وزیر اعظم کا سول سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر عدم اطمینان بھرتیوں پر پابندی ختم

انسداد دہشت گردی فورس جلد بنائی جائے ، تربیت فوجی معیارکے مطابق ہونی چاہیے،نوازشریف

10روز میں ضروری بھرتیوں کا عمل شروع کیا جائے،انسداد دہشت گردی فورس جلد بنائی جائے ، تربیت فوجی معیارکے مطابق ہونی چاہیے،نوازشریف فوٹو: فائل

وزیراعظم نواز شریف نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے سویلین قانون نافذ کرنے والے اداروں کی دہشت گردی و انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کی استعداد کار پر شدید تحفظات ہیں۔

انسداد دہشت گردی فورس کی فوری تشکیل کی ہدایت کرتے ہوئے وزیراعظم نے قانون نافذ کرنے والے اداروں میں بھرتیوں پر پابندی ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جمعے کوپنجاب انسداد دہشتگردی ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے حوالے سے اعلیٰ سطح کے اجلاس سے خطاب میں انھوں نے کہا کہ اگلے10روز میں ضروری بھرتیوں کا عمل شروع کردیا جائے۔ پنجاب حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جامع پلان ترتیب دے اور انسداد دہشت گردی فورس کی تربیت فوج کے معیار کے مطابق ہونی چاہیے۔

تمام ایجنسیاں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے مربوط کوششیں کریں وفاق ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ شہباز شریف و دیگر حکام موجود تھے۔ اس موقع پروزیر اعظم کوانسداد دہشت گردی اقدامات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی جبکہ وزیر اعظم نے قانون نافذ کرنے والے سول اداروں کی استعداد کار پرشدید تحفظات کا اظہارکیا۔




انھوں ہدایت کی کہ انسداد دہشت گردی فورس جلد سے جلد تشکیل دی جائے اور اس کی تربیت فوج کے معیار کے مطابق ہونی چاہیے۔آئی این پی کے مطابق نوازشریف نے کہا کہ ملک کو دہشتگردی سے نجات دلاکر امن قائم کرنا میری حکومت کی اولین ترجیح ہے جس کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں، معاشی مضبوطی کے لیے دہشتگردی کا خاتمہ اور امن کا قیام ضروری ہے۔

علاوہ ازیں وزیراعظم سے چین کی اسٹیٹ انجنیئرنگ کمپنی کے وفد نے ملاقات کرکے آگاہ کیا کہ کراچی، لاہور موٹر وے کی فزیبلٹی پرکام شروع کردیا گیا ہے۔ وفد نے بتایا کہ اس ادارے نے حال ہی میں کانگو میں 600کلو میٹر طویل موٹر وے تعمیر کی ہے ۔ انھوں نے یقین دہانی کرائی کہ کراچی ،لاہور موٹر وے کو بھی 3 سال میں مکمل کرلیں گے تاہم نواز شریف نے تجویزدی کہ تعمیراتی کنسورشیم قائم کرکے موٹر وے کی تکمیل کی مدت کو 3 سال سے کم کیا جائے اور میں امید کرتا ہوں کہ کراچی ،لاہور موٹر وے ڈھائی برس سے کم مدت میں مکمل کرلی جائے گی ۔

Recommended Stories

Load Next Story