آئینی طور پر خط لکھنا ممکن نہیں پھر بھی مشاورت کرینگے کائرہ
قبل ازوقت الیکشن کا ارادہ نہیں، سپریم کورٹ کی درمیانی راستہ نکالنے کی بات اچھی ہے، رحمن ملک
قبل ازوقت الیکشن کا ارادہ نہیں، سپریم کورٹ کی درمیانی راستہ نکالنے کی بات اچھی ہے، رحمن ملک ۔ فوٹو: فائل
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے عدالت کے احترام میں پیش ہونے کو ترجیح دی ہے' پیپلز پارٹی نے تحفظات کے باوجود ہمیشہ عدالتی فیصلوں کا احترام اور ان پر عملدرآمد کیا ہے'عدالت نے این آر او فیصلے کے حوالے سے درمیانی راستہ نکالنے کی بات کی ہے' جو لوگ کہتے ہیں کہ ہم عدالتوں کا احترام نہیں کرتے وہ عوام کو بتائیں کہ پی پی پی نے کون سے عدالتی فیصلہ پر عمل نہیں کیا۔ پیر کو یہاں سپریم کورٹ میں این آر او فیصلہ کی سماعت سے قبل ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے تحفظات کے باوجود عدالتی فیصلوں پر ہمیشہ عملدرآمد کیا ہے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہمارے قائد کا عدالتی قتل کیا گیا لیکن اس کے باوجود فیصلہ تسلیم کیا اور عدلیہ کا احترام نہیں چھوڑا'حال ہی میں عدلیہ نے توہین عدالت کا قانون ختم کیا پھر بھی ہم نے عدلیہ کا احترام ملحوظ خاطر رکھا اور آئندہ بھی کیا کرینگے۔ انھوں نے کہا کہ عدالتی فیصلوں سے اتفاق کرنا ضروری نہیں لیکن عملدرآمد ضرور کریں گے۔ قمر زمان کائرہ نے کہا کہ ہم ہمیشہ عدلیہ سے بہتری کی توقع رکھتے ہیں کہ کچھ تو ہمیں بھی انصاف ملے گا۔ وفاقی وزیر نے ایک سوال پر کہا کہ آئینی طور پر سوئس حکام کو خط لکھنا ممکن نہیں لیکن پھر بھی بطور اتحادی حکومت ہم اپنے اتحادیوں اور دوستوں سے تمام معاملات پر مشاورت کریں گے۔
وزیراعظم کا عہدہ سب سے بڑا عہدہ ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود انھوں نے عدالت کے احترام میں پیش ہونے کو ترجیح دی ہے'حکومت کی جانب سے یقین دہانی ملنے کے بعد ہمیشہ مہلت دی گئی ہے۔ وزراء کی جانب سے عدلیہ کی تضحیک کے حوالے سے سوال پر انھوں نے کہا کہ اگر عدالت ایسے وزراء کے نام بتاتی تو ہم ان کے خلاف کچھ کرتے'کاش کبھی پارلیمنٹ کی تضحیک کی بات بھی کوئی کرے۔ انھوں نے کہا کہ جس طرح جج مشاورت سے فیصلہ کرتے ہیں اسی طرح ہم بھی مشاورت کے بعد اقدامات اٹھاتے ہیں۔
نمائندہ ایکسپریس کے مطابق انھوں نے کہا کہ عدالت عظمیٰ کی طرف سے درمیانی راستہ نکالنے کی بات اچھی ہے، قبل ازوقت الیکشن کاکوئی ارادہ نہیں، تمام معاملات اپنے اتحادیوں کے ساتھ مشاورت سے طے کرتے ہیں ۔ انھوں نے کہاکہ میںسمجھتا ہوں کہ گزشتہ فیصلہ درست نہیںتھامگر میں عدالت آنایااس کااحترام کرنانہیں چھوڑسکتا۔ علاوہ ازیں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہا ہے کہ عدلیہ اور حکومت دونوں چاہتی ہیں کہ این آر او عملدرآمد کیس میں کوئی درمیانی راستہ نکالاجائے جو کہ خوش آئندبات ہے۔
عدالت نے سوئس حکام کونیاخط لکھنے کیلیے نہیںملک قیوم کی طرف سے لکھاگیا پہلاخط واپس لینے اوراسے منسوخ کرنے کی بات کی ہے۔ وزیراعظم نہ توخلاف آئین کوئی اقدام کریں گے نہ ہی ہونے دیں گے۔ ہم نے ہمیشہ عدلیہ کااحترام کیا ہے اور آئندہ بھی کرتے رہیںگے دوسروںکی طرح حملہ آورنہیںہوتے۔ آسمان پر بادل کلیئرہونے کا وقت آگیا ہے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہمارے قائد کا عدالتی قتل کیا گیا لیکن اس کے باوجود فیصلہ تسلیم کیا اور عدلیہ کا احترام نہیں چھوڑا'حال ہی میں عدلیہ نے توہین عدالت کا قانون ختم کیا پھر بھی ہم نے عدلیہ کا احترام ملحوظ خاطر رکھا اور آئندہ بھی کیا کرینگے۔ انھوں نے کہا کہ عدالتی فیصلوں سے اتفاق کرنا ضروری نہیں لیکن عملدرآمد ضرور کریں گے۔ قمر زمان کائرہ نے کہا کہ ہم ہمیشہ عدلیہ سے بہتری کی توقع رکھتے ہیں کہ کچھ تو ہمیں بھی انصاف ملے گا۔ وفاقی وزیر نے ایک سوال پر کہا کہ آئینی طور پر سوئس حکام کو خط لکھنا ممکن نہیں لیکن پھر بھی بطور اتحادی حکومت ہم اپنے اتحادیوں اور دوستوں سے تمام معاملات پر مشاورت کریں گے۔
وزیراعظم کا عہدہ سب سے بڑا عہدہ ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود انھوں نے عدالت کے احترام میں پیش ہونے کو ترجیح دی ہے'حکومت کی جانب سے یقین دہانی ملنے کے بعد ہمیشہ مہلت دی گئی ہے۔ وزراء کی جانب سے عدلیہ کی تضحیک کے حوالے سے سوال پر انھوں نے کہا کہ اگر عدالت ایسے وزراء کے نام بتاتی تو ہم ان کے خلاف کچھ کرتے'کاش کبھی پارلیمنٹ کی تضحیک کی بات بھی کوئی کرے۔ انھوں نے کہا کہ جس طرح جج مشاورت سے فیصلہ کرتے ہیں اسی طرح ہم بھی مشاورت کے بعد اقدامات اٹھاتے ہیں۔
نمائندہ ایکسپریس کے مطابق انھوں نے کہا کہ عدالت عظمیٰ کی طرف سے درمیانی راستہ نکالنے کی بات اچھی ہے، قبل ازوقت الیکشن کاکوئی ارادہ نہیں، تمام معاملات اپنے اتحادیوں کے ساتھ مشاورت سے طے کرتے ہیں ۔ انھوں نے کہاکہ میںسمجھتا ہوں کہ گزشتہ فیصلہ درست نہیںتھامگر میں عدالت آنایااس کااحترام کرنانہیں چھوڑسکتا۔ علاوہ ازیں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہا ہے کہ عدلیہ اور حکومت دونوں چاہتی ہیں کہ این آر او عملدرآمد کیس میں کوئی درمیانی راستہ نکالاجائے جو کہ خوش آئندبات ہے۔
عدالت نے سوئس حکام کونیاخط لکھنے کیلیے نہیںملک قیوم کی طرف سے لکھاگیا پہلاخط واپس لینے اوراسے منسوخ کرنے کی بات کی ہے۔ وزیراعظم نہ توخلاف آئین کوئی اقدام کریں گے نہ ہی ہونے دیں گے۔ ہم نے ہمیشہ عدلیہ کااحترام کیا ہے اور آئندہ بھی کرتے رہیںگے دوسروںکی طرح حملہ آورنہیںہوتے۔ آسمان پر بادل کلیئرہونے کا وقت آگیا ہے۔