دہشت گردی کا انسداد اور سول ادارے

وزیر اعظم نواز شریف نے قانون نافذ کرنے والے اداروں میں 10روز میں بھرتی کا عمل شروع کرنے کی ہدایت کر دی۔

وزیر اعظم کا پنجاب حکومت کو انسداد دہشت گردی فورس تشکیل دیکر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جامع پلان ترتیب دینے کی ہدایت۔ فوٹو: فائل

وزیراعظم نواز شریف نے جمعرات کو لاہور میں پنجاب انسداد دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے حوالے سے اعلیٰ سطح کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں میں بھرتیوں پر پابندی ختم کرنے کا اعلان کیا اور دس روز میں بھرتی کا عمل شروع کرنے کی ہدایت جاری کی۔ انھوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے سویلین قانون نافذ کرنے والے اداروں کی دہشت گردی و انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کی استعداد کار پر شدید تحفظات ہیں، انھوں نے انسداد دہشت گردی فورس کی فوری تشکیل کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جامع پلان ترتیب دے اور انسداد دہشت گردی فورس (اے ٹی ایف) کی تربیت فوج کے معیار کے مطابق ہونی چاہیے۔

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کچھ عرصہ پہلے قوم سے خطاب کے دوران بھی موجودہ انتظامی ڈھانچے پر عدم اعتماد کیا تھا۔ ہمارے سویلین قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی اسی انتظامی ڈھانچے کا حصہ ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستان میں سرکاری ادارے کارکردگی کے اعتبار سے زوال پذیر ہیں خصوصاً قانون نافذ کرنے والے سول اداروں کی کارکردگی زوال کی آخری حد پر ہے۔ خصوصاً دہشت گردی کے انسداد کے حوالے سے تو سول ادارے بالکل ناکام ہیں۔ سویلین انٹیلی جنس ادارے بھی توقعات کے مطابق کارکردگی نہیں دکھا رہے۔ پولیس میں تھانے کی سطح پر دہشت گردوں کے بارے میں معلومات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ تھانے کا مخبری نظام صرف جوے یا فحاشی کے اڈوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ کسی تھانے نے اپنے طور پر کسی دہشت گرد کو کبھی گرفتار نہیں کیا گیا۔ اگر تھانے کی سطح پر انٹیلی جنس سسٹم بہتر ہو تو دہشت گردوں کی سرکوبی بہت آسان ہو جائے گی۔ اس وقت کرائم انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) ماضی کے مقابلے میں خاصی بہتر کردار ادا کر رہا ہے لیکن اس کو مزید فعال بنانا بہت ضروری ہے۔

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں پولیس منظم جرائم کو باآسانی کنٹرول کر رہی ہے۔ وہ دہشت گرد گروپوں پر بھی باآسانی کریک ڈاؤن کے قابل ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں کمیونٹی کی سطح پر بھی انٹیلی جنس سسٹم انتہائی متحرک ہے اور اس کی اطلاعات سوفیصد درست ہوتی ہیں، وہاں انٹیلی جنس ایجنسیوں کی کارکردگی بھی بہت بہتر ہے اور ان کے درمیان باہمی رابطے کا نظام بھی انتہائی فعال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ برطانیہ، جرمنی اور فرانس جیسے ملکوں میں جرائم اور دہشت گردی کی وارداتیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ پاکستان میں صرف بدعنوانی، اقربا پروری اور کرپشن نے ہی سرکاری اداروں اور پولیس ڈیپارٹمنٹ کو زوال کا شکار نہیں کیا بلکہ بے جا سیاسی مداخلت نے بھی سرکاری اداروں خصوصاً محکمہ پولیس کی تباہی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس وقت پولیس اہلکاروں کی تربیت اور ذہنی حالت اس قابل نہیں کہ وہ دہشت گردوں کا مقابلہ کر سکے۔ سول سیکیورٹی اداروں میں بھرتی پر پابندی کے خاتمے سے ان محکموں میں نیا خون آئے گا جنھیں اگر مناسب تربیت دی جائے تو وہ دہشت گردی کا مقابلہ کر سکیں گے۔


پنجاب کے علاوہ سندھ' خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بھی سیکیورٹی کے ذمے دار سویلین اداروں کو مضبوط بنانا انتہائی ضروری ہے۔ خیبرپختونخوا میں سابق دور حکومت میں بنوں جیل سے دہشت گرد فرار ہوئے اور موجودہ دور میں ڈیرہ اسماعیل خان جیل توڑی گئی۔ یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ پولیس میں اول تو اتنی اہلیت ہی نہیں ہے کہ وہ کسی بڑے چیلنج کا سامنا کر سکے' دوسرے ان کی تربیت بھی ناقص ہے اور ان کے پاس اسلحہ بھی پرانا ہے جب کہ دہشت گرد زیادہ تربیت یافتہ ہیں اور ان کے پاس اسلحہ بھی بہت جدید ہے' اس لیے دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں میں پیشہ ورانہ اہلیت کو بڑھانااور اہلکاروں کی ذہنی تربیت بھی بہت ضروری ہے۔ پیشہ ورانہ اہلیت اور ذہنی طور پر مضبوط اہلکار اور افسر رنگ' نسل اور مذہب سے بالاتر ہو کر اپنا قرض ادا کرتا ہے' پاکستان کو بھی ایسے ہی پروفیشنل اہلکاروں اور افسروں کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں دہشت گرد گروہ مذہب کو بطور ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔

بعض گروہ فرقہ واریت کو ہوا دینے میں مصروف ہیں۔ اس صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے ایسے اہلکاروں کی ضرورت ہے جو مذہب ومسلک سے بالاتر ہوں، ان کی تربیت پیشہ ورانہ بنیادوں پر ہو اور ان کا مقصد صرف قانون کی حکمرانی قائم کرنا ہو۔ دنیا بھر میں انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی تربیت انھی خطوط پر کی جاتی ہے۔ پاکستان میں انتظامی ڈھانچے کے زوال کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اعلیٰ افسروں سے لے کر اہلکاروں تک ایک نظریاتی کنیفوژن موجود ہے۔ ذہنی طور پر کنفیوژڈ انتظامیہ نظریاتی ہتھیاروں سے لیس قانون شکن گروہوں کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ خیبرپختونخوا میں ایسے کئی واقعات ہو چکے ہیں جن میں سیکیورٹی کے ذمے دار اداروں کے اہلکاروں نے عسکریت پسندوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں کیونکہ وہ ذہنی طور پر انھیں غلط نہیں سمجھتے تھے۔ پاکستان اس وقت اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہا ہے۔ وزیراعظم نواز شریف مرض کی جڑ تک پہنچ چکے ہیں، انھیں اس حقیقت کا ادراک ہو چکا ہے کہ موجودہ انتظامی ڈھانچے میں اتنی سکت نہیں ہے کہ وہ عسکریت پسندی کا مقابلہ کر سکے۔

اس لیے ضروری ہے کہ پاکستان کے سول انتظامی ڈھانچے میں انقلابی تبدیلیاں لائی جائیں۔ پنجاب میں جس کام کا آغاز ہوا ہے، اسے سندھ' بلوچستان اور خیبرپختونخوا تک بڑھایا جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ کچھ اور اقدامات بھی کیے جانے ضروری ہیں۔ خیبرپختونخوا ایک ایسا صوبہ ہے جہاں بیک وقت کئی نظام کام کر رہے ہیں۔ یہاں فاٹا، پاٹا، ایف آر اور سیٹلڈ ایریاز موجود ہیں۔ یوں اس علاقے میں بہت زیادہ انتظامی مشکلات پیش آتی ہیں۔ صوبائی حکومت کا دائرۂ اختیار بہت محدود ہو جاتا ہے۔ جب تک صوبائی حکومت کے دائرۂ اختیار کو بڑھایا نہیں جاتا، اس صوبے میں سول انتظامیہ عضو معطل بنی رہے گی۔ یہی حال بلوچستان کا بھی ہے۔ موجودہ حکومت کو چاہیے کہ وہ ان علاقوں میں آئین اور قانون کی عملداری قائم کرنے کے لیے آئینی تبدیلیاں لائے تاکہ یہ علاقے مین اسٹریم میں شامل ہو سکیں۔ اس مقصد کے لیے اب مصلحت اندیشی ترک کر دی جانی چاہیے۔

ماضی کی کوتاہیوں کا نتیجہ یہ ہے کہ کراچی میں قتل وغارت رکنے کا نام نہیں لے رہی، اگر حکومت یہ سمجھتی ہے کہ وہ قبائلی علاقوں میں تبدیلی لائے بغیر پنجاب، کراچی اور اندرون سندھ میں امن قائم کر سکتی ہے تو یہ اس کی کم فہمی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ درست جانب قدم اٹھائے جائیں، جہاں آئین میں تبدیلیوں کی ضرورت ہے وہاں یہ کام فوری طور پر کیا جائے اور جہاں انتظامی اصلاحات کی ضرورت ہے وہ بھی بلاتاخیر کی جائیں۔ قانون نافذ کرنے والے سویلین اداروں کو بھرپور وسائل مہیا کیے جائیں۔ انھیں جدید ترین ہتھیاروں سے لیس کیا جائے، پولیس ڈیپارٹمنٹ کے پاس اپنا ہیلی کاپٹر ہونا چاہیے تاکہ وہ دہشت گردوں کے خلاف سرعت کے ساتھ آپریشن کرنے کے قابل ہو سکے۔ اس طریقے سے ہی دہشت گرد گروہوں کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔
Load Next Story