جدہ اجلاس میں شاہ محمود قریشی کا بلیغ خطاب

اب عالمی برادری اور اسلامی تعاون تنظیم کے ارباب حل وعقد کا معاملہ ہے کہ وہ انصاف کی زنجیر ہلائیں

اب عالمی برادری اور اسلامی تعاون تنظیم کے ارباب حل وعقد کا معاملہ ہے کہ وہ انصاف کی زنجیر ہلائیں (فوٹو: فائل)

اسلامی تعاون تنظیم کے نمایندہ جدہ اجلاس نے یک دل یک زبان ہوکر کشمیر کے مظلوم عوام کی آزادی،حریت پسندی اور انسانی حقوق کی جدوجہد میں کامیابی کی دعائیں مانگی ہیں اور اقوام متحدہ پرزور دیا ہے کہ اس کے ایجنڈے اور پلیٹ فارم پر کشمیر کا فلیش پوائنٹ موجود ہے، جب کہ اب نہیں اور کبھی نہیں کی بنیاد پر اس انسانی مسئلہ کو جلد حل ہونا چاہیے۔

یہ صدا کانفرنس میں پاکستان نے عالمی سطح پر بلند کی ہے۔ مزید برآں پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں ، بھارتی فورسز کی جارحیت ، جاری تشدد و مظالم ، گرفتاریوں اور چھاپوں پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بدقسمتی سے کسی ایک جرم پر کبھی کسی مجرم کو سزا نہیں ملی، ایک انکوائری کمیشن تشکیل دیا جائے جومقبوضہ جموں وکشمیر میں غیرجانبدارانہ طورپر انسانی حقوق کی جاری سنگین خلاف ورزیوں کا تجزیہ کرکے ذمے داروں کا تعین کرے۔

جموں وکشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر دیرینہ ترین تصفیہ طلب مسئلہ ہے،صورتحال کا جوں کا توں برقرار رہنا اب مزید کسی صورت قابل قبول نہیں،اوآئی سی رابطہ گروپ دوٹوک انداز میں کشمیریوں اور ان کی حق خودارادیت کی جدوجہد کی حمایت کا اعادہ کرے، کشمیریوں کو مایوس نہیں کرینگے ، ان کے حق خودارادیت کے حصول میں ان کی حمایت جاری رہے گی۔

جمعرات کو اسلامی تعاون تنظیم کے چودہویں سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ میں آغازکلام میں ہی جموں وکشمیر پر رابطہ گروپ کا اہم اجلاس بلانے پر سیکریٹری جنرل اوآئی سی کا شکریہ اداکرنا چاہتا ہوں۔ انھوں نے کہاکہ میں تمام ساتھیوں اور شرکاء کو مخلصانہ ہدیہ تبریک پیش کرتا ہوں جو مقبوضہ جموں وکشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے یہاں موجود ہیں۔

انھوں نے کہاکہ اپ کی موجودگی اوربھرپور حمایت ان مظلوموں کے لیے باعث راحت اور تقویت ہے۔ انھوںنے کہاکہ ماضی کی طرح اس گروپ کا اجلاس بلایا جانا اہم ہے تاکہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے خطے میں انسانی حقوق کی انتہائی قابل افسوس اور بگڑتی ہوئی سنگین ترین صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔

انھوں نے کہاکہ 20 فروری 2019 کو پلوامہ واقعے کے بعد کشمیری انتہاء پسند ہندوؤں کی جانب سے کشمیریوں کو نشانہ بنانے کی رفتار اور واقعات میں اضافہ ہوگیا ہے اور بھارتی فوج کے اضافی دستے مقبوضہ جموں وکشمیر میں فوری طورپر تعینات کردیے گئے ،سینئر کشمیری قیادت مسلسل نظربندیوں اور قید کا نشانہ بن رہی ہے جب کہ بھارتی افواج جو دل میں آئے کرنے میں آزاد ہیں جسے 'آپریشن آل اؤٹ' کانام دیاگیا ہے۔

انھوں نے کہاکہ چھاپے، کرفیو، نظربندیاں، محاصرے، گرفتاریاں، جلاؤگھیراؤ، لاپتہ کیاجانا اور جعلی مقابلوں میں شہادتیں معمول بن چکا ہے۔ انھوں نے 2018کا سال بھارتی ریاستی دہشت گردی کے لحاظ سے بدترین ثابت ہوا جس میں پانچ سو سے زائد معصوم کشمیریوں کو شہید کیاگیا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ تشدد: مقبوضہ جموں کشمیر میں کنٹرول کا بھارتی ریاستی ہتھیار' پانچ سو ساٹھ صفحات پر مبنی شایع شدہ رپورٹ کا عنوان ہے جسے مقبوضہ جموں وکشمیر میں کام کرنے والی دو غیرسرکاری تنظیموں (این جی اوز) نے جاری کیا ہے۔ ان میں سے ایک تنظیم لاپتہ افراد کے والدین کی انجمن اور دوسری جموں وکشمیر کی سول سوسائٹی کے اتحاد کے نام سے معروف ہے۔


پاکستان کے مقدمہ کو عالمی قوتوں کے سامنے لاتے ہوئے انھوں نے اسلامی دنیا پر واضح کیا کہ مذکورہ رپورٹ میں ریاستی دہشت گردی کی وہ بھیانک تفصیلات بیان کی گئی ہیں کہ کس طرح بدترین تشدد کے ذریعے نہتے اور مظلوم کشمیریوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ یہ وحشیانہ کھیل دانستہ، بڑے پیمانے پر، بلاروک ٹوک اور منظم انداز میں کھیلا جارہا ہے تاکہ کشمیریوں کی زبان بندی کردی جائے اور وہ اپنے حق کا مطالبہ نہ کرسکیں۔

رپورٹ بتاتی ہے کہ کیسے ہر بڑا بھارتی ریاستی ادارہ بشمول مقننہ، انتظامیہ، عدلیہ اور مسلح افواج انسانیت کے خلاف جرائم میں ملی بھگت سے کام کررہا ہے۔انھوں نے کہاکہ اندوہناک ظلم کے لیے جو قبیح ہتھیار استعمال کیے جارہے ہیں، ان میں قیدیوں کو بے لباس کرنا، ڈنڈوں اور آہنی راڈزسے تشددکا نشانہ بنانا، چمڑے کی پیٹی، رولر ٹریٹمنٹ، پانی میں ڈبونا، نشہ پلانا، برقی جھٹکے دینا، چھت سے لٹکانا، جسم اور اس کے نازک حصوں کو جلانا، سونے نہ دینا، قید تنہائی اور جنسی تشدد شامل ہے۔

انھوں نے کہاکہ بدقسمتی سے کسی ایک جرم پر کبھی کسی مجرم کو سزا نہیں ملی۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ تاخیر سے ہی سہی لیکن دنیا نے اب اس ظلم کو محسوس کرنا شروع کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق (اوایچ سی ایچ آر) اور برطانوی کل جماعتی کشمیر گروپ کی رپورٹس نے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی دستاویز بندی کر دی ہے۔

انھوں نے کہاکہ یہ حقائق انھوں نے او آئی سی کے غیرجانبدار مستقل انسانی حقوق کمیشن سے حاصل کیے ہیں۔ او ایچ سی ایچ آر رپورٹ نے مطالبہ کیا ہے کہ ایک انکوائری کمیشن تشکیل دیا جائے جومقبوضہ جموں وکشمیر میں غیرجانبدارانہ طورپر انسانی حقوق کی جاری سنگین خلاف ورزیوں کا تجزیہ کرکے ذمے داروں کا تعین کرے۔انھوںنے کہا کہ یورپی پارلیمان کی انسانی حقوق کے لیے ذیلی کمیٹی کی تاریخی سماعت میں ارکان پارلیمان نے اس رپورٹ کی سفارشات پر بہت زیادہ انحصار کیا ہے۔

انھوں نے جموں وکشمیر کے عوام کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق تنازعہ کے حل کا مطالبہ کیا ہے۔ انھوں نے کہاکہ جموں وکشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر دیرینہ ترین تصفیہ طلب مسئلہ ہے۔ کشمیری نسلوں نے ان وعدوں کو ٹوٹتے اور اپنے خوابوں کو بکھرتے دیکھا ہے۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ جب کشمیری نوجوان گلیوں وبازاروں میں نکلتے ہیں تو یہ ان کا بھارت سے بیزاری اور اس پر عدم اعتماد کا اعلان ہوتا ہے۔انھوںنے کہاکہ یہ اس حقیقت کی بھی غمازی ہے کہ صورتحال کا جوں کا توں برقرار رہنا اب مزید کسی صورت قابل قبول نہیں۔

انھوں نے کہاکہ ہماری توقع ہے کہ او آئی سی رابطہ گروپ دوٹوک انداز میں کشمیریوں اور ان کی حق خود ارادیت کی جدوجہد کی حمایت کا اعادہ کرے۔انھوں نے کہا کہ ہم یہ بھی توقع کرتے ہیں کہ گروپ اوآئی سی۔آئی پی ایچ آر سی کا حقائق معلوم کرنے والے مشن کو بھجوانے کے اپنے مطالبے کو دہرائے کہ وہ مقبوضہ جموں کشمیر جاکر وہاں انسانی حقوق کی سنگین ترین خلاف ورزیوں کا جائزہ لے۔

یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کے وزیرخارجہ نے اپنا دل اورمافی الضمیر کھول کر دنیا کے سارے ملکوں کے سامنے آئینہ رکھ دیا ہے، انھوں نے مقبوضہ وادی میں انسانی ظلم وستم اور بربریت کی ان دیکھی داستان بیان کی ہے، جس میں کوئی مبالغہ اور فکشن نہیں ہے،صاف صاف حقائق بیان کیے ہیں اور بھارت کے ظلم کی سیاہ رات کا بیانیہ انسانیت کے آگے پیش کردیا ہے۔

اب عالمی برادری اور اسلامی تعاون تنظیم کے ارباب حل وعقد کا معاملہ ہے کہ وہ انصاف کی زنجیر ہلائیں، دنیا سے بربریت اور فسطائیت کا خاتمہ کریں۔ پاکستان نے ہمیشہ کشمیر ایشوکو میرٹ پر حل کرنے اور امن کو ایک چانس دینے کی بات کی ہے، اب ضرورت اس بات کی ہے کہ بھارت میں نریندر مودی نیا مینڈیٹ پھر سے لے کر آرہے ہیں ،انھیں کشمیر مسئلہ پر ڈپلومیسی کو انسانیت کے خون سے آلودہ کیے بغیر انصاف سے کام لینا چاہیے۔ بھارت کشمیری عوام کے حق خودارادیت کو تسلیم کرکے عالم اسلام اور دنیا میں امن و آسودگی اور بقائے باہمی کے کاز کے ساتھ دنیا کو بہتر چوائس دے سکتا ہے۔
Load Next Story