انٹر امتحانات میں پوزیشن ہولڈر طلبا کے اعزاز میں تقریب

کاپی کلچر کے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا، ہڑتالوں سے گریز کیا جائے، میرٹ پر اساتذہ بھرتی کیے جائیں، طلبا کا اظہار خیال

پری میڈیکل میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے طالب علم محمد شاہ اویس خان خلجی نے کہا کہ کاپی کلچرل کے خاتمے کے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکتا. فوٹو: فائل

ثانوی واعلٰی ثانوی تعلیمی بورڈ حیدرآباد کے تحت منعقدہ بارہویں جماعت کے امتحانات میں پوزیشن حاصل کرنے والے طالب علموں نے حکومت سے تعطیلات کی تعداد کم کرنے اور سیاسی جماعتوں سے ہڑتالوں سے گریز کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہڑتالوں اور سڑکوں پر احتجاج کے نتیجے میں تعلیمی ادارے بند ہوجاتے ہیں جس سے تعلیم متاثر ہوتی ہے۔

انھوں نے تعلیمی نصاب کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور اساتذہ کی بھرتی میرٹ پر کرنے پر بھی زور دیا ۔ ا ان خیالات کا اظہار ثانوی واعلٰی ثانوی تعلیمی بورڈ حیدرآباد کی جانب سے اپنے اعزاز میں پریس کلب آڈیٹوریم میں دیے جانے والے استقبالیے کے موقع پرمیڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں پوزیشن ہولڈرز طالب علموںکے والدین نے بھی شرکت کی۔تعلیمی بورڈ کے چیئرمین عبدالعلیم خانزادہ نے پریس کلب کے صدر اسحاق منگریو اور سیکریٹری حامد شیخ کے ہمراہ پوزیشن ہولڈرز طالب علموں میں نتائج پر مشتمل اسناد جبکہ پریس کلب کی جانب سے پوزیشن ہولڈرز کو ہار پہنانے کے علاوہ کیک کا تحفہ بھی دیا گیا۔

پری میڈیکل میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے طالب علم محمد شاہ اویس خان خلجی نے کہا کہ کاپی کلچرل کے خاتمے کے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکتا، طلبا کو نقل کی لعنت سے متعلق آگہی دیکر کاپی کلچرل کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ دوسری پوزیشن حاصل کرنے والی طالبہ اقرار نے کہا کہ اگر ہم ملک میں تبدیلی چاہتے ہیں توپھر ہمیں نصاب میں بھی جدید دور کے تقاضوں کے مطابق تبدیلی کرنی ہوگی۔ تیسری پوزیشن حاصل کرنے والی طالبہ ماہ نور نے کہا کہ ہمارے صوبے اور ملک میں تعطیلات بہت زیادہ ہیں جس سے تعلیم بہت زیادہ متاثر ہوتی ہے۔ تیسری پوزیشن حاصل کرنے والی طالبہ تنزیلہ خالدکورائی نے کہا کہ ہڑتالیں کرنے کے نتیجے میں اسکول اورکالجز بند اور تعلیم کا سلسلہ رک جاتاہے۔ کاپی کلچرل ختم کرنا ہے توپھر حکومت میرٹ پر تعلیم یافتہ اساتذہ بھرتی کرے۔




پری انجینئرنگ گروپ میں تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے پبلک اسکول حیدرآباد کے طالب علم محمداسامہ بن اعجاز نے کہا کہ امتحانات کے طریقہ کار کو بہتر بنانے کی ضروت ہے۔ طالب عالموں کو چاہیے کہ خود پڑھیں اور اپنے اساتذہ سے ہر معاملے میں رہنمائی حاصل کریں۔ سائنس جنرل گروپ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والی طالبہ عروج نے کہا کاپی کلچرل کے خاتمے کے لیے ویجیلنس ٹیموں کی تعداد کو بڑھانے کی ضرورت ہے، لوڈشیڈنگ سے بھیپڑھائی متاثر ہوتی ہے۔ سیکنڈ پوزیشن حاصل کرنے والی طالبہ آمنہ شیخ نے کہا کہ ہڑتالوں کے نتیجے میں طالب علموں کو تعلیمی نقصان ہوتاہے۔ تیسری پوزیشن حاصل کرنے والی طالبہ عفیفہ صدیقی نے صدر مملکت اور حکومت سے اعلی تعلیم کے حصول کے لیے اسکالر شپ فراہم کرنے کی اپیل کی اورکہا کہ کراچی کے حالات ہم سب کے لیے باعث تشویش ہیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تعلیمی بورڈ حیدرآباد کے چیئرمین انجینیئر عبدالعلیم خانزادہ نے کہا ہے کہ بورڈ حیدرآباد نے ایسے20 تعلیمی اداروں کا سراغ لگایا ہے جہاں امتحانات میں کامیابی کا تناسب30فیصد سے کم رہا ہے، بورڈ ایسے اداروں کا الحاق ختم کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ تعلیمی بورڈ نے طالبعلموں کی75فیصد حاضری پر سختی سے عمل درآمد کرنے کافیصلہ کیا ہے جس کے تحت ہم نے تعلیمی بورڈ میں طالب حاضری ڈیسک قائم کردیا ہے اور بورڈ سے الحاق رکھنے والے تمام تعلیمی اداروں کو خطوط تحریر کیے جارہے ہیں کہ وہ ہر ماہ اپنے تعلیمی ادارے میں نویں، دسویں، گیارہویں اور بارہویں جماعت میں داخل طالب علموں کی حاضری رپورٹ ڈیسک پرجمع کرائیں جہاں تمام طالب علموں کی حاضریوں کا ریکارڈ کمپیوٹراڈ کیا جائے گا۔
Load Next Story