ہزاروں ٹن پلاسٹک ویسٹ عذاب بن گیا
سائنسدان پلاسٹک کو کسی نہ کسی طریقے سے حل کیے جانے کے فارمولے پر تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سائنسدان پلاسٹک کو کسی نہ کسی طریقے سے حل کیے جانے کے فارمولے پر تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ فوٹو: فائل
AMSTERDAM:
پلاسٹک کی بوتلوں اور شاپر بیگز نے جہاں عوام کو بہت سی سہولتیں فراہم کیں وہیں اس پلاسٹک کی فراوانی نے جو مصائب پیدا کیے ہیں ان کا احساس رفتہ رفتہ ہونے لگا ہے۔ گزشتہ دنوں میں سمندر اور دریاؤں میں پلاسٹک کی وجہ سے آبی حیات کی ہلاکتوں کی خبریں معہ تصاویر شائع ہوئیں ایک بڑی مچھلی یعنی وہیل کے پیٹ سے چالیس کلو گرام کا پلاسٹک نکلا جس کی وجہ سے وہیل کی ہلاکت ہو گئی اسی طرح بڑی بڑی شارک مچھلیوں کی ہلاکتوں کی خبریں بھی ملیں کیونکہ پلاسٹک ان کے جسم میں ہضم نہیں ہو سکتا چنانچہ وہ ہلاکت کا باعث بنتا ہے۔
اب ملائیشیا سے ایک دلچسپ خبر آئی ہے کہ وہ اپنے سمندروں اور زمین سے اکٹھا کیے جانے والا تین ہزار ٹن پلاسٹک واپس ان ممالک کو بھجوا رہا ہے جہاں جہاں وہ پلاسٹک مصنوعات تیار کی گئی تھیں۔ پلاسٹک کے بارے میں دنیا بھر سے جن شکایتوں کا اظہار کیا جا رہا ہے ان کے پیش نظر لگتا ہے کہ اب سائنسدان پلاسٹک کو کسی نہ کسی طریقے سے حل کیے جانے کے فارمولے پر تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اس کے ساتھ ہی شاپر بیگز کی جگہ کاغذ یا کپڑے کے تھیلے استعمال کرنے کی ترغیب بھی دی جا رہی ہے۔
ادھر ملائیشیا کے وزیر ماحولیات نے کہا ہے کہ انھوں نے امیر اور مالدار ممالک کا تیار کردہ تین ہزار ٹن سے زائد پلاسٹک پکڑ لیا ہے جسے ری سائیکل نہیں کیا جا سکتا چنانچہ اس تمام پلاسٹک کو ان ممالک میں واپس بھجوا دیا جائے گا جہاں پر یہ تیار کیا گیا ہے۔
فلپائن کے صدر روڈ ریگوگوٹری نے اپنی حکومت کو حکم دیا ہے کہ کسی پرائیویٹ شپنگ کمپنی کا بندوبست کیا جائے تاکہ کینیڈا سے آنے والے پلاسٹک کے بھرے ہوئے 69 کنٹینر کینیڈا واپس بھیجے جا سکیں جہاں سے یہ پلاسٹک آبی راستے سے فلپائن تک پہنچ گیا ہے اور اگر کینیڈا نے فلپائن کا یہ تحفہ قبول کرنے سے انکار کیا تو اس تمام ''گاربیج'' کو اس کے علاقائی پانی میں ڈال دیا جائے گا۔
ورلڈ وائلڈ فنڈ (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں 300 ملین ٹن پلاسٹک کی مصنوعات تیار کی جا رہی ہیں جن کی وجہ سے آبی اور جنگلی حیات کے لیے بہت بڑا خطرہ پیدا ہو رہا ہے اور یہ ایک بین الاقوامی بحران کی صورت اختیار کر رہا ہے۔
چین نے قبل ازیں بہت سارا پلاسٹک ویسٹ ری سائیکلنگ کے لیے حاصل کیا تھا لیکن اس سال اس نے اچانک پلاسٹک لینا مکمل طور پر بند کر دیا ہے کیونکہ اسے اپنے ماحولیات کے لیے خطرہ پیدا ہوتا نظر آیا تھا۔ اب جنوب مشرقی ایشیائی ممالک ترقی یافتہ دنیا کو اپیل کر رہے ہیں کہ وہ پلاسٹک گاربیج ہمارے ملکوں میں بحری جہازوں کے ذریعے مت بھیجیں۔
پلاسٹک کی بوتلوں اور شاپر بیگز نے جہاں عوام کو بہت سی سہولتیں فراہم کیں وہیں اس پلاسٹک کی فراوانی نے جو مصائب پیدا کیے ہیں ان کا احساس رفتہ رفتہ ہونے لگا ہے۔ گزشتہ دنوں میں سمندر اور دریاؤں میں پلاسٹک کی وجہ سے آبی حیات کی ہلاکتوں کی خبریں معہ تصاویر شائع ہوئیں ایک بڑی مچھلی یعنی وہیل کے پیٹ سے چالیس کلو گرام کا پلاسٹک نکلا جس کی وجہ سے وہیل کی ہلاکت ہو گئی اسی طرح بڑی بڑی شارک مچھلیوں کی ہلاکتوں کی خبریں بھی ملیں کیونکہ پلاسٹک ان کے جسم میں ہضم نہیں ہو سکتا چنانچہ وہ ہلاکت کا باعث بنتا ہے۔
اب ملائیشیا سے ایک دلچسپ خبر آئی ہے کہ وہ اپنے سمندروں اور زمین سے اکٹھا کیے جانے والا تین ہزار ٹن پلاسٹک واپس ان ممالک کو بھجوا رہا ہے جہاں جہاں وہ پلاسٹک مصنوعات تیار کی گئی تھیں۔ پلاسٹک کے بارے میں دنیا بھر سے جن شکایتوں کا اظہار کیا جا رہا ہے ان کے پیش نظر لگتا ہے کہ اب سائنسدان پلاسٹک کو کسی نہ کسی طریقے سے حل کیے جانے کے فارمولے پر تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اس کے ساتھ ہی شاپر بیگز کی جگہ کاغذ یا کپڑے کے تھیلے استعمال کرنے کی ترغیب بھی دی جا رہی ہے۔
ادھر ملائیشیا کے وزیر ماحولیات نے کہا ہے کہ انھوں نے امیر اور مالدار ممالک کا تیار کردہ تین ہزار ٹن سے زائد پلاسٹک پکڑ لیا ہے جسے ری سائیکل نہیں کیا جا سکتا چنانچہ اس تمام پلاسٹک کو ان ممالک میں واپس بھجوا دیا جائے گا جہاں پر یہ تیار کیا گیا ہے۔
فلپائن کے صدر روڈ ریگوگوٹری نے اپنی حکومت کو حکم دیا ہے کہ کسی پرائیویٹ شپنگ کمپنی کا بندوبست کیا جائے تاکہ کینیڈا سے آنے والے پلاسٹک کے بھرے ہوئے 69 کنٹینر کینیڈا واپس بھیجے جا سکیں جہاں سے یہ پلاسٹک آبی راستے سے فلپائن تک پہنچ گیا ہے اور اگر کینیڈا نے فلپائن کا یہ تحفہ قبول کرنے سے انکار کیا تو اس تمام ''گاربیج'' کو اس کے علاقائی پانی میں ڈال دیا جائے گا۔
ورلڈ وائلڈ فنڈ (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں 300 ملین ٹن پلاسٹک کی مصنوعات تیار کی جا رہی ہیں جن کی وجہ سے آبی اور جنگلی حیات کے لیے بہت بڑا خطرہ پیدا ہو رہا ہے اور یہ ایک بین الاقوامی بحران کی صورت اختیار کر رہا ہے۔
چین نے قبل ازیں بہت سارا پلاسٹک ویسٹ ری سائیکلنگ کے لیے حاصل کیا تھا لیکن اس سال اس نے اچانک پلاسٹک لینا مکمل طور پر بند کر دیا ہے کیونکہ اسے اپنے ماحولیات کے لیے خطرہ پیدا ہوتا نظر آیا تھا۔ اب جنوب مشرقی ایشیائی ممالک ترقی یافتہ دنیا کو اپیل کر رہے ہیں کہ وہ پلاسٹک گاربیج ہمارے ملکوں میں بحری جہازوں کے ذریعے مت بھیجیں۔