بجٹ عوام کے لیے بہتری لے آئے گا

بجٹ 2019-20کا مجموعی حجم 6800 ارب روپے متوقع ہے، اس میں ٹیکس وصولیوں کا ہدف 5550 ارب مقرر کیا گیا ہے۔

بجٹ 2019-20کا مجموعی حجم 6800 ارب روپے متوقع ہے، اس میں ٹیکس وصولیوں کا ہدف 5550 ارب مقرر کیا گیا ہے۔ فوٹو:فائل

وفاقی کابینہ آج آیندہ مالی سال کے لیے 6800ارب روپے کے لگ بھگ محاصل کے حجم پر مشتمل بجٹ پیش کرے گی جسے بعد میں منظوری کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا' تحریک انصاف کی حکومت کا یہ پہلا وفاقی بجٹ ہے' اس بجٹ میں محاصل بڑھانے کے لیے حکومتی توجہ ٹیکس کی وصولی زیادہ سے زیادہ افراد سے حاصل کرنے پر مرکوز نظر آتی ہے۔

بجٹ 2019-20کا مجموعی حجم 6800 ارب روپے متوقع ہے، اس میں ٹیکس وصولیوں کا ہدف 5550 ارب مقرر کیا گیا ہے جب کہ دفاع کے لیے 1250 ارب سے زائد اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے 925 ارب مختص کیے گئے ہیں۔ جب کہ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ مالی خسارے کا ہدف 3000 ارب جب کہ قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 2500 ارب روپے مختص کرنے کی تجاویز، 1400 ارب کے ٹیکس اقدامات اور سرکاری ملازمین کی تنخواہ و پنشن میں دس فیصد اضافہ متوقع ہے۔

بجٹ اعدادوشمار کا ایسا گورکھ دھندا ہے جو عام آدمی کی سمجھ سے بالاتر ہے' اس کی نظر اس پر ہوتی ہے کہ حکومت نے کتنی مہنگائی کی' تنخواہوں اور پنشن میں کتنا اضافہ کیا اور اس کی مالی بہتری کے لیے کیا اقدامات کیے۔ اگر حکومت یوٹیلٹی بلوں' پٹرول اور دیگر روز مرہ اشیا کی قیمتوں میں کمی کر دیتی اور عام آدمی کے لیے تعلیم' صحت اور دیگر سہولیات میں بہتری لاتی ہے تو یہ یقیناً عوامی بجٹ کہلاتا ہے لیکن اگر حکومت عوامی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیتی ہے تو اسے ناقدین عوام دشمن بجٹ کے نام سے پکارتے ہیں۔

اس بجٹ کا سب سے پریشان کن اشاریہ قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 25سو ارب روپے کی رقم ہے بقیہ حکومت کے پاس ملک کا نظام چلانے کے لیے 43سو ارب روپے بچتے ہیں لیکن 3ہزار ارب روپے کے مالی خسارے کو کم کرنے کے لیے حکومت مزید قرضے لینے پر مجبور ہو جائے گی جس پر اسے مزید سود ادا کرنا پڑے گا' یہی وجہ ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران حکومت معاشی ترقی' زراعت' صنعت' مینوفیکچرنگ' خدمات سمیت اہم شعبوں میں اہداف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی' مجموعی معاشی ترقی کی رفتار 6.2فیصد ہدف کے مقابلے میں 3.3 فیصد تھی' اس طرح معاشی ترقی کی رفتار ہدف کے مقابلے میں آدھی رہی۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا حکومت آیندہ مالی سال میں معاشی ترقی کے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔


حکومت قرضوں پر قرضے لے رہی اور روپے کی قدر میں کمی سے ہونے والی مہنگائی میں اضافے سے عام آدمی کے مسائل بڑھتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ ذرایع سے حاصل کردہ اقتصادی سروے کے مندرجات کے مطابق زرعی شعبے کی ترقی 3.8 فیصد ہدف کے مقابلے میں صرف 0.8فیصد' صنعتی شعبے کی ترقی 4.9فیصد کے مقابلے میں 1.4فیصد' خدمات کے شعبے کی ترقی 6.5فیصد کے مقابلے میں 4.7فیصد جب کہ بڑی فصلوں کی پیداوار کا ہدف 3.01 فیصد لیکن نتائج منفی6.5فیصد رہے' اسی طرح کپاس' جنگلات'فشریز سمیت دیگر شعبوں کا ہدف بھی پورا نہ ہو سکا۔

مجموعی طور پر ملکی معاشی ترقی کی رفتار پریشان کن ہی رہی۔ حکومتی معاشی بزرجمہروں کا خیال ہے کہ ٹیکس ادا کرنے والے افراد کی تعداد میں اضافے سے معاشی آسانیاں پیدا ہو سکتی ہیں یہی وجہ ہے کہ حکومت نے ٹیکس ادا نہ کرنے والوں کے لیے تعزیراتی قانون متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ جس کے تحت سابق ن لیگی حکومت کی فائلرز اور نان فائلرزکی پالیسی کو ختم کرکے بجٹ2019-20ء میں ٹیکس نیٹ سے باہر رہنے والے افراد پرتعزیراتی قانون کا اطلاق ہوگا۔

ایک خبر کے مطابق اس تجویز کا مقصدانکم ٹیکس پیئرزکی تعداد بڑھا کر4 ملین تک پہنچانا ہے تا کہ نئے مالی سال کے لیے متعین کردہ 688 بلین روپے کا اضافی ٹیکس ہدف حاصل کیا جا سکے کیونکہ اس وقت ایف بی آرکو سالانہ انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والے افراد کی تعداد دو ملین سے بھی کم ہے۔ سالانہ اپنے اثاثے اورآمدنی کے گوشوارے جمع نہ کرنے والے افراد کے خلاف صرف ہائی انکم ٹیکس ریٹس چارج کرنے کے موجودہ اقدامات کے برعکس حکومت نے کیش رکھنے یا بینک ٹرانزیکشن کرنے والے ایسے افراد جو ایکٹو ٹیکس پیئرزکی لسٹ میں شامل نہیں ہیں،کے خلاف فی الفور قانونی اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایف بی آر نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 میں 10واں شیڈول شامل کرنے کی تجویزدی ہے جس کے دو بنیادی قانونی اجزاء ہیں۔ اس شیڈول میں شامل ودہولڈنگ ٹیکس سے متعلق شق کے تحت سوفیصد ٹیکس پیئرکو چھوٹ دی جائے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس بجٹ میں عام آدمی کو کیا سہولیات ملتی ہیں یا اس کی مالی مشکلات میں پہلے سے بھی زیادہ اضافہ ہوتا ہے۔
Load Next Story