خفیہ کیمرے لگوانا گورنر یا صدر کا کام نہیں چیف جسٹس

لوگ مر رہے ہیں آپ سے کیمرے نہیں لگ رہے، ضرور کسی من پسند کو ٹھیکہ دیا ہوگا

کراچی میں خفیہ کیمرے نہ لگنے پرچیف جسٹس نے چیف سیکریٹری کی سرزنش کردی۔ فوٹو: فائل

صوبہ سندھ کی بیوروکریسی جمعے کو بھی عدالت میں مذاق کانشانہ بنی رہی،اعلیٰ افسران تیاری کے بغیرعدالت میں پیش ہوئے جس کی وجہ سے انھیں سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار چوہدری نے آئی جی سندھ سے استفسارکیاکہ شہر میں سی سی ٹی وی کیمرے اب تک کیوں نہیں لگے جبکہ عدالت نے 2 سال قبل حکم دیاتھا ،آئی جی سندھ نے جواب دیا کہ جتنے فنڈ جاری ہوئے وہ استعمال ہوچکے، کچھ کیمرے توڑ دیے گئے،باقی کی مینٹیننس جاری ہے،چیف جسٹس نے چیف سیکریٹری سے استفسارکیاکہ ہمیں بتائیں کتنے کیمرے لگنے تھے،کتنا فنڈ جاری ہوااور کس کو ٹھیکہ دیا گیا؟چیف سیکریٹری نے بتایاکہ سی سی ٹی وی سے متعلق تفصیلات میرے علم میں نہیں،یہ معاملات گورنر سندھ دیکھتے ہیں،چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ گورنرصاحب اس کونہیں دیکھ سکتے یہاں منتخب حکومت موجودہے،پارلیمانی نظام میں گورنراورصدریہ کام نہیں کرسکتے، ہم ایسے مقدمے کی سماعت کرچکے ہیں جس میں کراچی میں کیمروں کی تنصیب کامعاملہ تھا۔




عجیب بات ہے کہ سپریم کورٹ کے ججزجانتے ہیں کتنے کیمرے لگنے ہیں چیف سیکریٹری نہیں جانتے ،جسٹس عظمت سعیدنے کہا کہ کیمرے لگے ہیں یانہیں لگے آپ کو پتاہے،نہ آئی جی سندھ جانتاہے، ہمیں کون بتائیگا، کیا سندھ کے معاملات کے بارے میں ہمیں چیف سیکریٹری بلوچستان سے پوچھنا ہوگا،چیف جسٹس نے کہاکہ یہ غفلت کے مترادف ہے کہ دوافسران خفیہ کیمروںسے متعلق الگ الگ جواب دے رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے چیف سیکریٹری سندھ کی سرزنش کرتے ہوئے کہاکہ ضرورآپ نے کسی من پسندکوٹھیکہ دیا ہوگا اور اس میں کوئی چکر ہوگا،آپ تسلیم کریں یہ آپ کی ناکامی ہے،لوگ مرتے رہیں گے،بچے یتیم ہورہے ہیں،عورتیں بیوہ ہورہی ہیں،آپ سے کیمرے نہیں لگتے۔
Load Next Story