پاک روس اسٹرٹیجک مذاکرات نیا آغاز

پاکستان اور روس کے مابین تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششیں گزشتہ تین سال سے خاموشی کے ساتھ ہو رہی تھیں۔

پاکستان کے خارجہ سیکریٹری جلیل عباس جیلانی روس کے ساتھ پاکستان کے اولین تزویراتی (اسٹرٹیجک) مذاکرات کے لیے روسی دارالحکومت ماسکو میں ہیں۔ دونوں ملکوں کے مابین طویل برسوں کی کشیدگی یا مغائرت کے بعد تزویراتی ڈائیلاگ کے حوالے سے اس پیشرفت کو خصوصی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے بالخصوص اس صورت میں جب امریکا اور اس کے مغربی اتحادی شام کے خلاف بھرپور فوجی کارروائی کی تیاریوں کے آخری مرحلے میں ہیں۔ خارجہ سیکریٹری جلیل عباس بدھ کو دو روزہ مذاکرات کے لیے ماسکو پہنچے.

ان مذاکرات میں وسیع تر موضوعات پر تبادلہ خیال کا عندیہ دیا گیا ہے جن میں علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں کے علاوہ سیاسی' اقتصادی اور دفاعی میدان میں باہمی تعاون کے امور بھی شامل ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان اور روس کے مابین تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششیں گزشتہ تین سال سے خاموشی کے ساتھ ہو رہی تھیں۔ اس حوالے سے سیاسی اور فوجی سطح پر اعلیٰ سطح کے تبادلے بھی ہوئے جس کے نتیجے میں تلخیاں اور غلط فہمیاں دور ہونے میں مدد ملی۔ روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے گزشتہ برس پاکستان کا دورہ کرنا تھا مگر اس دورے کو عین وقت پر نا معلوم وجوہات کی بنا پر منسوخ کر دیا گیا تاہم اس کے باوجود بھی مفاہمتی کوششوں میں کوئی خلل پیدا نہیں ہوا۔


پاک فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے گزشتہ سال روس کا دوسرا دورہ کیا جب کہ روسی فوج کے سربراہ کرنل جنرل ولادیمئر چرکن اسی ماہ پاکستان کے دورہ پر آئے ہوئے تھے۔ ادھر مشرق وسطی کے تناظر میں روس نے ایک بار پھر اپنے موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال سرکاری فوج نے نہیں بلکہ باغیوں نے کیا ہے۔ روس نے امریکا کو تنبیہ کی ہے کہ خطے کا امن و امان خراب کرنے کے بجائے مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات کا راستہ اپنایا جائے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے خبردار کیا کہ شامی تنازعے کا فوجی حل اس ملک اور پورے مشرق وسطیٰ کو عدم استحکام سے دو چار کر سکتا ہے۔

شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب لخدر براہیمی کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو میں لاوروف نے کہا کہ امریکا شام میں فوجی مداخلت سے باز رہے۔ اقوام متحدہ کے مینڈیٹ کے بغیر شام میں فوجی مداخلت بین الااقومی قانون کی خلاف ورزی ہوگی۔ مشرق وسطیٰ کے حالات' وسط ایشیاء میں آنے والی تبدیلیوں اور عالمی سیاسی تناظر میں پاکستان کا روس کے ساتھ روابط استوار کرنے کا فیصلہ درست ہے' اس وقت امریکا دنیا کی واحد سپر پاور ہے جب کہ مغربی یورپ خصوصاً برطانیہ امریکا کے عالمی ایجنڈے کا بڑا حامی ہے۔

ایشیاء کی بڑی اقتصادی قوتیں جاپان اور جنوبی کوریا بھی اسی کیمپ کا حصہ ہیں جب کہ مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب بھی امریکا کا اہم اتحادی ہے' اس عالمی صف بندی میں پاکستان اس وقت ہی اہم کردار ادا کر سکتا ہے جب وہ وسط ایشیاء اور جنوبی ایشیاء میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے میں کوئی کردار ادا کر سکے' روس مشرقی یورپ اور وسط ایشیاء اورکا کشیا کے خطے کی آج بھی بڑی قوت ہے' جنوبی ایشیاء میں بھی روس اہم کھلاڑی ہے' اس تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کی حکومت کو روس کے ساتھ بہتر تعلقات بنانے کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیے۔
Load Next Story