پارکنگ فیس گاڑیوں کیلیے 20 اور موٹر سائیکل کے 5 روپے مقرر ہیں میئر کراچی
عوام زائد فیس ہرگزادا نہ کریں،چارجڈ پارکنگ مافیا کیخلاف پولیس سخت ایکشن لے،میٹروپولیٹن کمشنرسیف الرحمن
حکومت سندھ کی جانب سے بلدیہ عظمیٰ کی روکی گئی رقم فوری جاری کی جائے، وسیم اختر ، وزیر اعلیٰ کو خط میں پھرمطالبہ فوٹو : فائل
میئرکراچی وسیم اختر نے شہر میں چارجڈ پارکنگ مافیا کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں سے عوام کی پریشانی پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور عوام سے کہا کہ شہر میں چارجڈ پارکنگ فیس گاڑیوں کیلیے 20 روپے اور موٹر سائیکل کے 5 روپے مقرر ہیں تاہم عوام اس سے زیادہ ہرگز ادا نہ کریں۔
چارجڈ پارکنگ کے حوالے سے اعلیٰ سطح اجلاس منعقد ہوا جس میں میٹروپولیٹن کمشنر ڈاکٹر سیف الرحمن، سینئرڈائریکٹر آرڈی نیشن مسعود عالم، ڈائریکٹر چارجڈ پارکنگ عبدالخالق بلوچ اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ شہر میں اس وقت 200 سے زائد جگہوں پر چارجڈ پارکنگ فیس وصول کی جا رہی ہے ان میں کے ایم سی کی صرف31 جگہیں ہیں جن میں سے چار بند ہیں باقی تمام مقامات ڈی ایم سی،یونین کونسل، کنٹونمنٹ بورڈ سمیت دیگر اداروں اور بعض جگہوں پر مافیا اس میں ملوث ہے اور وہاں بہت زیادہ فیس وصول کی جارہی ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ایس ایل جی اے2013 شیڈول 5 پارٹ1آئٹم۔ 9 کے تحت بلدیہ عظمیٰ کراچی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ شہر میں چارجڈ پارکنگ فیس وصول کرے جبکہ ڈی ایم سی سمیت دیگر ادارے بلدیہ عظمیٰ کراچی کی منظوری سے ہی یہ فیس وصول کرسکتے ہیں مگر کسی ادارے نے چارجڈ پارکنگ فیس وصول کرنے کے لیے کے ایم سی سے اجازت نہیں لی۔
میئر کراچی وسیم اختر نے وزیر اعلیٰ کو تازہ خط میں یاددہانی کرائی ہے کہ حکومت سندھ کے محکمہ مالیات نے رواں مالی سال کے ڈسٹرکٹ اے ڈی پی کے لیے میزانیے میںکے ایم سی کے منظور شدہ بجٹ میں سے بھی 2500.500 ملین روپے کی رقم ابھی تک ادا نہیں کیے جس کی وجہ سے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ترقیاتی کاموں سمیت تمام امور تقریباً بند ہیں ، رواں مالی سال کے دوران ترقیاتی مد میں روکی گئی 2500.500 ملین روپے کی رقم کو فوری جاری کیا جائے تاکہ شہر میں جاری ترقیاتی اسکیموں کو مکمل کیا جاسکے۔
چارجڈ پارکنگ کے حوالے سے اعلیٰ سطح اجلاس منعقد ہوا جس میں میٹروپولیٹن کمشنر ڈاکٹر سیف الرحمن، سینئرڈائریکٹر آرڈی نیشن مسعود عالم، ڈائریکٹر چارجڈ پارکنگ عبدالخالق بلوچ اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ شہر میں اس وقت 200 سے زائد جگہوں پر چارجڈ پارکنگ فیس وصول کی جا رہی ہے ان میں کے ایم سی کی صرف31 جگہیں ہیں جن میں سے چار بند ہیں باقی تمام مقامات ڈی ایم سی،یونین کونسل، کنٹونمنٹ بورڈ سمیت دیگر اداروں اور بعض جگہوں پر مافیا اس میں ملوث ہے اور وہاں بہت زیادہ فیس وصول کی جارہی ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ایس ایل جی اے2013 شیڈول 5 پارٹ1آئٹم۔ 9 کے تحت بلدیہ عظمیٰ کراچی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ شہر میں چارجڈ پارکنگ فیس وصول کرے جبکہ ڈی ایم سی سمیت دیگر ادارے بلدیہ عظمیٰ کراچی کی منظوری سے ہی یہ فیس وصول کرسکتے ہیں مگر کسی ادارے نے چارجڈ پارکنگ فیس وصول کرنے کے لیے کے ایم سی سے اجازت نہیں لی۔
میئر کراچی وسیم اختر نے وزیر اعلیٰ کو تازہ خط میں یاددہانی کرائی ہے کہ حکومت سندھ کے محکمہ مالیات نے رواں مالی سال کے ڈسٹرکٹ اے ڈی پی کے لیے میزانیے میںکے ایم سی کے منظور شدہ بجٹ میں سے بھی 2500.500 ملین روپے کی رقم ابھی تک ادا نہیں کیے جس کی وجہ سے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ترقیاتی کاموں سمیت تمام امور تقریباً بند ہیں ، رواں مالی سال کے دوران ترقیاتی مد میں روکی گئی 2500.500 ملین روپے کی رقم کو فوری جاری کیا جائے تاکہ شہر میں جاری ترقیاتی اسکیموں کو مکمل کیا جاسکے۔