احتساب میں کسی سے رعایت نہیں ہوگی
بلاامتیاز سب کا احتساب کا جو بیانیہ پاک فوج نے جاری کیا ہے اس کی پیروی ریاست کے تمام اداروں کو کرنی چاہیے
بلاامتیاز سب کا احتساب کا جو بیانیہ پاک فوج نے جاری کیا ہے اس کی پیروی ریاست کے تمام اداروں کو کرنی چاہیے (فوٹو: فائل)
پاکستانی فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے حساس معلومات غیرملکی ایجنسیوں کو دینے کے جرم میں سابق جنرل کو قید ، بریگیڈیئر (ر)، سویلین کو سزائے موت دینے کی توثیق کردی۔
ڈی جی آئی ایس پی آرکے مطابق یہ سزائیں مسلح افواج میں ہرایک کے بلا امتیاز احتساب کا ثبوت ہیں۔ اس خبرکے منظرعام پر آنے سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ فوج کے افسران چاہے کسی بھی رینک کے ہوں وہ بھی احتساب کے دائرے میں یکساں شامل ہیں، پاک فوج ہماری قومی سلامتی کا رکھوالا ادارہ ہے ۔ یہ سزائیں آفیشل سروسز ایکٹ کے تحت سنائی گئی ہیں۔
ملک میں کوئی بھی آئینی عہدہ ، چاہے وہ فوجی ہو یا سول رکھنے کی صورت میں متعلقہ افسر کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ پر دستخط کرنے ہوتے ہیں جس کے تحت وہ عمر بھرکے لیے پابند ہوجاتے ہیں کہ وہ کسی بھی قسم کی خفیہ معلومات کسی بھی مرحلے پرکسی سے بھی شیئر نہیں کرسکتے۔
اسی پالیسی پر عمل پیرا ہونے کا ایک بڑا ثبوت سامنے آیا ہے جس کے تحت جاسوسی کے مرتکب اعلیٰ افسران کو سزائے موت اور قید بامشقت کی سخت سزائیں سنائی گئی ہیں۔ احتساب کا عمل شفافیت سے عبارت ہے اور وہ جوکہتے ہیں کہ احتساب وہی جو نظر آئے، یقینا احتساب ہوتا نظر آرہا ہے۔
پاک فوج کے مضبوط نظم و نسق کے موثر نظام کی بدولت ہی احتساب کا عمل جاری وساری ہے۔ کم وبیش دو دہائیوں سے خطہ دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے ہماری فوج اور قوم کی قربانیوں کی بدولت ہی آج ملک میں امن ہے۔ فوج ہمارا اہم ترین ادارہ ہے اور اس کے خلاف جو بھی سازش کرے گا چاہے وہ اندرونی ہو یا بیرونی سطح پر اس کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔
ریاست کے دیگر اہم ترین اداروں میں بھی گو احتساب کا نظام موجود ہے لیکن مقام افسوس ہے کہ ان اداروں میں احتساب کا عمل انتہائی سست روی کا شکار ہے جس کے باعث کرپشن کو فروغ ملا ہے، جس نے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ بعض قانون شکن عناصر ریاستی رٹ کو چیلنج کرکے پھر سے مملکت خدا داد کے لیے مسائل پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں،انھیں محتاط رہنا چاہیے کیونکہ قومی سلامتی ہر چیز پر فوقیت رکھتی ہے۔
بلاشبہ بلاامتیاز سب کا احتساب کا جو بیانیہ پاک فوج نے جاری کیا ہے اس کی پیروی ریاست کے تمام اداروں کو کرنی چاہیے۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ ریاست کے دیگر اداروں میں بھی یکساں احتساب کی پالیسی پر سختی سے عمل درآمد ہوگا۔ فوج کے اندر احتساب کا نظام بہت مضبوط ہے ،کاش! یہی نظام ملک کے ہر ہر ادارے میں لاگو ہوجائے تو ملک کی بقا ممکن ہوگی،احتساب میں رعایت کسی سے بھی نہ برتی جائے۔
ڈی جی آئی ایس پی آرکے مطابق یہ سزائیں مسلح افواج میں ہرایک کے بلا امتیاز احتساب کا ثبوت ہیں۔ اس خبرکے منظرعام پر آنے سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ فوج کے افسران چاہے کسی بھی رینک کے ہوں وہ بھی احتساب کے دائرے میں یکساں شامل ہیں، پاک فوج ہماری قومی سلامتی کا رکھوالا ادارہ ہے ۔ یہ سزائیں آفیشل سروسز ایکٹ کے تحت سنائی گئی ہیں۔
ملک میں کوئی بھی آئینی عہدہ ، چاہے وہ فوجی ہو یا سول رکھنے کی صورت میں متعلقہ افسر کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ پر دستخط کرنے ہوتے ہیں جس کے تحت وہ عمر بھرکے لیے پابند ہوجاتے ہیں کہ وہ کسی بھی قسم کی خفیہ معلومات کسی بھی مرحلے پرکسی سے بھی شیئر نہیں کرسکتے۔
اسی پالیسی پر عمل پیرا ہونے کا ایک بڑا ثبوت سامنے آیا ہے جس کے تحت جاسوسی کے مرتکب اعلیٰ افسران کو سزائے موت اور قید بامشقت کی سخت سزائیں سنائی گئی ہیں۔ احتساب کا عمل شفافیت سے عبارت ہے اور وہ جوکہتے ہیں کہ احتساب وہی جو نظر آئے، یقینا احتساب ہوتا نظر آرہا ہے۔
پاک فوج کے مضبوط نظم و نسق کے موثر نظام کی بدولت ہی احتساب کا عمل جاری وساری ہے۔ کم وبیش دو دہائیوں سے خطہ دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے ہماری فوج اور قوم کی قربانیوں کی بدولت ہی آج ملک میں امن ہے۔ فوج ہمارا اہم ترین ادارہ ہے اور اس کے خلاف جو بھی سازش کرے گا چاہے وہ اندرونی ہو یا بیرونی سطح پر اس کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔
ریاست کے دیگر اہم ترین اداروں میں بھی گو احتساب کا نظام موجود ہے لیکن مقام افسوس ہے کہ ان اداروں میں احتساب کا عمل انتہائی سست روی کا شکار ہے جس کے باعث کرپشن کو فروغ ملا ہے، جس نے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ بعض قانون شکن عناصر ریاستی رٹ کو چیلنج کرکے پھر سے مملکت خدا داد کے لیے مسائل پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں،انھیں محتاط رہنا چاہیے کیونکہ قومی سلامتی ہر چیز پر فوقیت رکھتی ہے۔
بلاشبہ بلاامتیاز سب کا احتساب کا جو بیانیہ پاک فوج نے جاری کیا ہے اس کی پیروی ریاست کے تمام اداروں کو کرنی چاہیے۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ ریاست کے دیگر اداروں میں بھی یکساں احتساب کی پالیسی پر سختی سے عمل درآمد ہوگا۔ فوج کے اندر احتساب کا نظام بہت مضبوط ہے ،کاش! یہی نظام ملک کے ہر ہر ادارے میں لاگو ہوجائے تو ملک کی بقا ممکن ہوگی،احتساب میں رعایت کسی سے بھی نہ برتی جائے۔