بینکوں میں تعینات نجی کمپنیوں کے بیشتر گارڈز کا اسلحہ ناکارہ نکلا
مالیاتی اداروں اوردیگر اہم مقامات پر ڈیوٹیاں انجام دینے والے گارڈز سیکیورٹی کے حوالے سے غیرتربیت یافتہ ہیں
ایس ایچ او پریڈی فاروق ستی نے کئی نجی بینکوں کے سیکیورٹی گارڈز کا اسلحہ چیک کیا جو کہ خراب تھا۔ فوٹو: فائل
شہر میں بینکوں، مالیاتی اداروں اور دیگر اہم مقامات پر ڈیوٹیاں انجام دینے والے نجی سیکیورٹی کمپنی کے بیشتر سیکیورٹی گارڈز کے پاس موجود اسلحہ ناکارہ ہے۔
بیشتر اسلحہ چلانا ہی نہیں جانتے، اس بات کا انکشاف ڈی آئی جی ساؤتھ کو اس وقت ہوا جب پولیس نے گارڈز کے زیر استعمال اسلحے کی جانچ کی، مذکورہ انکشاف کے بعد کراچی پولیس وزارت داخلہ سے سفارش کرے گی کہ ایسی نجی سیکیورٹی کمپنی کیخلاف کارروائی عمل میں لائی جائے، ڈی آئی ساؤتھ زون ڈاکٹر امیر شیخ اور ایس ایس پی ضلع ساؤتھ ناصر آفتاب کی ہدایت پر ایس ایچ او پریڈی فاروق ستی نے اپنے تھانے کی حدود میں عبد اﷲ ہارون روڈ پر واقع ایک نجی بینک پر ڈیوٹی انجام دینے والے نجی سیکیورٹی کمپنی کے گارڈ مجاہد کا اسلحہ چیک کیا، اس کا پستول ناکارہ نکلا جس میں فائر پن بھی موجود نہیں تھی۔
ریگل چوک پر واقع سندھ بینک میں تعینات نجی سیکیورٹی کمپنی کے گارڈ کے پاس موجود اسلحہ بھی ناکارہ نکلا ، اکبر روڈ پر واقع نجی بینک میں تعینات سیکیورٹی کمپنی کے گارڈ جمشید نے پولیس کو بتایا کہ وہ اسلحہ چلانا نہیں جانتا اس بات کا اس کی کمپنی کو بھی علم ہے، اسی طرح ایس ایس پی ضلع ویسٹ آصف اعجاز شیخ کی ہدایت پر ضلع ویسٹ میں بھی بینکوں پر ڈیوٹی کرنے والے نجی سیکیورٹی کمپنی کے گارڈز نا اہل نکلے، ڈی آئی جی ساؤتھ نے کہا ہے کہ بینکوں کے حکام پرائیوٹ سیکیورٹی کمپنی سے گارڈ حاصل کرتے وقت چھان بین کی ہوتی تو ایسے گارڈز بینکوں پر نہ ہوتے، سیکیورٹی کمپنیز نے بھی ذمے داری کا مظاہرہ نہیں کیا۔
واضح رہے کہ بینکوں میں متعدد ڈکیتی کی وارداتوں میں سیکیورٹی گارڈز ملوث ہونے کے معاملات سامنے آچکے ہیں،دوسری جانب بیشتر ایسے واقعات بھی آئے دن سامنے آتے رہتے ہیں کہ نجی کمپنیزکی سیکیورٹی گارڈز اپنی ہی رائفل سے اتفاقیہ گولی چلنے سے ہلاک یا زخمی ہو جاتے ہیں جو ان کی نا اہلی اور اسلحہ نہ چلانا آنے کی ٹھوس دلیل بھی ہے ایسے تمام واقعات متعلقہ تمام اداروں کیلیے سوالیہ نشان بن گیا ہے۔
بیشتر اسلحہ چلانا ہی نہیں جانتے، اس بات کا انکشاف ڈی آئی جی ساؤتھ کو اس وقت ہوا جب پولیس نے گارڈز کے زیر استعمال اسلحے کی جانچ کی، مذکورہ انکشاف کے بعد کراچی پولیس وزارت داخلہ سے سفارش کرے گی کہ ایسی نجی سیکیورٹی کمپنی کیخلاف کارروائی عمل میں لائی جائے، ڈی آئی ساؤتھ زون ڈاکٹر امیر شیخ اور ایس ایس پی ضلع ساؤتھ ناصر آفتاب کی ہدایت پر ایس ایچ او پریڈی فاروق ستی نے اپنے تھانے کی حدود میں عبد اﷲ ہارون روڈ پر واقع ایک نجی بینک پر ڈیوٹی انجام دینے والے نجی سیکیورٹی کمپنی کے گارڈ مجاہد کا اسلحہ چیک کیا، اس کا پستول ناکارہ نکلا جس میں فائر پن بھی موجود نہیں تھی۔
ریگل چوک پر واقع سندھ بینک میں تعینات نجی سیکیورٹی کمپنی کے گارڈ کے پاس موجود اسلحہ بھی ناکارہ نکلا ، اکبر روڈ پر واقع نجی بینک میں تعینات سیکیورٹی کمپنی کے گارڈ جمشید نے پولیس کو بتایا کہ وہ اسلحہ چلانا نہیں جانتا اس بات کا اس کی کمپنی کو بھی علم ہے، اسی طرح ایس ایس پی ضلع ویسٹ آصف اعجاز شیخ کی ہدایت پر ضلع ویسٹ میں بھی بینکوں پر ڈیوٹی کرنے والے نجی سیکیورٹی کمپنی کے گارڈز نا اہل نکلے، ڈی آئی جی ساؤتھ نے کہا ہے کہ بینکوں کے حکام پرائیوٹ سیکیورٹی کمپنی سے گارڈ حاصل کرتے وقت چھان بین کی ہوتی تو ایسے گارڈز بینکوں پر نہ ہوتے، سیکیورٹی کمپنیز نے بھی ذمے داری کا مظاہرہ نہیں کیا۔
واضح رہے کہ بینکوں میں متعدد ڈکیتی کی وارداتوں میں سیکیورٹی گارڈز ملوث ہونے کے معاملات سامنے آچکے ہیں،دوسری جانب بیشتر ایسے واقعات بھی آئے دن سامنے آتے رہتے ہیں کہ نجی کمپنیزکی سیکیورٹی گارڈز اپنی ہی رائفل سے اتفاقیہ گولی چلنے سے ہلاک یا زخمی ہو جاتے ہیں جو ان کی نا اہلی اور اسلحہ نہ چلانا آنے کی ٹھوس دلیل بھی ہے ایسے تمام واقعات متعلقہ تمام اداروں کیلیے سوالیہ نشان بن گیا ہے۔