افغانستان میں قیام امن کی امیدیں

مذاکرات میں طالبان رہنما ملا عبدالغنی برادر کی شرکت کو بہت اہمیت دی جا رہی ہے۔

مذاکرات میں طالبان رہنما ملا عبدالغنی برادر کی شرکت کو بہت اہمیت دی جا رہی ہے۔ فوٹو : فائل

افغانستان میں قیام کی راہ میں اس قدر غیرہمواری ہے اور ان تمام فریقین کے صبر و تحمل کا کڑا امتحان لے رہی ہے جو قیام امن کی کوششیں کر رہی ہیں۔ اس بدقسمت ملک کو جنگوں نے تباہ برباد کر دیا ہے۔ اس گنجلک اور پیچیدہ مسئلے کے حل کے لیے الگ الگ ٹکڑوں کو جوڑ کر کوئی شکل نکالنا پڑے گی۔ گویا بقول شاعر دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گوہر ہونے تک۔ اس ہفتے روس کے دارالحکومت ماسکو میں مذاکرات جاری رہے جب کہ اس کے ساتھ ساتھ دوحہ قطر میں بھی مذاکرات جاری تھے۔

امریکا نے اس مشکل کام کو اپنے افغان نژاد خصوصی نمایندے زلمے خلیل زاد کے ذمے لگایا ہوا ہے جو ان مذاکرات کی کامیابی کے لیے پاکستان' افغانستان' روس اور دیگر متعلقہ ممالک کے دورے کرتے رہے ہیں۔ روس میں ہونے والے مذاکرات میں 14رکنی افغان طالبان کی ٹیم بھی موجود ہے جس کا وہی پرانا مطالبہ ہے کہ افغانستان میں اس وقت تک امن قائم نہیں ہو سکتا جب تک کہ امریکی اور نیٹو کی غیرملکی افواج افغانستان سے نکل نہیں جاتیں۔ افغان طالبان اپنے اٹل موقف پر قائم ہیں کہ افغان حکومت سے بات کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ حکومت تو کٹھ پتلی حکومت ہے۔


ادھر امریکا افغانستان کی اتنی طویل جنگ سے عاجز آ چکا ہے۔ اس کے ڈالر ہی بے حساب خرچ نہیں ہو رہے بلکہ امریکی فوج کے قیمتی جوان بھی مارے جا رہے ہیں ۔ ماسکو میں مذاکرات فروری میں شروع ہوئے تھے اور اب وہاں مذاکرات کے لیے دوسرا اجلاس ہوا ہے۔ اسی دوران مذاکرات میں خلیل زاد مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں اور پاکستان پر بھی زور دیا جا رہا ہے کہ وہ بھی قیام امن کے لیے اپنا کردار ادا کرے لیکن اس دوران افغانستان میں داعش کی موجودگی کی خبر بھی دی جا رہی ہے جس سے وہاں تشدد کی وارداتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔

واضح رہے ان مذاکرات میں روس کے علاوہ چین کے وفد نے بھی حصہ لیا ہے لیکن طالبان کو ان طاقتوں پر بھی کوئی بھروسہ نہیں ہے جو مذاکرات کے لیے سہولت کاری کے فرائض سرانجام دے رہی ہیں اور خود طالبان کے مختلف دھڑوں میں باہمی اختلافات بھی موجود ہیں بلکہ خاصے نمایاں ہیں۔

طالبان کا موقف ہے کہ چونکہ امریکا نے افغانستان پر حملے کے بعد طالبان سے حکومت چھینی تھی لہٰذا افغان حکومت کو دوبارہ طالبان کے حوالے ہی کیا جانا چاہیے تاکہ امریکا اپنی کٹھ پتلیوں کو اقتدار نہ سونپے۔ مذاکرات میں طالبان رہنما ملا عبدالغنی برادر کی شرکت کو بہت اہمیت دی جا رہی ہے جنہوں نے طالبان کی جماعت بنانے میں ملا عمر کی مدد کی تھی اور اب بھی اس دھڑے سے اہم کردار ادا کرنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
Load Next Story