روپے کی بے قدری کا ذمے دار انٹر بینک مارکیٹ کو قرار دیدیا گیا۔

اوپن مارکیٹ میں ڈالرکی قلت نہیں،درآمدی ادائیگیاں کمرشل بینکوں پرمنتقل ہونے سے انٹربینک میں روپے پردباؤ ہے

وفاقی وزیر نے پنجاب میں ایکس چینج کمپنیوں پرعائد کردہ سیلز ٹیکس کااقدام واپس لینے کی یقین دہانی کرادی۔ فوٹو: فائل

ISLAMABAD:
روپے کی تیزی سے گرتی ہوئی قدر کے حوالے سے اسٹیٹ بینک کراچی میں وفاقی وزیر خزانہ اور کرنسی ڈیلرز کے درمیان اہم ملاقات ہوئی۔

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہناہے کہ کرنسی ڈیلرز کی بیشتر تجاویز پر عمل درآمد کے باجود ڈالر کی قدر کیوں بڑھ رہی ہے اورکرنسی ڈیلز نے وفاقی وزیر خزانہ کو روپے کی قدر میں استحکام کے لیے مختلف آپشنز فراہم کردیے ۔ ایکس چینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک بوستان کا کہنا تھا کہ ایکس چینج کمپنیاں ڈالر امپورٹ کرنا چاہتی ہیِں، اسٹیٹ بینک نے اس کے لیے پالیسی بھی مرتب کرلی ہے تاہم جب تک بین الاقوامی آمد پر اسٹیٹ بینک کا بوتھ قائم نہیں ہوتا یہ قابل عمل نہیں ہوسکے گا۔




ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی آمد پر ڈالر ظاہرکر کے ملک میں لایا جاسکے گا، روپے کی قدر میں کمی کا مسئلہ انٹربینک مارکیٹ کے باعث ہے، اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی رسد کا کوئی مسئلہ نہیں، یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار انٹر بینک ریٹ اوپن مارکیٹ ریٹ سے بھی تجاوز کرگیا۔کرنسی ڈیلرز نے وفاقی وزیر خزانہ کو بتایا کہ پنجاب حکومت نے ایکس چنج کمپنیوں پر سیلز ٹیکس عائد کر دیا ہے جس کے بعد ڈالر کی قدر میں مزید 16فیصد اضافہ ہوجائے گا جس پر وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ پنجاب حکومت کا یہ اقدام غلط ہے اور اسے واپس لیا جائے گا۔

ملک بوستان کاکہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی شرط کے مطابق اسٹیٹ بینک سے درآمدی ادائیگیاں کمرشل بینکوں کی جانب منتقل ہوگئی ہیں اور اس وقت بینکوں کے ذریعے خام تیل کی درآمدی ادائیگیاں کی جارہی ہیں جس کی وجہ سے بھی انٹربینک میں روپے کی قدر پر دباؤ ہے۔کرنسی ڈیلرز نے بریفنگ میں وفاقی وزیر کو بتایا کہ جب تک انٹربینک میں ڈالر کی قدر میں استحکام نہیں ہوگا روپے کی قدر میں کمی ہونا مشکل ہے۔
Load Next Story