کراچی کی محرومیوں کا خاتمہ ناگزیر
وزیراعظم نے ایم کیو ایم پاکستان کو یقین دہانی کرائی کہ سندھ کے شہری علاقوں کی محرومیاں ختم کی جائیں گی۔
وزیراعظم نے ایم کیو ایم پاکستان کو یقین دہانی کرائی کہ سندھ کے شہری علاقوں کی محرومیاں ختم کی جائیں گی۔ فوٹو:فائل
وزیراعظم عمران خان سے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے وفد کی اہم ملاقات بدھ کو ہوئی ہے جس میں وزیراعظم نے ایم کیو ایم پاکستان کو پی ٹی آئی کا سب سے اہم اتحادی قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ سندھ کے شہری علاقوں کی محرومیاں ختم کی جائیں گی، ان کی محرومیوں کا ازالہ کیا جائے گا۔
بدھ کو ہونے والی ملاقات میں وزیراعظم عمران خان نے کابینہ میں شامل ایم کیو ایم کے دونوں وزرا کی کارکردگی کو سراہا، ایم کیو ایم وفد نے وزیراعظم کو سندھ حکومت کے خلاف اپنے تحفظات سے بھی آگاہ کیا۔
ایم کیو ایم حکومت کی اتحادی جماعت اور موثر حلیف ہے اور کراچی و حیدرآباد میں ترقیاتی کاموں اور انفرسٹرکچر کے تنصیب اور نئے منصوبوں، اہم پروجیکٹ کی تکمیل کے لیے وزیرعظم کی وفد سے ملاقات وقت کا تقاضہ بھی ہے اور ملک میں جو غیر معمولی صورتحال جنم لے رہی ہے اس میں ایم کیو ایم (پاکستان) کی مشاورت اور حکومت کے ساتھ سیاسی شراکت اور وابستگی سیاسی ڈائنامکس میں نمایاں اہمیت کی حامل ہیں۔
پی ٹی آئی کو کراچی کا مینڈیٹ ملا ہے اور ابھی حکومت کو اپنی گرفت مضبوط رکھنے کے لیے اور اپوزیشن سے شو ڈاؤن کے ممکنہ مواقع کے لیے حکومت کی حکمت عملی میں اپا حصہ پورا لینا ہو گا اور حکومت کی خواہش اور توقع بھی ہو گی کہ کسی قسم کے ممکنہ بحران میں اسے ایم کیو ایم کی غیر متزلزل حمایت ہمیشہ حاصل رہنی چاہیے تاہم تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے، کراچی مسائل کا دہکتا ہوا شہر ناپرساں ہے، عوام بیروزگاری، غربت ، مہنگائی اور محرومیوں کا گلہ کرتے ہیں اور اسٹریٹ کرائمز نے کراچی کی چولیں ہلا دی ہیں، آئی جی سندھ کلیم امام نے جرائم کی ہولناکیوں کی روک تھام میں ناکامی کا اعتراف کیا ہے مگر اصل کام آہنی ہاتھوں سے کرمنل اور مافیا گیگز کو قابو کرنا ہے۔
اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ کراچی پاکستان کا چہرہ ہے، وفاقی حکومت سندھ حکومت کے ساتھ مل کرکراچی میں صحت و تعلیم کی سہولتوں سمیت بڑے ترقیاتی منصوبے شروع کریگی۔ ذرایع کے مطابق وزیراعظم آفس میں ہونے والی ملاقات میںایم کیو کے وفد نے وزیر اعظم کو بتایا کہ گزشتہ 10 سال میںکراچی اور حیدر آباد میں جعلی ڈومیسائل کی بنیاد پر ان بڑے شہروں کے مکینوںکو سرکاری نوکریوں میں ان کے جائز حق سے محروم رکھا گیا اور دیگر شہروں کے لاکھوں افراد مختلف محکموں میں بھرتی کیے گئے۔
کراچی اور حیدرآباد کے شہریوں کے حق غصب کرنے ، بدعنوانی اور غیر قانونی عمل کی تحقیقات کرائی جائے اور نیب ریفرنس بننا چاہیے۔ ایم کیو ایم وفد نے وزیرِاعظم سے درخواست کی کہ صوبائی سطح پر این ایف سی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے صوبائی مالیاتی کمیشن کے قیام پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔ صوبائی مالیاتی کمیشن کی تشکیل تک اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کراچی اور حیدرآباد جیسے بڑے شہروں کو ترقیاتی فنڈز میںانکا جائزحق ملے۔ ایم کیو ایم کے وفد میں وزیر قانون فروغ نسیم، وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی خالد مقبول صدیقی، مئیرکراچی وسیم اختر، عامرخان، امین الحق، فیصل سبزواری شریک تھے، ملاقات میں وزیر منصوبہ بندی خسروبختیار اور نعیم الحق بھی موجود تھے۔
دریں اثنا قومی اقتصادی کونسل نے آیندہ مالی سال کے لیے جی ڈی پی گروتھ کا ہدف 4 فیصد، زراعت کی ترقی کا ہدف 3 اعشاریہ 4 فیصد، صنعت 2 اعشاریہ 2 فیصد اور خدمات کے شعبہ کا ہدف 4 اعشاریہ 8 فیصد رکھنے کی منظوری دیدی ہے، قومی اقتصادی کونسل نے بارہویں پانچ سالہ منصوبے جب کہ وفاق اور صوبوںکے ترقیاتی بجٹ کی مد میں1837ارب روپے کی منظوری دیدی۔ اجلاس مشیرخزانہ حفیظ شیخ، وزیر منصوبہ بندی خسرو بختیار، مشیرتجارت عبدالرزاق داؤد،چاروں وزرائے اعلیٰ، وزیراعظم آزادکشمیر اور وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے شرکت کی۔
تفصیلات کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وزیراعظم آفس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں آیندہ مالی سال کے لیے جی ڈی پی کا ہدف 4 فیصد، زراعت کی ترقی کا ہدف 3.5 فیصد، صنعت کی ترقی کا ہدف 2.2 فیصد اور خدمات کے شعبہ کا ہدف 4.8 فیصد رکھنے کی منظوری دی گئی۔ اجلاس کی کارروائی کے دوران 2018-23 ء پانچ سالہ پلان کا بھی جائزہ لیاگیا، 12 ویں پانچ سالہ پلان میں پائیدار معاشی ترقی کو ہدف مقررکیا گیا ہے، قومی اقتصادی کونسل نے سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگرام پی ایس ڈی پی 2019-20 ء کا جائزہ لیا۔
وزیراعظم عمران خان خان نے بعض حقائق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ حکومت کو شدید اقتصادی بحران کا سامنا تھا جب کہ ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانا تھا۔ انھوں نے زور دیا کہ کہ موجودہ بحران سے نکلنے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ کراچی کو کئی کثیر جہتی اقدامات اور غیر معمولی معاشی پکیج کے ذریعے ماضی کی سماجی، ثقافتی اور اقتصادی قوت بنانے کی ایک قابل تقلید مثال قائم کرنے کی ہے۔ کراچی ملکی اقتصادیات کا ہب ہے، وفاق کو ریونیو کی مد میں سب سے بڑی کنٹری بیوشن شہر قائد کی ہے، لہذا اس کی محرومیوں کو ازالہ ہوگا تو ملک کی ترقی اور عوام کی خوشحالی نمایاں بریک تھرو کریگی۔
بدھ کو ہونے والی ملاقات میں وزیراعظم عمران خان نے کابینہ میں شامل ایم کیو ایم کے دونوں وزرا کی کارکردگی کو سراہا، ایم کیو ایم وفد نے وزیراعظم کو سندھ حکومت کے خلاف اپنے تحفظات سے بھی آگاہ کیا۔
ایم کیو ایم حکومت کی اتحادی جماعت اور موثر حلیف ہے اور کراچی و حیدرآباد میں ترقیاتی کاموں اور انفرسٹرکچر کے تنصیب اور نئے منصوبوں، اہم پروجیکٹ کی تکمیل کے لیے وزیرعظم کی وفد سے ملاقات وقت کا تقاضہ بھی ہے اور ملک میں جو غیر معمولی صورتحال جنم لے رہی ہے اس میں ایم کیو ایم (پاکستان) کی مشاورت اور حکومت کے ساتھ سیاسی شراکت اور وابستگی سیاسی ڈائنامکس میں نمایاں اہمیت کی حامل ہیں۔
پی ٹی آئی کو کراچی کا مینڈیٹ ملا ہے اور ابھی حکومت کو اپنی گرفت مضبوط رکھنے کے لیے اور اپوزیشن سے شو ڈاؤن کے ممکنہ مواقع کے لیے حکومت کی حکمت عملی میں اپا حصہ پورا لینا ہو گا اور حکومت کی خواہش اور توقع بھی ہو گی کہ کسی قسم کے ممکنہ بحران میں اسے ایم کیو ایم کی غیر متزلزل حمایت ہمیشہ حاصل رہنی چاہیے تاہم تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے، کراچی مسائل کا دہکتا ہوا شہر ناپرساں ہے، عوام بیروزگاری، غربت ، مہنگائی اور محرومیوں کا گلہ کرتے ہیں اور اسٹریٹ کرائمز نے کراچی کی چولیں ہلا دی ہیں، آئی جی سندھ کلیم امام نے جرائم کی ہولناکیوں کی روک تھام میں ناکامی کا اعتراف کیا ہے مگر اصل کام آہنی ہاتھوں سے کرمنل اور مافیا گیگز کو قابو کرنا ہے۔
اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ کراچی پاکستان کا چہرہ ہے، وفاقی حکومت سندھ حکومت کے ساتھ مل کرکراچی میں صحت و تعلیم کی سہولتوں سمیت بڑے ترقیاتی منصوبے شروع کریگی۔ ذرایع کے مطابق وزیراعظم آفس میں ہونے والی ملاقات میںایم کیو کے وفد نے وزیر اعظم کو بتایا کہ گزشتہ 10 سال میںکراچی اور حیدر آباد میں جعلی ڈومیسائل کی بنیاد پر ان بڑے شہروں کے مکینوںکو سرکاری نوکریوں میں ان کے جائز حق سے محروم رکھا گیا اور دیگر شہروں کے لاکھوں افراد مختلف محکموں میں بھرتی کیے گئے۔
کراچی اور حیدرآباد کے شہریوں کے حق غصب کرنے ، بدعنوانی اور غیر قانونی عمل کی تحقیقات کرائی جائے اور نیب ریفرنس بننا چاہیے۔ ایم کیو ایم وفد نے وزیرِاعظم سے درخواست کی کہ صوبائی سطح پر این ایف سی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے صوبائی مالیاتی کمیشن کے قیام پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔ صوبائی مالیاتی کمیشن کی تشکیل تک اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کراچی اور حیدرآباد جیسے بڑے شہروں کو ترقیاتی فنڈز میںانکا جائزحق ملے۔ ایم کیو ایم کے وفد میں وزیر قانون فروغ نسیم، وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی خالد مقبول صدیقی، مئیرکراچی وسیم اختر، عامرخان، امین الحق، فیصل سبزواری شریک تھے، ملاقات میں وزیر منصوبہ بندی خسروبختیار اور نعیم الحق بھی موجود تھے۔
دریں اثنا قومی اقتصادی کونسل نے آیندہ مالی سال کے لیے جی ڈی پی گروتھ کا ہدف 4 فیصد، زراعت کی ترقی کا ہدف 3 اعشاریہ 4 فیصد، صنعت 2 اعشاریہ 2 فیصد اور خدمات کے شعبہ کا ہدف 4 اعشاریہ 8 فیصد رکھنے کی منظوری دیدی ہے، قومی اقتصادی کونسل نے بارہویں پانچ سالہ منصوبے جب کہ وفاق اور صوبوںکے ترقیاتی بجٹ کی مد میں1837ارب روپے کی منظوری دیدی۔ اجلاس مشیرخزانہ حفیظ شیخ، وزیر منصوبہ بندی خسرو بختیار، مشیرتجارت عبدالرزاق داؤد،چاروں وزرائے اعلیٰ، وزیراعظم آزادکشمیر اور وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے شرکت کی۔
تفصیلات کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وزیراعظم آفس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں آیندہ مالی سال کے لیے جی ڈی پی کا ہدف 4 فیصد، زراعت کی ترقی کا ہدف 3.5 فیصد، صنعت کی ترقی کا ہدف 2.2 فیصد اور خدمات کے شعبہ کا ہدف 4.8 فیصد رکھنے کی منظوری دی گئی۔ اجلاس کی کارروائی کے دوران 2018-23 ء پانچ سالہ پلان کا بھی جائزہ لیاگیا، 12 ویں پانچ سالہ پلان میں پائیدار معاشی ترقی کو ہدف مقررکیا گیا ہے، قومی اقتصادی کونسل نے سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگرام پی ایس ڈی پی 2019-20 ء کا جائزہ لیا۔
وزیراعظم عمران خان خان نے بعض حقائق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ حکومت کو شدید اقتصادی بحران کا سامنا تھا جب کہ ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانا تھا۔ انھوں نے زور دیا کہ کہ موجودہ بحران سے نکلنے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ کراچی کو کئی کثیر جہتی اقدامات اور غیر معمولی معاشی پکیج کے ذریعے ماضی کی سماجی، ثقافتی اور اقتصادی قوت بنانے کی ایک قابل تقلید مثال قائم کرنے کی ہے۔ کراچی ملکی اقتصادیات کا ہب ہے، وفاق کو ریونیو کی مد میں سب سے بڑی کنٹری بیوشن شہر قائد کی ہے، لہذا اس کی محرومیوں کو ازالہ ہوگا تو ملک کی ترقی اور عوام کی خوشحالی نمایاں بریک تھرو کریگی۔