سینئر صحافی ادریس بختیار ہم سے رخصت ہوئے
ادریس بختیار کی علمی اور صحافتی خدمات مدتوں فراموش نہیں کی جا سکتیں، کثیرالمطالعہ شخص تھے۔
ادریس بختیار کی علمی اور صحافتی خدمات مدتوں فراموش نہیں کی جا سکتیں، کثیرالمطالعہ شخص تھے۔(فوٹو: فائل)
سینئر صحافی ادریس بختیار کے سفر زیست کااختتام ایک کہنہ مشق، جہاں دیدہ اور معتبرصحافی کے باحیات کا بند ہونا ہے۔ وہ 74سال کی عمر میں انتقال کر گئے، چار دن قبل حالت بگڑنے پر انھیں قومی ادارہ برائے امراض قلب میں داخل کیا گیا۔
ادریس بختیار اپنے50 سالہ دور صحافت میں بین الاقوامی اور مقامی ذرایع ابلاغ کے اداروں سے وابستہ رہے، ادریس بختیار پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے)دستوری کے صدر بھی رہے۔
ادریس بختیار نے ابتدائی تعلیم حیدرآباد میں مکمل کی اور بعد ازاں انھوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کراچی کے ایک اخبار سے کیا، وہ طویل عرصے تک بین الاقوامی نشریاتی ادارے بی بی سی کی اردو سروس سے وابستہ رہے، ادریس بختیار کی نماز جنازہ گلشن اقبال بلاک 13 ڈی ٹو میں واقع وسیم باغ کی مسجد فہیم میں جمعرات کو بعد نماز ظہرادا کی گئی، تدفین یاسین آباد قبرستان میں ہوئی، سوگواروں میں بیوہ ، تین بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں، انھیں صحافت کے شعبے میں اعلیٰ خدمات پر صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی سے بھی نوازا گیا ۔
علاوہ ازیں ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے سینئر صحافی ادریس بختیار کے انتقال پر گہرے دکھ و رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج صحافت کا ایک درخشندہ باب بند ہو گیا۔
ادریس بختیار کی علمی اور صحافتی خدمات مدتوں فراموش نہیں کی جا سکتیں، کثیرالمطالعہ شخص تھے، وہ ایک حساس اہل قلم ، ممتاز کالم نویس اور براڈ کاسٹر تھے، ان کی ماضی کی ڈیلی رپورٹنگ ملکی سیاسی صورتحال کا ایک انمول چیپٹر تھی، پاک سر زمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال نے بھی سینئر صحافی ادریس بختیار کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ، کراچی یونین آف جرنلسٹس نے بھی ادریس بختیار کے انتقال پر گہرے دکھ و رنج کا اظہار کیا ہے۔
ادریس بختیار اپنے50 سالہ دور صحافت میں بین الاقوامی اور مقامی ذرایع ابلاغ کے اداروں سے وابستہ رہے، ادریس بختیار پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے)دستوری کے صدر بھی رہے۔
ادریس بختیار نے ابتدائی تعلیم حیدرآباد میں مکمل کی اور بعد ازاں انھوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کراچی کے ایک اخبار سے کیا، وہ طویل عرصے تک بین الاقوامی نشریاتی ادارے بی بی سی کی اردو سروس سے وابستہ رہے، ادریس بختیار کی نماز جنازہ گلشن اقبال بلاک 13 ڈی ٹو میں واقع وسیم باغ کی مسجد فہیم میں جمعرات کو بعد نماز ظہرادا کی گئی، تدفین یاسین آباد قبرستان میں ہوئی، سوگواروں میں بیوہ ، تین بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں، انھیں صحافت کے شعبے میں اعلیٰ خدمات پر صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی سے بھی نوازا گیا ۔
علاوہ ازیں ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے سینئر صحافی ادریس بختیار کے انتقال پر گہرے دکھ و رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج صحافت کا ایک درخشندہ باب بند ہو گیا۔
ادریس بختیار کی علمی اور صحافتی خدمات مدتوں فراموش نہیں کی جا سکتیں، کثیرالمطالعہ شخص تھے، وہ ایک حساس اہل قلم ، ممتاز کالم نویس اور براڈ کاسٹر تھے، ان کی ماضی کی ڈیلی رپورٹنگ ملکی سیاسی صورتحال کا ایک انمول چیپٹر تھی، پاک سر زمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال نے بھی سینئر صحافی ادریس بختیار کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ، کراچی یونین آف جرنلسٹس نے بھی ادریس بختیار کے انتقال پر گہرے دکھ و رنج کا اظہار کیا ہے۔