ملکی معیشت کا استحکام تمام طبقات اپنا کردار ادا کریں

موجودہ حکومت کی توجہ مالی نظم و ضبط برقرار رکھنے پر مرکوز ہے جو گزشتہ چند برسوں میں کمزور ہو گیا تھا, اسحاق ڈار

حکومت حقیقی معیشت پر بھی توجہ دے رہی ہے جس میں زراعت اور صنعت شامل ہیں, اسحاق ڈار۔ اے ایف پی/فائل

وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے اسٹیٹ بینک کراچی میں مقامی اور غیر ملکی بینکوں کے چیف ایگزیکٹوز، کارپوریٹ رہنمائوں اور ایکس چینج کمپنیوں کے نمایندوں سے ملاقات میں کہا ہے کہ موجودہ حکومت کی توجہ مالی نظم و ضبط برقرار رکھنے پر مرکوز ہے جو گزشتہ چند برسوں میں کمزور ہو گیا تھا، حکومت حقیقی معیشت پر بھی توجہ دے رہی ہے جس میں زراعت اور صنعت شامل ہیں۔ مالی نظم و ضبط کو برقرار رکھنا اور حقیقی معیشت پر توجہ دینا یقیناً وزارت خزانہ کے لیے اہمیت کا حامل ہو گا مگر عوام کے لیے جو مسائل حقیقی مصائب کا باعث ہیں وہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بیروزگاری ہیں۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں، جی ایس ٹی میں اضافے کے باعث بھی مہنگائی بڑھی ہے۔

ادھر پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی کے نرخ بار بار بڑھنے کا عمل بھی مہنگائی کو بڑھا رہا ہے۔ محکمہ شماریات کے مطابق ملک میں اگست کے آخری ہفتہ کے دوران حساس قیمتوں کے اعشاریہ کے لحاظ سے مہنگائی کی شرح میں 0.59 فیصد کمی ہوئی ہے لیکن عملاً صورت حال یہ ہے کہ اشیائے صرف کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن نے آٹے کی قیمتوں میں اضافے پر احتجاج بھی کیا۔ خیبرپختونخوا، بلوچستان اور سندھ میں بھی آٹے کی قیمتیں بڑھی ہیں۔ تندوری روٹی بھی مہنگی ہو گئی ہے۔ محکمہ شماریات ایک ماہ کے جو اعداد وشمار جاری کرتا ہے، اس میں ایک دو آئٹمز کی قیمتوں میں وقتی اتار چڑھاؤ کو مہنگائی میں کمی کا نام دیا جاتا ہے جب کہ طویل دورانیے میں دیکھا جائے تو مہنگائی بہت زیادہ بڑھ رہی ہے۔ حکومت مالی نظم وضبط کے لیے جو اقدامات کر رہی ہے، وہ اپنی جگہ درست ہیں۔


مالیاتی معاملات کو کنٹرول رکھ کر ہی ملکی معیشت بہتر کی جاسکتی ہے لیکن حکومت کو ایسے اقدامات بھی کرنے چاہئیں جن سے مہنگائی میں کمی آئے۔ پہلے اقدام کے طور پر حکومت اگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں سالانہ بنیادوں پر مقرر کرے تو اس سے معیشت میں استحکام پیدا ہو گا۔ کھانے پینے کی چیزوں پر سبسڈی دی جانی چاہیے۔ دوسری جانب پرتعیش اشیاء پر ٹیکس بڑھائے جا سکتے ہیں۔ بڑی گاڑیوں کی خرید وفروخت پر بھی ٹیکس بڑھایا جا سکتا ہے۔ اس سے حکومت کو اچھا خاصا ریونیو ملے گا۔ لگژری ہوٹلوں میں کھانے پر ٹیکس بڑھا کر ریونیو لیا جا سکتا ہے۔ مالیاتی ڈسپلن قائم کرنے کے لیے ارکانِ پارلیمنٹ اپنی مراعات میں کمی لائیں۔

وزیراعظم اور ایوان صدر کے اخراجات کم کیے جائیں۔ اسی طرح صوبائی سطح پر گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس کے اخراجات کم کیے جا سکتے ہیں۔ بیورو کریسی کو دی گئی بے جا سہولتوں میں بھی کمی لا کر خاصی بچت کی جاسکتی ہے۔ پاکستان کی معیشت کو استحکام دینے کے لیے بالائی طبقات کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ محض عوام پر بوجھ ڈالنے سے معیشت مستحکم نہیں ہو گی بلکہ زوال پذیر ہو گی۔ بڑے بڑے زمینداروں، قبائلی سرداروں سے ان کے لائف اسٹائل کو سامنے رکھ کر ٹیکس وصول کیا جائے۔ قبائلی علاقوں کو بھی ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جائے کیونکہ ان علاقوں کے باشندے ہر قانونی اور آئینی سہولت سے استفادہ کر رہے ہیں۔ وہ پاکستان کے ہر علاقے میں کاروبار کی سہولت سے بھی فائدہ اٹھا رہے ہیں اور سرکاری ملازمتیں بھی حاصل کر رہے ہیں۔ اس لیے انھیں بھی قومی معیشت میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
Load Next Story