کالا دھن ظاہر کر کے بینک میں رکھنے کی شرط نقصان دہ ہے بروکرز

سب اکاونٹس اور انویسٹرزاکاونٹس میں پڑی سیکیورٹیز بھی فیئر مارکیٹ ویلیو پر ظاہر کرنے کی اجازت دینے کی تجویز

چیئرمین ایف بی آر تجویز مان لیتے ہیں تو معیشت اور اسٹاک مارکیٹ میں بہتری آئے گی ،حماد نذیر کا چیئرمین ایف بی آرکوخط ۔فوٹو: فائل

MUMBAI:
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے بروکرز نے ایسٹ ڈکلیئریشن اسکیم میں کالے دھن کو ظاہر کرکے اسے بینک میں رکھنے کی شرط کو ملکی معیشت اور اسٹاک مارکیٹ کیلیے نقصان دہ قرار دے دیا ہے۔

بروکرز نے سرمایہ کاروں کے سی ڈی سی سب اکاونٹس اور انویسٹرز اکاونٹس میں پڑی سیکیورٹیز کو بھی ایسٹ ڈکلیئریشن اسکیم کے تحت فیئر مارکیٹ ویلیو پر ظاہر کرنے کی اجازت دینے کی تجویزدے دی ہے ۔


بروکرز نے حکومت کو آگاہ کیا ہے کہ اگر اس کی اجازت نہ دی گئی تو سرمایہ کارایسٹ ڈکلیئریشن اسکیم سے فائدہ اٹھانے کیلیے اپنے سی ڈی سی سب اکاونٹس اور انویسٹرز اکاؤنٹس میں موجود سیکیورٹیز کیش کراکر بکنک اکاونٹس میں جمع کرانے پر مجبور ہوں گے اور ایسٹ ڈکلیئریشن اسکیم کی شرط کے تحت بینک میں کیش جمع کرواکر 30 جون 2019 تک بینک اکاونٹ میں رکھنے پر مجبور ہوںگے جس سے ملک کی اسٹاک مارکیٹ اور ملکی معیشت کو بری طرح نقصان پہنچے گا۔

اسٹاکر بروکرز ایسوسی ایشن کے صدر حماد نذیر کا کہنا ہے کہ چیئرمین ایف بی آر کو خط لکھا گیا ہے مگر ابھی جواب نہیں آیا وہ تجویز مان لیتے ہیں تو اسٹاک مارکیٹ میں بہتری آئے گی۔

'' ایکسپریس''کو موصول سٹاک بروکرز ایسوسی ایشن کے صدر کے خط کی کاپی کے مطابق جس طرح کیش ظاہر کرنے والے اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے اہل ہیں بالکل اسی طرح سرمایہ کاروں کے سی ڈی سی سب اکاونٹس اور انویسٹرزاکاونٹس میں پڑی سیکیورٹیز کو بھی ایسٹ ڈکلیئریشن اسکیم کے تحت فیئر مارکیٹ ویلیو پر ظاہر کرنے کیلیے اس سے فائدہ اٹھانے کے اہل قراردیا جائے اور ان اکاؤنٹس میں پڑی سیکیورٹیز کو بھی فیئر مارکیٹ ویلیو پر ظاہر کرنے کی اجازت دی جائے۔
Load Next Story