس سے انڈیکس کی35ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی حد بھی گرگئی۔ مندی کے سبب73فیصد حصص کی قیمتیں گرگئیں جب کہ سرمایہ کاروں کے 98ارب22کروڑایک لاکھ53ہزار344روپے ڈوب گئے۔
ماہرین کا کہنا تھاکہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے کینیڈین نژاد سی ای اوچرڈمورن کے بورڈ کے تحفظات پرمستعفی ہونے سے مارکیٹ کی سرگرمیاں متاثرنہیں ہوئیں لیکن فوری منافع کے لیے مارکیٹ میں مختصرالمدت سرمایہ کاری رجحان بڑھنے اور نئے وفاقی بجٹ میں ممکنہ طورپر نئے ٹیکسزعائد ہونے کی خبروں نے مارکیٹ میں فروخت کی شدت کو بڑھا دیا جس کے نتیجے میں کاروبار کے آغاز سے شروع ہونے والی مندی اختتام تک برقرار رہی۔
ماہرین کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے تحت زرمبادلہ کی مارکیٹوں میں ڈالر کی قدر کے تعین کو چونکہ آزاد کردیا گیا ہے اس لیے اب دونوں مارکیٹوں میں ڈالر کی قدر کا تعین طلب و رسد کی بنیاد پر کیاجا رہا ہے۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت آئی ایم ایف سے پیکیج لے چکی، ادارہ جاتی سطح پر اسٹیٹ بینک اور ایف بی آر میں نئی تقرریوں اور معاشی ٹیم میں ردوبدل کے بعد مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی قیادت میں معاشی ثمرات کی ابتدا ہوجانی چاہیے، بندہ پرورو! عوام کی حالت قابل رحم ہوگئی ہے۔