شام پر جارحیت سے دہشت گردی مزید پھیلے گی

شام پر حملہ کسی بھی وقت کر سکتے ہیں‘ ٹائم لائن نہیں دے سکتے، امریکی صدر

شام پر حملہ کسی بھی وقت کر سکتے ہیں‘ ٹائم لائن نہیں دے سکتے، امریکی صدر۔ اوباما فوٹو: اے ایف پی/فائل

امریکی صدر بارک اوباما نے شام پر حملے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ حملہ کسی بھی وقت کر سکتے ہیں' ٹائم لائن نہیں دے سکتے۔ امریکا اقوام متحدہ اور دنیا کے دیگر ممالک کی مخالفت کے باوجود شام پر ہر صورت حملہ کرنا چاہتا ہے۔ اسے اس کی قطعاً پرواہ نہیں کہ اقوام متحدہ حملے کی منظوری دیتی ہے یا نہیں۔ روس اور چین سلامتی کونسل میں شام پر حملے کی قرارداد ویٹو کر چکے ہیں۔ لیکن واحد عالمی طاقت ہونے کے زعم میں امریکا یہ سمجھتا ہے کہ اقوام متحدہ یا دیگر کسی بھی قوت کی مخالفت اس کے ارادوں کی تکمیل میں مزاحم نہیں ہو سکتی اور وہ اپنے مفادات کے حصول کے لیے جو چاہے کر سکتا ہے جس کا واضح اظہار صدر اوباما کے ہفتے کو وائٹ ہائوس میں اس خطاب سے ہو جاتا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کی منظوری کے بغیر بھی حملے کے لیے تیار ہیں' اقوام متحدہ کی اجازت ضروری نہیں' دنیا کو بتانا ہو گا کہ امریکا جو کچھ کہتا ہے وہ کرتا ہے۔

اخباری خبر کے مطابق شام کے صدر بشار الاسد کے فرزند حافظ بشار الاسد نے فیس بک پر کہا ہے کہ ''مجھے لگ رہا ہے کہ امریکا شام پر ضرور حملہ کرے گا کیونکہ ہمارا ملک ہی امریکی فوجیوں کا قبرستان بنے گا''۔ حملے کا جواز پیش کرتے ہوئے صدر اوباما نے کہا کہ 21 اگست کو شام میں کیمیائی حملہ انسانیت پر حملہ تھا' اس حملے سے امریکی سلامتی کو خطرات لاحق ہوئے۔ کیمیائی حملے میں ہلاکتوں پر تو امریکا کو تشویش ہے مگر اسے اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ اس کے شام پر حملے سے کتنے ہزار لوگ مارے جائیں گے۔ کیا وہ انسانیت پر حملہ نہیں ہو گا۔ بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ کیمیائی حملہ تو ایک ڈرامہ ہے امریکا شام پر حملے کی ایک طویل عرصے سے منصوبہ بندی کر چکا ہے اور یہ سب اس کے نیو ورلڈ آرڈر کا ایک حصہ ہے۔

جہاں تک کیمیائی حملے کا تعلق ہے شام اس سے بریت کا اظہار کر چکا ہے مگر امریکا اس کے اس موقف کو تسلیم کرنے پر قطعی آمادہ نہیں اور شامی حکومت پر کیمیائی حملے کا الزام مسلسل تھوپ رہا ہے۔ روس جو شامی حکومت کی حمایت اور امریکی حملے کی شدید مخالفت کر رہا ، بھی امریکا سے کیمیائی حملے کے ثبوت مانگ رہا ہے۔ روسی صدر پیوٹن نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے شام کی طرف سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے امریکی دعوئوں کو احمقانہ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ امریکا اس کے ثبوت سلامتی کونسل میں پیش کرے۔ امریکا کو شام کے خلاف فوجی کارروائی کی اتنی جلدی کیوں ہے کہ وہ کیمیائی حملے کی تحقیقات کرنے والے اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کی رپورٹ آنے کا بھی انتظار نہیں کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے سفارتکاروں کو بتایا کہ کیمیائی حملے کی فائنل رپورٹ آنے میں دو ہفتے لگ جائیں گے۔


روس' چین' پاکستان' ایران اور دیگر ممالک اس حملے کی مخالفت کر رہے ہیں۔ نیٹو ممالک میں بھی اس مسئلے پر پھوٹ پڑ چکی ہے، اٹلی حکومت کو خدشہ ہے کہ شام پر حملے سے جنگ پھیل کر تیسری عالمی جنگ کا روپ دھار سکتی ہے جب کہ امریکا تمام تر بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یک طرفہ طور پر حملے کے لیے آمادہ ہے۔ شام کے اندرونی کشیدہ حالات کا ذمے دار بھی امریکا ہے وہ شامی حکومت کے باغیوں کو اسلحہ اور امداد فراہم کر رہا ہے۔ بارک اوباما نے بھی اس کا کھلم کھلا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شام میں حکومتی مخالفین کی حمایت جاری رہے گی۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ امریکا شام میں حکومت گرانے کے لیے القاعدہ اور مذہبی گروہوں کو اسلحہ فراہم کر رہا ہے جب کہ افغانستان اور پاکستان میں القاعدہ کو دہشت گرد قرار دے کر ان کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔

روس کے امریکا کے مقابلے میں کمزور پڑنے پر دو طرفہ سرد جنگ تو ختم ہو چکی مگر امریکا نے واحد سپر پاور بننے کے بعد ہر اس حکومت کو ختم کرنے کا آغاز کر دیا جو ماضی میں روس کی حامی رہی تھی۔ شام کو بھی روسی نظام کا حامی ہونے کی سزا دی جا رہی ہے۔ امریکا جب باغیوں کی مدد سے شامی حکومت کو ختم کرنے میں ناکام ہو گیا اور اس نے دیکھا کہ بشار الاسد حکومت کی پوزیشن باغیوں کے خلاف مضبوط ہے تو اس نے شام پر براہ راست حملے کا اعلان کر دیا جس کے لیے اس نے پہلے کیمیائی حملے کا ڈرامہ رچایا ۔ وہ روس کے بار بار چیلنج کرنے کے باوجود کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے شواہد اقوام متحدہ میں پیش نہیں کررہا۔ کچھ روز پیشتر ایران نے کہا تھا کہ اس کے پاس اس امر کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال بشار حکومت کے مخالفین کی طرف سے کیا گیا ہے جنھیں امریکا اور یورپی ملکوں کی طرف سے جدید ترین ہتھیار فراہم کیے جا رہے ہیں۔

امریکا پوری دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے یہ پروپیگنڈا کر رہا ہے کہ شام کے خلاف فوجی کارروائی محدود مدت کے لیے ہو گی تاہم اس کی نوعیت شدید ہو گی تاکہ شام کو آیندہ کیمیائی حملے کرنے سے باز رکھا جا سکے۔ محدود مدت اور شدید نوعیت ہی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا جدید ترین اور مہلک ہتھیار استعمال کرے گا جس میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوں گی اور یہ ہلاکتیں کیمیائی حملے میں ہونے والی ان ہلاکتوں سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہیں جن کا جواز بنا کر امریکا یک طرفہ حملہ کرنے کے لیے بے تاب ہے۔ شامی حکومت امریکی حملے کی صورت میں بھرپور جواب دینے کا عزم تو ظاہر کر رہی ہے مگر کیا اس کے پاس امریکا کو نقصان پہنچانے کے لیے مطلوبہ دفاعی قوت موجود ہے۔ شام خانہ جنگی کا شکار ہے، بشار الاسد حکومت تمام تر قوت اور وسائل بروئے کار لانے کے باوجود ابھی تک باغیوں کو شکست نہیں دے سکی۔

ایسے میں کیا وہ امریکا جیسی سپر پاور کا مقابلہ کر سکے گی۔ افغانستان' عراق' لیبیا کو برباد کرنے کے بعد امریکا شام کے اندر تباہی پھیلانے کا منصوبہ بنا چکا ہے۔ صدر اوباما نے کہا ہے کہ حملے کے حوالے سے امریکی کانگریس میں بحث کے بعد منظوری لی جائے گی جب کہ فرانس نے تنہا فوجی کارروائی سے انکار کرتے ہوئے امریکی کانگریس میں بھیجے گئے بل کی منظوری کے انتظار کا کہا ہے اور مشترکہ کارروائی پر اصرار کیا ہے۔ جرمنی' اٹلی اور نیٹو کے بعض ممالک حملے میں حصہ لینے سے انکار کر چکے ہیں۔ چین اور روس کی مخالفت کے باوجود امریکا حملے کرنے پر تلا ہوا ہے۔ شام پر حملے سے ارد گرد کے ممالک بھی متاثر ہوں گے امریکا کو فوجی کارروائی کے بجائے اس تنازع کا سیاسی اور سفارتی حل تلاش کرنا چاہیے۔ امریکی جارحیت کے باعث دنیا پہلے ہی دہشت گردی جیسے عذاب میں مبتلا ہے' شام پر جارحیت سے دہشت گردی مزید شدت اختیار کرے گی جو مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ تک ہی محدود نہیں رہے گی بلکہ یورپ اور امریکا تک بھی پھیل سکتی ہے۔ لہٰذا بہتر یہی ہے کہ شام پر جارحیت سے اجتناب کیا جائے۔
Load Next Story