محکمہ خوراک سندھ وفوجی اکبرپورشیا کے درمیان معاہدہ
سرمایہ کارگروپ 100ملین ڈالرسے 1.5لاکھ ٹن گندم ذخیرہ کرنے کی سہولت تعمیرکریگا
سرمایہ کارگروپ 100ملین ڈالرسے 1.5لاکھ ٹن گندم ذخیرہ کرنے کی سہولت تعمیرکریگا فائل فوٹو
WASHINGTON:
سندھ حکومت گندم کو محفوظ کرنے کے لیے نجی شعبے کی جدید سہولتیں استعمال کرے گی جس سے گندم کو موسمی اثرات سے بچاتے ہوئے زیادہ عرصے تک محفوظ رکھا جاسکے گا۔ اس سلسلے میں محکمہ خوراک سندھ اور نجی سرمایہ کار گروپ فوجی اکبرپورشیا کے درمیان پورٹ قاسم پر 100ملین ڈالر کی سرمایہ کاری سے جدید ذخیرہ گھر تعمیر کرنے کا معاہدہ طے پاگیا ہے، گزشتہ روز سندھ سرمایہ کاری بورڈ کے دفتر میں معاہدے کی تقریب منعقد ہوئی جس میں وزیر خزانہ سندھ مراد علی شاہ کی موجودگی میں صوبائی سیکریٹری فوڈ ڈپارٹمنٹ آفتاب احمد میمن اور فوجی اکبر پورشیا میرین ٹرمینلز کے چیف ایگزیکٹو احمد رانا نے دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پراجیکٹ کمپنی 100ملین ڈالر کی سرمایہ کاری سے 1.5لاکھ ٹن گندم (اجناس) کی ذخیرہ گاہ تعمیر کریگی، اس سرمایہ کاری میں غیرملکی سرمایہ کاری شامل ہوگی جو ممکنہ طور پر چینی سرمایہ کار انویسٹ کریں گے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کے تحت اس منصوبے سے سندھ میں گندم کو ذخیرہ کرنے کی گنجائش میں اضافہ ہوگا، سندھ میں حالیہ سیلابوں کی تباہ کاریوں سے جدید اصولوں پر گندم کی ذخیرہ گاہوں کی ضرورت میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ میں گندم ذخیرہ کرنے کی گنجائش 6.5لاکھ ٹن ہے جسے 15لاکھ ٹن تک بڑھانے کیلیے بھرپور کوششیں کی جارہی ہیں۔ اس موقع پر سرمایہ کاری بورڈ سندھ کے چیئرمین زبیر موتی والا نے کہا کہ سندھ میں 4ملین ٹن گنجائش کی ذخیرہ گاہوں کی فوری ضرورت ہے، مذکورہ پراجیکٹ سے سندھ میں ذخیرہ کی گنجائش میں نمایاں اضافہ ہوگا اور جدید طریقے سے گندم سمیت دیگر اجناس کو طویل عرصے کے لیے محفوظ کیا جاسکے گا۔
فوجی اکبر پورشیا میرین ٹرمینل کے چیف ایگزیکٹو احمد رانا نے کہا کہ ان کا گروپ 135 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری سے پورٹ قاسم پر2.5 ملین ٹن گنجائش کا جدید ڈرائی کارگو ٹرمینل تعمیر کرچکا ہے جس میں 1.25ہزار ٹن اجناس ذخیرہ کرنے کی بھی گنجائش ہے، یہ سہولت دسمبر 2010سے مکمل طور پر فعال ہے۔
سندھ حکومت گندم کو محفوظ کرنے کے لیے نجی شعبے کی جدید سہولتیں استعمال کرے گی جس سے گندم کو موسمی اثرات سے بچاتے ہوئے زیادہ عرصے تک محفوظ رکھا جاسکے گا۔ اس سلسلے میں محکمہ خوراک سندھ اور نجی سرمایہ کار گروپ فوجی اکبرپورشیا کے درمیان پورٹ قاسم پر 100ملین ڈالر کی سرمایہ کاری سے جدید ذخیرہ گھر تعمیر کرنے کا معاہدہ طے پاگیا ہے، گزشتہ روز سندھ سرمایہ کاری بورڈ کے دفتر میں معاہدے کی تقریب منعقد ہوئی جس میں وزیر خزانہ سندھ مراد علی شاہ کی موجودگی میں صوبائی سیکریٹری فوڈ ڈپارٹمنٹ آفتاب احمد میمن اور فوجی اکبر پورشیا میرین ٹرمینلز کے چیف ایگزیکٹو احمد رانا نے دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پراجیکٹ کمپنی 100ملین ڈالر کی سرمایہ کاری سے 1.5لاکھ ٹن گندم (اجناس) کی ذخیرہ گاہ تعمیر کریگی، اس سرمایہ کاری میں غیرملکی سرمایہ کاری شامل ہوگی جو ممکنہ طور پر چینی سرمایہ کار انویسٹ کریں گے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کے تحت اس منصوبے سے سندھ میں گندم کو ذخیرہ کرنے کی گنجائش میں اضافہ ہوگا، سندھ میں حالیہ سیلابوں کی تباہ کاریوں سے جدید اصولوں پر گندم کی ذخیرہ گاہوں کی ضرورت میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ میں گندم ذخیرہ کرنے کی گنجائش 6.5لاکھ ٹن ہے جسے 15لاکھ ٹن تک بڑھانے کیلیے بھرپور کوششیں کی جارہی ہیں۔ اس موقع پر سرمایہ کاری بورڈ سندھ کے چیئرمین زبیر موتی والا نے کہا کہ سندھ میں 4ملین ٹن گنجائش کی ذخیرہ گاہوں کی فوری ضرورت ہے، مذکورہ پراجیکٹ سے سندھ میں ذخیرہ کی گنجائش میں نمایاں اضافہ ہوگا اور جدید طریقے سے گندم سمیت دیگر اجناس کو طویل عرصے کے لیے محفوظ کیا جاسکے گا۔
فوجی اکبر پورشیا میرین ٹرمینل کے چیف ایگزیکٹو احمد رانا نے کہا کہ ان کا گروپ 135 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری سے پورٹ قاسم پر2.5 ملین ٹن گنجائش کا جدید ڈرائی کارگو ٹرمینل تعمیر کرچکا ہے جس میں 1.25ہزار ٹن اجناس ذخیرہ کرنے کی بھی گنجائش ہے، یہ سہولت دسمبر 2010سے مکمل طور پر فعال ہے۔