کراچی اسٹاک مارکیٹ وزیر اعظم کو مہلت ملنے پر تیزی15100کی حد بحال

انسٹی ٹیوشنزودیگر شعبوں کی خریداری بڑھنے کے باعث انڈیکس 132 پوائنٹس کے اضافے سے15171 ہوگیا

انسٹی ٹیوشنزودیگر شعبوں کی خریداری بڑھنے کے باعث انڈیکس 132 پوائنٹس کے اضافے سے15171 ہوگیا فوٹو: فائل

لاہور:
این آر اوعمل درآمد کیس میں عدالت عالیہ کی جانب سے وزیراعظم کو 18 ستمبر تک مہلت دینے کے بعد انسٹی ٹیوشنزسمیت دیگر شعبوں کی جانب سے خریداری سرگرمیاں بڑھنے کے باعث کراچی اسٹاک ایکس چینج میں پیر کو نئے مالی ہفتے کے آغاز پر تیزی کا تسلسل قائم رہا جس سے انڈیکس کی15100 کی حد بھی بحال ہوگئی، تیزی کے سبب63 فیصد حصص کی قیمتیں بڑھ گئیں جبکہ حصص کی مالیت میں28 ارب88 کروڑ89 لاکھ35 ہزار989 روپے کا اضافہ ہوا،عدالت عالیہ میں این آراوکیس کی سماعت کے دوران ٹریڈنگ کے آغاز پرمارکیٹ میں اگرچہ تیزی کا رحجان غالب رہا لیکن سرمایہ کاروں نے محتاط طرز عمل اختیار کیا ہوا تھا تاہم عدالت عالیہ کی جانب سے وزیراعظم کو 18 ستمبر تک مہلت دیے جانے کی اطلاع پر مارکیٹ میں سرمایہ کاری کا رحجان بڑھ گیا اور تیزی کی بڑی لہر رونما ہوئی۔


ماہرین اسٹاک کا کہنا ہے کہ پیر کو این آراو کیس کی سماعت کے باوجود سرمایہ کاری کے مختلف شعبے پراعتماد نظر آئے، ٹریڈنگ کے دوران غیرملکیوں، بینکوں ومالیاتی اداروں اور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے مجموعی طور پر76 لاکھ11 ہزار926 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا بھی کیا گیا لیکن اس انخلا کے باوجود کاروبار کے تمام دورانیے میں مارکیٹ مثبت زون میں رہی کیونکہ ٹریڈنگ کے دوران مقامی کمپنیوں کی جانب سے65 لاکھ53 ہزار 6 ڈالر، میوچل فنڈز کی جانب سے4 لاکھ60 ہزار994 ڈالر، این بی ایف سیز کی جانب سے2 لاکھ4 ہزار448 ڈالر اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے 3 لاکھ93 ہزار477 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی جس سے مارکیٹ کا گراف تیزی کی جانب گامزن رہا، نتیجتاً کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس 132.48 پوائنٹس کے اضافے سے 15171.66 ہوگیا۔

جبکہ کے ایس ای 30 انڈیکس 137.14 پوائنٹس کے اضافے سے 12997.19 اور کے ایم آئی30 انڈیکس 334.42 پوائنٹس کے اضافے سے26792.53 ہو گیا، کاروباری حجم گزشتہ جمعہ کی نسبت14.54 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر 26 کروڑ92 لاکھ58 ہزار810 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار337 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں212 کے بھائو میں اضافہ، 104 کے داموں میں کمی اور21 کی قیمتوں میں استحکام رہا، جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں یونی لیور پاکستان کے بھائو365 روپے بڑھ کر8850 روپے اور باٹا پاکستان کے بھائو43.52 روپے بڑھ کر 914.05 روپے ہوگئے جبکہ کولگیٹ پامولیو کے بھائو 51.67 روپے کم ہوکر1423.33 روپے اور انڈس ڈائینگ کے بھائو21.50 روپے کم ہوکر410 روپے ہوگئے۔
Load Next Story