مزید 2 بم برآمد جنجال گوٹھ اور سبزی منڈی تباہی سے بچ گئی
گنا منڈی کے قریب 10 اور جنجال گوٹھ میں 8 کلو وزنی بم رکھا گیا تھا، بم ڈسپوزل یونٹ نے ناکارہ بنایا،پولیس نے علاقے کو۔۔۔
سہراب گوٹھ پولیس کے ہاتھوں گنا منڈی سے برآمد ہونے والا دھماکا خیز مواد تھانے میں رکھا ہوا ہے۔ فوٹو : پی پی آئی
لاہور:
سہراب گوٹھ میں واقع جنجال گوٹھ اور نیو سبزی منڈی تباہی سے بچ گئی، گنا منڈی کے قریب 10 کلو وزنی بم اور جنجال گوٹھ میں رکھا جانے والا 8 کلو وزنی بم بم ڈسپوزل یونٹ نے ناکارہ بنا دیا۔
گنا منڈی میں رکھے گئے بم کی نشاندہی کچرا چننے والے افغانی بچوں نے کی، بروقت اطلاع پر پولیس نے موقع پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا،شبہ ہے کہ دونوں بم دہشت گردوں کی جانب سے قانون نافذ کرنے والے ادارے کو نشانہ بنانے کے لیے رکھے گئے تھے، تفصیلات کے مطابق سہراب گوٹھ کے علاقے سپر ہائی وے گنا منڈی کے قریب کچرا چننے والے افغانی بچوں نے کچرا کنڈی میں مشکوک ٹین کے ڈبے کو دیکھ کر وہاں پر موجود افراد کو بتایا جس پر فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی گئی، بم کی اطلاع پر پولیس کی بھاری نفری نے موقع پر پہنچ کر 3 کلو میٹر تک کے علاقے کو اپنے گھیرے میں لے کر وہاں پر موجود افراد کو دور ہٹا دیا جبکہ سپر ہائی وے کو عام ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا جس کی وجہ سے دونوں جانب گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔
پولیس نے فوری طور پر بم ڈسپوزل یونٹ کے عملے کو طلب کرلیا جس نے سخت جدوجہد کے بعد بم کو ناکارہ بنا دیا، اس حوالے سے ایس ایچ او سہراب گوٹھ انسپکٹر نعیم خان نے بتایا کہ بم ٹین کے ڈبے میں بنایا گیا تھا جس پر دہشت گردوں نے چاروں جانب سے پلاسٹک ٹیپ لپیٹ دی تھی تاکہ پتہ نہ چل سکے۔
انھوں نے بتایا کہ بی ڈی ایس نے اپنی رپورٹ بتایا کہ دہشت گردوں کی جانب سے ٹین کے ڈبے میں 10 کلو گرام دھماکا خیز مواد میں 3 کلو بال بیرنگ، کیلیں اور نٹ بولٹ بھی استعمال کیے تھے جبکہ بم کو 2 ڈیٹونیٹر اور ریموٹ کنٹرول ڈیوائس سے منسلک کیا گیا تھا، دہشت گردوں نے بم کو یونی ڈائریکشن کے تحت مین سپر ہائی وے کے رخ پر رکھا تھا تاکہ اس کے پھٹنے سے اپنے مطلوبہ ہدف کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جا سکے۔
پولیس ابھی ناکارہ بنائے جانے والے بم کی تحقیقات میں مصروف تھی کہ وہاں سے کچھ ہی فاصلے پر پولیس کو دوسرے بم کی اطلاع ملی جو کہ دہشت گردوں نے جنجال گوٹھ سپر ہائی وے کے قریب رکھا تھا، جس پر وہیں موجود بم ڈسپوزل یونٹ کے عملے نے موقع پر پہنچ ناکارہ بنا گیا، بم ڈسپوزل اسکواڈ کے مطابق دوسرا بم بھی دہشت گردوں نے ٹین کے ڈبے میں ہی بنایا تھا جس میں 8 کلو گرام دھماکا خیز مواد کے علاوہ 3 کلو بال بیرنگ ، نٹ بولٹ اور کیلیں بھی استعمال کی گئی تھیں، دوسرے بم کو بھی ریموٹ کنٹرول ڈیوائس سے منسلک کیا گیا تھا، ایس ایچ او سہراب گوٹھ کا کہنا ہے کہ ناکارہ بنائے جانیوالے دونوں بم کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گردوں نے رکھے تھے جو کہ وہاں سے گزرنے والے قانون نافذ کرنے والے ادارے کے کانوائے کو نشانہ بنانا چاہتے تھے، اگر دونوں بم پھٹ جاتے تو علاقے میں نہ صرف بڑی تباہی پھیل جاتی بلکہ بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا بھی بھی ہو سکتا تھا۔
سہراب گوٹھ میں واقع جنجال گوٹھ اور نیو سبزی منڈی تباہی سے بچ گئی، گنا منڈی کے قریب 10 کلو وزنی بم اور جنجال گوٹھ میں رکھا جانے والا 8 کلو وزنی بم بم ڈسپوزل یونٹ نے ناکارہ بنا دیا۔
گنا منڈی میں رکھے گئے بم کی نشاندہی کچرا چننے والے افغانی بچوں نے کی، بروقت اطلاع پر پولیس نے موقع پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا،شبہ ہے کہ دونوں بم دہشت گردوں کی جانب سے قانون نافذ کرنے والے ادارے کو نشانہ بنانے کے لیے رکھے گئے تھے، تفصیلات کے مطابق سہراب گوٹھ کے علاقے سپر ہائی وے گنا منڈی کے قریب کچرا چننے والے افغانی بچوں نے کچرا کنڈی میں مشکوک ٹین کے ڈبے کو دیکھ کر وہاں پر موجود افراد کو بتایا جس پر فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی گئی، بم کی اطلاع پر پولیس کی بھاری نفری نے موقع پر پہنچ کر 3 کلو میٹر تک کے علاقے کو اپنے گھیرے میں لے کر وہاں پر موجود افراد کو دور ہٹا دیا جبکہ سپر ہائی وے کو عام ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا جس کی وجہ سے دونوں جانب گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔
پولیس نے فوری طور پر بم ڈسپوزل یونٹ کے عملے کو طلب کرلیا جس نے سخت جدوجہد کے بعد بم کو ناکارہ بنا دیا، اس حوالے سے ایس ایچ او سہراب گوٹھ انسپکٹر نعیم خان نے بتایا کہ بم ٹین کے ڈبے میں بنایا گیا تھا جس پر دہشت گردوں نے چاروں جانب سے پلاسٹک ٹیپ لپیٹ دی تھی تاکہ پتہ نہ چل سکے۔
انھوں نے بتایا کہ بی ڈی ایس نے اپنی رپورٹ بتایا کہ دہشت گردوں کی جانب سے ٹین کے ڈبے میں 10 کلو گرام دھماکا خیز مواد میں 3 کلو بال بیرنگ، کیلیں اور نٹ بولٹ بھی استعمال کیے تھے جبکہ بم کو 2 ڈیٹونیٹر اور ریموٹ کنٹرول ڈیوائس سے منسلک کیا گیا تھا، دہشت گردوں نے بم کو یونی ڈائریکشن کے تحت مین سپر ہائی وے کے رخ پر رکھا تھا تاکہ اس کے پھٹنے سے اپنے مطلوبہ ہدف کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جا سکے۔
پولیس ابھی ناکارہ بنائے جانے والے بم کی تحقیقات میں مصروف تھی کہ وہاں سے کچھ ہی فاصلے پر پولیس کو دوسرے بم کی اطلاع ملی جو کہ دہشت گردوں نے جنجال گوٹھ سپر ہائی وے کے قریب رکھا تھا، جس پر وہیں موجود بم ڈسپوزل یونٹ کے عملے نے موقع پر پہنچ ناکارہ بنا گیا، بم ڈسپوزل اسکواڈ کے مطابق دوسرا بم بھی دہشت گردوں نے ٹین کے ڈبے میں ہی بنایا تھا جس میں 8 کلو گرام دھماکا خیز مواد کے علاوہ 3 کلو بال بیرنگ ، نٹ بولٹ اور کیلیں بھی استعمال کی گئی تھیں، دوسرے بم کو بھی ریموٹ کنٹرول ڈیوائس سے منسلک کیا گیا تھا، ایس ایچ او سہراب گوٹھ کا کہنا ہے کہ ناکارہ بنائے جانیوالے دونوں بم کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گردوں نے رکھے تھے جو کہ وہاں سے گزرنے والے قانون نافذ کرنے والے ادارے کے کانوائے کو نشانہ بنانا چاہتے تھے، اگر دونوں بم پھٹ جاتے تو علاقے میں نہ صرف بڑی تباہی پھیل جاتی بلکہ بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا بھی بھی ہو سکتا تھا۔