سندھ میں ایڈز کی تحقیقات

ہمارا یہ قومی المیہ ہے کہ جب پانی سر سے اونچا ہوجاتا ہے تو ہم اس کے بچاؤ کے طریقے ڈھونڈنے لگتے ہیں۔

ہمارا یہ قومی المیہ ہے کہ جب پانی سر سے اونچا ہوجاتا ہے تو ہم اس کے بچاؤ کے طریقے ڈھونڈنے لگتے ہیں۔ (فوٹو: فائل)

سندھ میں ایچ آئی وی وائرس ایڈزکی تحقیقات کے لیے عالمی ادارہ صحت کے ماہرین کی ٹیم پاکستان پہنچ گئی، ٹیم پتہ لگائے گی کہ ایچ آئی وی وائرس پھیلا کیسے اور اسے کنٹرول کیسے کیا جائے۔

ہمارا یہ قومی المیہ ہے کہ جب پانی سر سے اونچا ہوجاتا ہے تو ہم اس کے بچاؤ کے طریقے ڈھونڈنے لگتے ہیں۔استعمال شدہ سرنجزکے بار بار استعمال سے سندھ میں ایچ آئی وی وائرس پھیلا ، 600 سے زیادہ افراد ایچ آئی وی سے متاثر ہوئے ہیں جن میں سے اکثریت بچوں اور نوجوانوں کی ہے ۔نصف سے زائد متاثرین 5 سال سے کم عمر بچے ہیں۔

انسانی صحت کے حوالے سے یہ معاملہ انتہائی سنگین تھا لیکن اس مسئلے پر بھی سیاست کی گئی۔ وفاقی وزراء نے پوائنٹ اسکورنگ کا موقعہ ہاتھ سے جانے نہ دیا اور جواب آں غزل کے طور پر پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت بھی سامنے آگئی لیکن اس ساری صورتحال میں مسئلہ مزید سنگین نوعیت اختیارکرگیا ۔ محکمہ صحت پہلے تو خواب غفلت کی نیند سوتا رہا جب بیدار ہوا تو بہت دیر ہوچکی تھی ۔


حقیقت میں دیکھا جائے تو متاثرہ علاقوں میں ایچ آئی وی ٹیسٹنگ، پیڈیاٹک ایچ آئی وی کے علاج اور خاندان کی مشاورت کے علاوہ تکنیکی مہارت فراہم کرنے کے لیے باقاعدہ منظم طور پر ایک پروگرام تشکیل دیا جائے اور بالغوں اور بچوں دونوں کے ساتھ ساتھ سنگل استعمال سوئیاں اور سرنجوں کے لیے تیزی سے تشخیصی ٹیسٹ اور اینٹی ٹرور وائرل ادویات کی مناسب فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔

عالمی ادارہ صحت کی ٹیم دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کرکام کرے۔ یہ مسئلہ اب تو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت میں پیش ہوچکا ہے جہاںسیکریٹری صحت نے بتایا کہ وائرس سے بچوں کی اکثریت متاثر ہوئی والدین کو ایڈز نہیں۔ ستم ظریفی دیکھیے کہ سندھ واحد صوبہ ہے جہاں آٹو ڈس ایبل سرنجزکا قانون پاس ہے لیکن اس پر عملدرآمد نہیں ہو رہا اوراس قانون شکنی کا بھیانک نتیجہ غریب عوام بھگت رہے ہیں۔

سب سے پہلے ان پیرامیڈیکل اسٹاف اور ڈاکٹرزکو قرار واقعی سزا ملنی چاہیے جنھوں نے جانتے بوجھتے ہوئے استعمال شدہ سرنجزکو بار بار استعمال کیا اور خلق خدا کو اذیت اورکرب میں مبتلا کیا۔ بنیادی انسانی صحت کی سہولتوں کی فراہمی صوبائی اور وفاقی حکومتوں کی ذمے داری ہے، لہٰذا اس مسئلے کوجنگی بنیادوں پرحل کیا جائے۔ ایچ آئی وی ایڈزکے حوالے سے میڈیا، سماج میں شعور بیدارکرنے میں اپنا اہم کردار ادا کرے۔
Load Next Story