انٹر میڈیکل اور ہوم اکنامکس گروپ کے نتائج کا اعلان تینوں پوزیشن سرکاری کا لجوں نے لیں
ملیحہ طاہر نے پہلی،عفیفہ نور نے دوسری جبکہ انیقہ زینب نے تیسری پوزیشن حاصل کی
پری میڈیکل گروپ میں پوزیشن لینے والی ملیحہ سلیم ،سیدحمزہ اورنورین شاہد۔ فوٹو : آن لائن
اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی نے انٹرمیڈیٹ سال دوم سائنس پری میڈیکل ، میڈیکل ٹیکنالوجی اور ہوم اکنامکس گروپس کے سالانہ امتحانات برائے 2013 کے نتائج جاری کردیے ہیں۔
انٹر پری میڈیکل کے سالانہ امتحانات میں سرکاری کالجوں نے اپنا کھویا ہوا مقام ایک بار پھر حاصل کرلیا ہے، ایک سال کے وقفے کے بعد دوبارہ ابتدائی تینوں پوزیشن سرکاری کالجوں نے حاصل کرلیں جبکہ گزشتہ سال ابتدائی تینوں پوزیشنزحاصل کرنے والاآغا خان کالج اس بار ایک پوزیشن بھی نہیں لے سکا یہاں تک کہ ابتدائی 7 پوزیشنز میں بھی آغا خان اسکول کا نام موجود نہیں ، یاد رہے کہ گزشتہ برس آغا خان کالج نے ابتدائی تین کے علاوہ ساتویں اور دسویں پوزیشن بھی حاصل کی تھی تاہم پچھلے سال کراچی کا کوئی سرکاری کالج انٹر پری میڈیکل میں پوزیشن نہیں لے سکا تھا ۔
جمعہ کو ناظم امتحانات عمران چشتی کی جانب سے جاری کردہ نتائج کے مطابق انٹر پری میڈیکل کے امتحانات میں پی ای سی ایچ ایس گورنمنٹ کالج برائے خواتین کی ملیحہ سلیم بنت محمد سلیم الدین سیٹ نمبر 446382 نے کل 1100نمبرمیں سے 988 نمبر لے کر پہلی پوزیشن ، آدم جی گورنمنٹ سائنس کالج کے سید حمزہ بن وقار ولد سید وقار احمد سیٹ نمبر 435600 نے 985 نمبر حاصل کرکے دوسری پوزیشن اور پی ای سی ایچ ایس گورنمنٹ کالج برائے خواتین کی نورین شاہد بنت شاہد محمد دین سیٹ نمبر 446417 نے 984 نمبر حاصل کرکے تیسری پوزیشن حاصل کی، ہوم اکنامکس سال دوم کے امتحانات میں تینوں پوزیشنز رعنا لیاقت علی خان گورنمنٹ کالج آف ہوم اکنامکس کی طالبات نے حاصل کی ہیں ۔
ان میں ملیحہ طاہر بنت محمد طاہر سیٹ نمبر 90657 نے کل 1200 نمبرمیں سے 947 نمبر حاصل کرکے پہلی، عفیفہ نور بنت نور احمد سیٹ نمبر 90515 نے 945 نمبر حاصل کرکے دوسری جبکہ انیقہ زینب بنت ملک فرید خان سیٹ نمبر 90543 نے 944 نمبر حاصل کر کے تیسری پوزیشن حاصل کی ، نتائج کی تفصیلات بتاتے ہوئے ناظم امتحانات عمران چشتی نے کہا کہ سا ئنس پری میڈیکل سال دوئم کے امتحانات میں18395 امیدواروں نے رجسٹریشن حاصل کی، 18166امیدوار امتحانات میں شریک ہوئے جس میں سے 9595 امیدوار کامیاب قرار پائے اس طرح کامیابی کا تناسب 52.82 فیصد رہا ان امتحانات میں 1089 امیدواروں نے اے ون گریڈ، 2595 نے اے گریڈ ،2840 نے بی گریڈ ، 2190 نے سی گریڈ، 848 نے ڈی گریڈ اور 33 امیدواروں نے ای گریڈ میں کامیابی حاصل کی ہوم اکنامکس سال دوئم کے امتحانات میں 350امیدوار وں نے رجسٹریشن حاصل کر کے 341 امیدواروں نے امتحانات میں شرکت کی۔
جس میں 211امیدوار کامیاب قرار پائے ، اس طرح کامیابی کا تناسب 61.88فیصد رہا، ان امتحانات میں 31 امیدواروں نے اے گریڈ، 70نے بی گریڈ، 79نے سی گریڈ اور 31 امیدواروں نے ڈی گریڈ میں کامیا بی حاصل کی،میڈیکل ٹیکنالوجی سال دوئم کے امتحانات میں رجسٹریشن حاصل کرنے والے 10 امیدواروں میں سے 8 نے امتحانات میں شرکت کی جس میں 2 امیدواروں نے سی گریڈ اور ایک امیدوار نے ڈی گریڈ میں کامیابی حاصل کی اس طرح کامیابی کا تناسب 37.50 فیصد رہا۔
دریں اثناء اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے تحت انٹرپری میڈیکل ،میڈیکل ٹیکنالوجی اور ہوم اکنامکس گروپس کے سالانہ امتحانات کے نتائج کے اجرا کے موقع پر پوزیشن لینے والے طلبا نے کہا کہ سرکاری کالج بھی نجی کالجوں سے کارکردگی میں کم نہیں ، نصاب کوجدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت ہے ،اردوکے فروغ کیلیے موثر اقدامات کیے جائیں۔
ان باتوں کا اظہارانھوں نے جمعہ کو بورڈ کے آڈیٹوریم میں اپنے اعزاز میں منعقدہ تقریب کے دوران اخبار نویسوں کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا ، پری میڈیکل گروپ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والی طالبہ ملیحہ سلیم کا کہنا تھا کہ کالجوں کی تدریس کے ساتھ ساتھ کوچنگ ناگزیر ہوچکی ہے، دوسری پوزیشن کے حامل حمزہ بن وقار نے بتایا کہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ سفارش اور اقربا پروری ہے.
، تیسری پوزیشن کی حامل طالبہ نورین شاہد کا کہنا تھا کہ لوڈشیڈنگ ، بدامنی اور لاقانونیت ملک کے سب سے بڑے مسائل ہیں، ہوم اکنامکس میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والی طالبہ ملیحہ طاہر نے کہا کہ حکومت ملک میں بدامنی پر قابو پانے میں سنجیدگی سے کوشش کرے،دوسری پوزیشن حاصل کرنے والی عفیفہ نورکا کہنا تھا کہ ا ساتذہ کی تعظیم ہر طالب علم پر واجب ہے، تیسری پوزیشن کی حامل انیقہ زینب نے کہا کہ کالجوں میںہوم اکنامکس کے شعبہ کے قیام کی ضرورت ہے۔
انٹر پری میڈیکل کے سالانہ امتحانات میں سرکاری کالجوں نے اپنا کھویا ہوا مقام ایک بار پھر حاصل کرلیا ہے، ایک سال کے وقفے کے بعد دوبارہ ابتدائی تینوں پوزیشن سرکاری کالجوں نے حاصل کرلیں جبکہ گزشتہ سال ابتدائی تینوں پوزیشنزحاصل کرنے والاآغا خان کالج اس بار ایک پوزیشن بھی نہیں لے سکا یہاں تک کہ ابتدائی 7 پوزیشنز میں بھی آغا خان اسکول کا نام موجود نہیں ، یاد رہے کہ گزشتہ برس آغا خان کالج نے ابتدائی تین کے علاوہ ساتویں اور دسویں پوزیشن بھی حاصل کی تھی تاہم پچھلے سال کراچی کا کوئی سرکاری کالج انٹر پری میڈیکل میں پوزیشن نہیں لے سکا تھا ۔
جمعہ کو ناظم امتحانات عمران چشتی کی جانب سے جاری کردہ نتائج کے مطابق انٹر پری میڈیکل کے امتحانات میں پی ای سی ایچ ایس گورنمنٹ کالج برائے خواتین کی ملیحہ سلیم بنت محمد سلیم الدین سیٹ نمبر 446382 نے کل 1100نمبرمیں سے 988 نمبر لے کر پہلی پوزیشن ، آدم جی گورنمنٹ سائنس کالج کے سید حمزہ بن وقار ولد سید وقار احمد سیٹ نمبر 435600 نے 985 نمبر حاصل کرکے دوسری پوزیشن اور پی ای سی ایچ ایس گورنمنٹ کالج برائے خواتین کی نورین شاہد بنت شاہد محمد دین سیٹ نمبر 446417 نے 984 نمبر حاصل کرکے تیسری پوزیشن حاصل کی، ہوم اکنامکس سال دوم کے امتحانات میں تینوں پوزیشنز رعنا لیاقت علی خان گورنمنٹ کالج آف ہوم اکنامکس کی طالبات نے حاصل کی ہیں ۔
ان میں ملیحہ طاہر بنت محمد طاہر سیٹ نمبر 90657 نے کل 1200 نمبرمیں سے 947 نمبر حاصل کرکے پہلی، عفیفہ نور بنت نور احمد سیٹ نمبر 90515 نے 945 نمبر حاصل کرکے دوسری جبکہ انیقہ زینب بنت ملک فرید خان سیٹ نمبر 90543 نے 944 نمبر حاصل کر کے تیسری پوزیشن حاصل کی ، نتائج کی تفصیلات بتاتے ہوئے ناظم امتحانات عمران چشتی نے کہا کہ سا ئنس پری میڈیکل سال دوئم کے امتحانات میں18395 امیدواروں نے رجسٹریشن حاصل کی، 18166امیدوار امتحانات میں شریک ہوئے جس میں سے 9595 امیدوار کامیاب قرار پائے اس طرح کامیابی کا تناسب 52.82 فیصد رہا ان امتحانات میں 1089 امیدواروں نے اے ون گریڈ، 2595 نے اے گریڈ ،2840 نے بی گریڈ ، 2190 نے سی گریڈ، 848 نے ڈی گریڈ اور 33 امیدواروں نے ای گریڈ میں کامیابی حاصل کی ہوم اکنامکس سال دوئم کے امتحانات میں 350امیدوار وں نے رجسٹریشن حاصل کر کے 341 امیدواروں نے امتحانات میں شرکت کی۔
جس میں 211امیدوار کامیاب قرار پائے ، اس طرح کامیابی کا تناسب 61.88فیصد رہا، ان امتحانات میں 31 امیدواروں نے اے گریڈ، 70نے بی گریڈ، 79نے سی گریڈ اور 31 امیدواروں نے ڈی گریڈ میں کامیا بی حاصل کی،میڈیکل ٹیکنالوجی سال دوئم کے امتحانات میں رجسٹریشن حاصل کرنے والے 10 امیدواروں میں سے 8 نے امتحانات میں شرکت کی جس میں 2 امیدواروں نے سی گریڈ اور ایک امیدوار نے ڈی گریڈ میں کامیابی حاصل کی اس طرح کامیابی کا تناسب 37.50 فیصد رہا۔
دریں اثناء اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے تحت انٹرپری میڈیکل ،میڈیکل ٹیکنالوجی اور ہوم اکنامکس گروپس کے سالانہ امتحانات کے نتائج کے اجرا کے موقع پر پوزیشن لینے والے طلبا نے کہا کہ سرکاری کالج بھی نجی کالجوں سے کارکردگی میں کم نہیں ، نصاب کوجدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت ہے ،اردوکے فروغ کیلیے موثر اقدامات کیے جائیں۔
ان باتوں کا اظہارانھوں نے جمعہ کو بورڈ کے آڈیٹوریم میں اپنے اعزاز میں منعقدہ تقریب کے دوران اخبار نویسوں کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا ، پری میڈیکل گروپ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والی طالبہ ملیحہ سلیم کا کہنا تھا کہ کالجوں کی تدریس کے ساتھ ساتھ کوچنگ ناگزیر ہوچکی ہے، دوسری پوزیشن کے حامل حمزہ بن وقار نے بتایا کہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ سفارش اور اقربا پروری ہے.
، تیسری پوزیشن کی حامل طالبہ نورین شاہد کا کہنا تھا کہ لوڈشیڈنگ ، بدامنی اور لاقانونیت ملک کے سب سے بڑے مسائل ہیں، ہوم اکنامکس میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والی طالبہ ملیحہ طاہر نے کہا کہ حکومت ملک میں بدامنی پر قابو پانے میں سنجیدگی سے کوشش کرے،دوسری پوزیشن حاصل کرنے والی عفیفہ نورکا کہنا تھا کہ ا ساتذہ کی تعظیم ہر طالب علم پر واجب ہے، تیسری پوزیشن کی حامل انیقہ زینب نے کہا کہ کالجوں میںہوم اکنامکس کے شعبہ کے قیام کی ضرورت ہے۔