گول لائن ٹیکنالوجی نے پینڈورا باکس کھول دیا یوئیفا چیف
کھلاڑیوں کے ٹرانسفر سسٹم میں وسیع اصلاحات ضروری ہیں، پلاٹینی کا اعتراف
کھلاڑیوں کے ٹرانسفر سسٹم میں وسیع اصلاحات ضروری ہیں، پلاٹینی کا اعتراف. فوٹو؛ فائل
یوئیفا کے صدرمائیکل پلاٹینی کا کہنا ہے کہ گول لائن ٹیکنالوجی نے پینڈورا باکس کھول دیا ، دیگر اسپورٹس کے تجربات سے معلوم ہوتا ہے کہ ویڈیو ٹیکنالوجی 100 فیصد قابل بھروسہ نہیں۔
نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ میں نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ میں اس ٹیکنالوجی کے خلاف ہوں کیونکہ اس کے بعد ہمیں ہر ٹیکنالوجی کی ضرورت ہوگی، پینڈورا باکس کھل چکا جس کی تصدیق ہو رہی ہے۔ یاد رہے کہ گول لائن کا استعمال گذشتہ دسمبر میں ورلڈ کلب کپ ، جون میں کنفیڈریشنز کپ اور اب چیمپئنز لیگ میں ہورہا ہے۔ پلاٹینی کا کہنا ہے کہ اب ریفریز کو فیصلے کیلیے ٹیکنالوجی کا انتظار ہوتا ہے،ایک طویل بحث شروع ہوچکی جس کا سلسلہ اگلے چند برسوں تک جاری رہے گا۔
دریں اثنا صدر یوئیفا نے ٹرانسفر سسٹم میں وسیع اصلاحات پر زور دیا،انھوں نے موجودہ نظام کو ناموزوں قرار دیتے ہوئے کہاکہ ٹرانسفر ونڈو کافی طویل اور کئی افراد کمیشن کا حصہ لینے کی کوشش کرتے ہیں، پلاٹینی نے کہاکہ ہمارے زمانے میں پلیئرز اپنے معاہدے کے اختتام پرکلبز کو چھوڑنے کا حق رکھتے تھے، موجودہ حالات میں کھلاڑی اپنے معاہدوں کا پاس نہیں رکھتے، اکثر کھیلنے یا ٹریننگ سے انکار کردیتے اور کہیں بھی جانے کیلیے دباؤ ڈالتے ہیں۔
نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ میں نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ میں اس ٹیکنالوجی کے خلاف ہوں کیونکہ اس کے بعد ہمیں ہر ٹیکنالوجی کی ضرورت ہوگی، پینڈورا باکس کھل چکا جس کی تصدیق ہو رہی ہے۔ یاد رہے کہ گول لائن کا استعمال گذشتہ دسمبر میں ورلڈ کلب کپ ، جون میں کنفیڈریشنز کپ اور اب چیمپئنز لیگ میں ہورہا ہے۔ پلاٹینی کا کہنا ہے کہ اب ریفریز کو فیصلے کیلیے ٹیکنالوجی کا انتظار ہوتا ہے،ایک طویل بحث شروع ہوچکی جس کا سلسلہ اگلے چند برسوں تک جاری رہے گا۔
دریں اثنا صدر یوئیفا نے ٹرانسفر سسٹم میں وسیع اصلاحات پر زور دیا،انھوں نے موجودہ نظام کو ناموزوں قرار دیتے ہوئے کہاکہ ٹرانسفر ونڈو کافی طویل اور کئی افراد کمیشن کا حصہ لینے کی کوشش کرتے ہیں، پلاٹینی نے کہاکہ ہمارے زمانے میں پلیئرز اپنے معاہدے کے اختتام پرکلبز کو چھوڑنے کا حق رکھتے تھے، موجودہ حالات میں کھلاڑی اپنے معاہدوں کا پاس نہیں رکھتے، اکثر کھیلنے یا ٹریننگ سے انکار کردیتے اور کہیں بھی جانے کیلیے دباؤ ڈالتے ہیں۔