18سال سے کم عمر لڑکی کی شادی جرم ہوگا روبینہ قائمخانی
بچوں کے تحفظ وحقوق کے لیے اتھارٹی قائم ہوگی، صوبائی وزیر کی پریس کانفرنس
چائلڈ پروٹیکشن اتھارٹی قائم ہوگی اور اس کے تحت بچوں کو صحت، تعلیم اور دیگر سہولتیں فراہم کی جائیں گی. فوٹو: این این آئی
محکمہ ترقی نسواں وخصوصی تعلیم اورسماجی بہبود کی صوبائی وزیرروبینہ سعادت قائمخانی نے کہا ہے کہ کم عمری میں لڑکیوں کی شادی کی روک تھام کے حوالے سے بل جلد سندھ اسمبلی میں پیش کیا جائے گا ۔
جس کے تحت 18سال سے کم عمر لڑکی کی شادی کرنا جرم ہوگا اور اس جرم میں والدین یا جو بھی ملوث ہوگا اسے ایک سال قید اور جرمانے کی سزا دی جائے گی۔ حیدرآباد پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ چائلڈ میرج بل پر ایک ہفتے کے اندر کھلی بحث کرائی جائے گی جس میں علمائے کرام، سول سوسائٹی، میڈیا اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو بلایا جائے گا اور ان کی رائے کے بعد بل کو سندھ اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ سندھ بھر میں 5 بے نظیر بھٹو شہید وومن کرائسز سینٹر ظلم وزیادتی کا شکار خواتین کو نہ صرف پناہ فراہم کرتے ہیں بلکہ انھیں قانونی امداد بھی فراہم کرتے ہیں لیکن ان کا بجٹ ناکافی ہے اور وہ ڈونرز سے مالی امداد حاصل کرکے ان کے بجٹ میں اضافے کی کوششیں کررہی ہیں۔ حیدرآباد وومن سینٹر کی کارکردگی بہتر ہے جہاں اب تک خواتین کے 3 ہزار کیسز نمٹائے گئے اور انھیں عدالت کے ذریعے انصاف دلایا گیا ہے، انھوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی نے بچوں کے تحفظ اور حقوق کے حوالے سے قانون منظور کر لیا ہے۔
جس کے تحت جلد ہی چائلڈ پروٹیکشن اتھارٹی قائم ہوگی اور اس کے تحت بچوں کو صحت، تعلیم اور دیگر سہولتیں فراہم کی جائیں گی، انھوں مزید کہا کہ ان کے زیر انتظام تینوں محکموں کے حکام کو ہدایت کردی ہے کہ ان کے محکموں کے حوالے سے تمام ڈیٹا ان کی ویب سائٹ پر موجود ہونا چاہیے۔
ایک سوال پر انھوں نے اعتراف کیا کہ صوبے میں قائم دارالامانوں کی حالت بہتر نہیں تاہم اس کی ایک وجہ بجٹ کی کمی بھی ہے، جس کی وجہ سے وہاں رہائش پذیر خواتین کو بنیادی سہولتیں میسر نہیں ۔ انھوں نے کہا کہ ان کے محکموں کا بنیادی کام عوام کی خدمت کرنا ہے اور حالیہ سیلاب کے دوران متاثرہ خاندانوں کی بھی مدد کی جارہی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ دارالاطفال وحدت کالونی قاسم آباد کے حوالے سے انھیں غلط اعداد و شمار بتائے گئے جس پر انھوں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے وہاں کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر ثمینہ شیخ کو معطل کردیا ہے۔
جس کے تحت 18سال سے کم عمر لڑکی کی شادی کرنا جرم ہوگا اور اس جرم میں والدین یا جو بھی ملوث ہوگا اسے ایک سال قید اور جرمانے کی سزا دی جائے گی۔ حیدرآباد پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ چائلڈ میرج بل پر ایک ہفتے کے اندر کھلی بحث کرائی جائے گی جس میں علمائے کرام، سول سوسائٹی، میڈیا اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو بلایا جائے گا اور ان کی رائے کے بعد بل کو سندھ اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ سندھ بھر میں 5 بے نظیر بھٹو شہید وومن کرائسز سینٹر ظلم وزیادتی کا شکار خواتین کو نہ صرف پناہ فراہم کرتے ہیں بلکہ انھیں قانونی امداد بھی فراہم کرتے ہیں لیکن ان کا بجٹ ناکافی ہے اور وہ ڈونرز سے مالی امداد حاصل کرکے ان کے بجٹ میں اضافے کی کوششیں کررہی ہیں۔ حیدرآباد وومن سینٹر کی کارکردگی بہتر ہے جہاں اب تک خواتین کے 3 ہزار کیسز نمٹائے گئے اور انھیں عدالت کے ذریعے انصاف دلایا گیا ہے، انھوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی نے بچوں کے تحفظ اور حقوق کے حوالے سے قانون منظور کر لیا ہے۔
جس کے تحت جلد ہی چائلڈ پروٹیکشن اتھارٹی قائم ہوگی اور اس کے تحت بچوں کو صحت، تعلیم اور دیگر سہولتیں فراہم کی جائیں گی، انھوں مزید کہا کہ ان کے زیر انتظام تینوں محکموں کے حکام کو ہدایت کردی ہے کہ ان کے محکموں کے حوالے سے تمام ڈیٹا ان کی ویب سائٹ پر موجود ہونا چاہیے۔
ایک سوال پر انھوں نے اعتراف کیا کہ صوبے میں قائم دارالامانوں کی حالت بہتر نہیں تاہم اس کی ایک وجہ بجٹ کی کمی بھی ہے، جس کی وجہ سے وہاں رہائش پذیر خواتین کو بنیادی سہولتیں میسر نہیں ۔ انھوں نے کہا کہ ان کے محکموں کا بنیادی کام عوام کی خدمت کرنا ہے اور حالیہ سیلاب کے دوران متاثرہ خاندانوں کی بھی مدد کی جارہی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ دارالاطفال وحدت کالونی قاسم آباد کے حوالے سے انھیں غلط اعداد و شمار بتائے گئے جس پر انھوں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے وہاں کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر ثمینہ شیخ کو معطل کردیا ہے۔