متحدہ وفاقی حکومت میں شامل ہونا چاہتی ہے لیکن وزیراعظم دوری اختیارکئے ہوئے ہیں خورشید شاہ
صدر زرداری اپنی آئینی مدت پوری کرنے بعد باقاعدہ پارٹی قیادت سنبھالیں گے اور ملک میں ہی رہیں گے، خورشید شاہ
کراچی سے خیبر تک عوام کو خود دہشتگردوں کے خلاف جہاد کرنا ہوگا، خورشید شاہ۔ ۔فوٹو : فائل
پیپلزپارٹی کے رہنما اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کی خواہش ہے کہ وہ وفاقی حکومت میں شامل ہو مگر وزیر اعظم نوازشریف ماضی کے تجربات کی روشنی متحدہ سے دوری پر ہی عافیت سمجھ رہے ہیں۔
پارلینٹ ہاؤس اسلام آباد میں صحافیوں کے اعزاز میں دی گئی تقریب میں مختلف سوالوں کے جواب دیتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے 5سال تک متحدہ قومی موومنٹ کو اپنے ساتھ اتحادی بنائے رکھا حالانکہ پیپلزپارٹی اس پوزیشن میں تھی کہ ایم کیو ایم کے بنا بھی چل سکتے تھے مگر ایم کیو ایم نے عام انتخابات کے فوری بعد انکھیں پھیر لیں، وزیراعظم کے انتخاب سے لے کرصدارتی الیکشن تک ایم کیو ایم نے اپوزیشن کی بجائے حکومت کو ترجیح دی، ایم کیو ایم کا وطیرہ ہے کہ کبھی وہ ملک توڑنے کی بات کرتی ہے اور کبھی انہیں سندھ میں نقائص نظر آتے ہیں، درحقیقت ایم کیو ایم کی خواہش ہے کہ وہ وفاقی حکومت میں شامل ہو مگر وزیر اعظم نوازشریف ماضی کے تجربات کی روشنی متحدہ سے دوری پر ہی عافیت سمجھ رہے ہیں۔ حکومت کراچی میں جس آپریشن کی بات کررہی ہے وہ جرائم پیشہ افراد کے خلاف ہونا چاہیے اور اسے اسی پر فوکس کیا جائے۔
خورشید شاہ نے کہا کہ فرینڈلی اپوزیشن کچھ نہیں ہوتی ہم جمہوریت کے استحکام اور مضبوطی کے لئے بہترین اپوزیشن کا کردار ادا کررہے ہیں، موجودہ حکومت نے آتے ہی عوام پر پٹرول، سی این جی اور ایل این جی بم گرائے اور عنقریب بجلی کی قیمت بھی 130فیصد بڑھادی جائے گی، حکومت کے 100دنوں کا انتظار ہے اس کے بعد حکومت کا کڑا احتساب شروع کریں گے، وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے 2008 میں کہا تھا کہ خزانہ خالی ہے جس کے رد عمل میں ڈالر کی قیمت 6 روپے بڑھ گئی تھی اس مرتبہ پھر انہوں نے وزارت خزانہ کا منصب سنبھالتے ہی خزانہ خالی ہونے کا راگ الاپنا شروع کردیا جس کے نتیجے میں ڈالر 7 روپے بڑھ گیا۔ انہوں نے کہا کہ صدر آصف زرداری اپنی آئینی مدت پوری کرنے بعد باقاعدہ پارٹی قیادت سنبھالیں گے اور ملک میں ہی رہیں گے یہ تاثر درست نہیں ہے کہ وہ ملک سے باہر چلے جائیں گے۔
پارلینٹ ہاؤس اسلام آباد میں صحافیوں کے اعزاز میں دی گئی تقریب میں مختلف سوالوں کے جواب دیتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے 5سال تک متحدہ قومی موومنٹ کو اپنے ساتھ اتحادی بنائے رکھا حالانکہ پیپلزپارٹی اس پوزیشن میں تھی کہ ایم کیو ایم کے بنا بھی چل سکتے تھے مگر ایم کیو ایم نے عام انتخابات کے فوری بعد انکھیں پھیر لیں، وزیراعظم کے انتخاب سے لے کرصدارتی الیکشن تک ایم کیو ایم نے اپوزیشن کی بجائے حکومت کو ترجیح دی، ایم کیو ایم کا وطیرہ ہے کہ کبھی وہ ملک توڑنے کی بات کرتی ہے اور کبھی انہیں سندھ میں نقائص نظر آتے ہیں، درحقیقت ایم کیو ایم کی خواہش ہے کہ وہ وفاقی حکومت میں شامل ہو مگر وزیر اعظم نوازشریف ماضی کے تجربات کی روشنی متحدہ سے دوری پر ہی عافیت سمجھ رہے ہیں۔ حکومت کراچی میں جس آپریشن کی بات کررہی ہے وہ جرائم پیشہ افراد کے خلاف ہونا چاہیے اور اسے اسی پر فوکس کیا جائے۔
خورشید شاہ نے کہا کہ فرینڈلی اپوزیشن کچھ نہیں ہوتی ہم جمہوریت کے استحکام اور مضبوطی کے لئے بہترین اپوزیشن کا کردار ادا کررہے ہیں، موجودہ حکومت نے آتے ہی عوام پر پٹرول، سی این جی اور ایل این جی بم گرائے اور عنقریب بجلی کی قیمت بھی 130فیصد بڑھادی جائے گی، حکومت کے 100دنوں کا انتظار ہے اس کے بعد حکومت کا کڑا احتساب شروع کریں گے، وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے 2008 میں کہا تھا کہ خزانہ خالی ہے جس کے رد عمل میں ڈالر کی قیمت 6 روپے بڑھ گئی تھی اس مرتبہ پھر انہوں نے وزارت خزانہ کا منصب سنبھالتے ہی خزانہ خالی ہونے کا راگ الاپنا شروع کردیا جس کے نتیجے میں ڈالر 7 روپے بڑھ گیا۔ انہوں نے کہا کہ صدر آصف زرداری اپنی آئینی مدت پوری کرنے بعد باقاعدہ پارٹی قیادت سنبھالیں گے اور ملک میں ہی رہیں گے یہ تاثر درست نہیں ہے کہ وہ ملک سے باہر چلے جائیں گے۔