وفاق کی رپورٹ میں مہاجر ریپبلکن آرمی کا انکشاف لیاری میں بڑے آپریشن سے گریز
صوبائی حکومت کوغیرمعروف تنظیم کے ارکان کی نشاندہی کرکے کارروائی کرنے اور ڈبل سواری پرپابندی کی تجاویز
صوبائی حکومت کوغیرمعروف تنظیم کے ارکان کی نشاندہی کرکے کارروائی کرنے اور ڈبل سواری پرپابندی کی تجاویز. فوٹو: فائل
وفاق حکومت نے کراچی میں ''مہاجرریپبلکن آرمی''کے موجودگی کاانکشاف کرتے ہوئے صوبائی حکومت کواس کے ارکان کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کیلیے کہاہے۔
کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں کراچی بدامنی کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل منیراے ملک نے وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے ایک رپورٹ پیش کی جس میں کہاگیاکہ کراچی میں لسانی،فرقہ وارانہ اور ٹارگٹ کلنگ ہوتی ہے،وقت کے ساتھ ساتھ جرائم پیشہ گروہ مضبوط ہوگئے ہیں اورانھیں سیاسی سرپرستی بھی حاصل ہے،رپورٹ وفاقی سیکریٹری داخلہ اورڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس بیورکے کراچی کے دورے کے بعدمرتب کی گئی،رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت کے اقتدارمیں آنے کے بعدکراچی میں جاری قتل و غارت کی روک تھام پرپوری توجہ دی گئی،اس سلسلے میں وزیر داخلہ نے خود بھی کراچی کا دورہ کرکے وزیر اعلی سمیت تمام اسٹیک ہولڈرزسے ملاقاتیں کیں،رینجرزاورپولیس کے سربراہوں سے بھی رابطہ کیا گیا۔
15ستمبرسے 44لاکھ سے زیادہ غیررجسٹرڈ سمیں بندکردی جائیں گی،کراچی کو مختلف خطرات کا سامنا ہے، بڑے خطرات میں دہشت گردی،فرقہ وارانہ، لسانی اور سیاسی قتل شامل ہیں، جرائم پیشہ گروپوں نے منظم شکل اختیار کرلی ہے،اسمگلنگ، منشیات،بھتا،زمینوں پرغیرقانونی قبضے اورناجائزاسلحہ عام ہو چکاہے،رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ آئی ایس آئی اورآئی بی جرائم پیشہ گروہوں کی مرکزی اوردوسرے درجے کی قیادت کی نشاندہی کرناچاہیے،رپورٹ میں مہاجرریپبلکن آرمی نامی تنظیم کابھی نام لیاگیااوراس کے ارکان کی نشاندہی کے بعدان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی تجویزدی گئی،رپورٹ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ لیاری میں قیام امن کے لیے پولیس اور رینجرزکی نفری بڑھائی جائے۔
عثمان آباد،کھارادر اور دیگر علاقوں میں سیکیورٹی اور مانیٹرنگ میں اضافہ کیاجائے،لیاری میں بڑے آپریشن سے گریزکیاجائے کہیں ایسا نہ ہو کہ نئے محاذ کھل جائیں،ضرورت پڑنے پرلیاری میں موبائل فون اورڈبل سواری پر پابندی عائد کی جائے،کچھی برادری کے آبادی کے علاقوں میں فورسزاورسیکیورٹی نمایاں ہونی چاہیے تاہم ٹھٹھہ اوربدین میں بیدخل ہونیوالے کچھی برادری کی نجی افرادکی جانب سے مالی معاونت کرنیوالوںکاسراغ لگانے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔
کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں کراچی بدامنی کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل منیراے ملک نے وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے ایک رپورٹ پیش کی جس میں کہاگیاکہ کراچی میں لسانی،فرقہ وارانہ اور ٹارگٹ کلنگ ہوتی ہے،وقت کے ساتھ ساتھ جرائم پیشہ گروہ مضبوط ہوگئے ہیں اورانھیں سیاسی سرپرستی بھی حاصل ہے،رپورٹ وفاقی سیکریٹری داخلہ اورڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس بیورکے کراچی کے دورے کے بعدمرتب کی گئی،رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت کے اقتدارمیں آنے کے بعدکراچی میں جاری قتل و غارت کی روک تھام پرپوری توجہ دی گئی،اس سلسلے میں وزیر داخلہ نے خود بھی کراچی کا دورہ کرکے وزیر اعلی سمیت تمام اسٹیک ہولڈرزسے ملاقاتیں کیں،رینجرزاورپولیس کے سربراہوں سے بھی رابطہ کیا گیا۔
15ستمبرسے 44لاکھ سے زیادہ غیررجسٹرڈ سمیں بندکردی جائیں گی،کراچی کو مختلف خطرات کا سامنا ہے، بڑے خطرات میں دہشت گردی،فرقہ وارانہ، لسانی اور سیاسی قتل شامل ہیں، جرائم پیشہ گروپوں نے منظم شکل اختیار کرلی ہے،اسمگلنگ، منشیات،بھتا،زمینوں پرغیرقانونی قبضے اورناجائزاسلحہ عام ہو چکاہے،رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ آئی ایس آئی اورآئی بی جرائم پیشہ گروہوں کی مرکزی اوردوسرے درجے کی قیادت کی نشاندہی کرناچاہیے،رپورٹ میں مہاجرریپبلکن آرمی نامی تنظیم کابھی نام لیاگیااوراس کے ارکان کی نشاندہی کے بعدان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی تجویزدی گئی،رپورٹ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ لیاری میں قیام امن کے لیے پولیس اور رینجرزکی نفری بڑھائی جائے۔
عثمان آباد،کھارادر اور دیگر علاقوں میں سیکیورٹی اور مانیٹرنگ میں اضافہ کیاجائے،لیاری میں بڑے آپریشن سے گریزکیاجائے کہیں ایسا نہ ہو کہ نئے محاذ کھل جائیں،ضرورت پڑنے پرلیاری میں موبائل فون اورڈبل سواری پر پابندی عائد کی جائے،کچھی برادری کے آبادی کے علاقوں میں فورسزاورسیکیورٹی نمایاں ہونی چاہیے تاہم ٹھٹھہ اوربدین میں بیدخل ہونیوالے کچھی برادری کی نجی افرادکی جانب سے مالی معاونت کرنیوالوںکاسراغ لگانے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔