سپرہائی وے مویشی منڈی پہلی مرتبہ صارفین کیلیے شکایتی کیمپ لگایا جائے گا
دھوکہ دہی کی وارداتوں، بیمار مویشیوں کی فروخت کی روک تھام اور پارکنگ مسائل کے حل کیلیے شکایتی کیمپ 24گھنٹے کام کریگا
کمشنر کراچی نے منڈی کی انتظامیہ اور کنزیومر رائٹس پروٹیکشن کونسل کے اشتراک سے صارفین کے لیے خصوصی کوآرڈی نیشن ڈیسک قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے. فوٹو: فائل
KARACHI:
کمشنر کراچی شعیب صدیقی کی ہدایت پر سپر ہائی وے میں لگنے والی مویشی منڈی میں صارفین کی سہولت کے لیے خصوصی انتظامات کیے جائیں گے۔
کنزیومر رائٹس پروٹیکشن کونسل آف پاکستان کے چیئرمین شکیل احمد بیگ کے مطابق مویشی منڈی میں پہلی مرتبہ صارفین کے لیے شکایتی کیمپ لگایا جائے گا جو منڈی کی حدود میں ہونے والی دھوکہ دہی کی وارداتوں، بیمار اور نقص والے مویشیوں کی فروخت کی روک تھام اور پارکنگ سے متعلق مسائل کے حل کے لیے 24گھنٹے کام کرے گا، مویشی منڈی میں نجی بینک کے ذریعے بینکاری کی خدمات بھی فراہم کی جائیں گی جن میں اے ٹی ایم سروس کے علاوہ بیوپاریوں کی رقوم کی محفوظ ترسیل کے لیے ڈپازٹ اور ٹرانسفر کی سہولتیں شامل ہیں، شہر میں ڈنگی کی وبا کو پھیلنے سے روکنے کیلیے منڈی میں مچھر مار ادویات کا اسپرے کروایا جائے گا، طبی امداد کی سہولتوں سے لیس2 ایمبولینسیں اور ایک فائر ٹینڈر بھی منڈی میں موجود ہو گا۔
ہیلتھ ڈپارٹمنٹ سے 4 ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل پر مشتمل ٹیم صارفین کو ایمرجنسی کی صورت میں ابتدائی طبی سہولت فراہم کریگی جبکہ منڈی کی سیکیورٹی کے لیے240 اہلکاروں کی نفری فراہم کی جائیگی، شکیل احمد بیگ نے بتایا کہ کنزیومر رائٹس پروٹیکشن کونسل نے کمشنر کراچی سے صارفین کی سہولت کے لیے بھرپور اقدامات کی اپیل کی تھی جس میں نقص والے جانوروں کی فروخت کے امکانات کو روکنے اور دھوکہ دہی کے واقعات کی روک تھام جیسے مطالبات بھی شامل تھے.
کمشنر کراچی نے منڈی کی انتظامیہ اور کنزیومر رائٹس پروٹیکشن کونسل کے اشتراک سے صارفین کے لیے خصوصی کوآرڈی نیشن ڈیسک قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے ذریعے کوئی بھی شہری بیمار یا نقص والا جانور بیوپاری کو واپس کرسکے گا، منڈی کی حدود میں فروخت ہونیو الی خوردنی اشیا اور پانی کے معیار کی بھی مسلسل نگرانی کی جائیگی۔
کمشنر کراچی شعیب صدیقی کی ہدایت پر سپر ہائی وے میں لگنے والی مویشی منڈی میں صارفین کی سہولت کے لیے خصوصی انتظامات کیے جائیں گے۔
کنزیومر رائٹس پروٹیکشن کونسل آف پاکستان کے چیئرمین شکیل احمد بیگ کے مطابق مویشی منڈی میں پہلی مرتبہ صارفین کے لیے شکایتی کیمپ لگایا جائے گا جو منڈی کی حدود میں ہونے والی دھوکہ دہی کی وارداتوں، بیمار اور نقص والے مویشیوں کی فروخت کی روک تھام اور پارکنگ سے متعلق مسائل کے حل کے لیے 24گھنٹے کام کرے گا، مویشی منڈی میں نجی بینک کے ذریعے بینکاری کی خدمات بھی فراہم کی جائیں گی جن میں اے ٹی ایم سروس کے علاوہ بیوپاریوں کی رقوم کی محفوظ ترسیل کے لیے ڈپازٹ اور ٹرانسفر کی سہولتیں شامل ہیں، شہر میں ڈنگی کی وبا کو پھیلنے سے روکنے کیلیے منڈی میں مچھر مار ادویات کا اسپرے کروایا جائے گا، طبی امداد کی سہولتوں سے لیس2 ایمبولینسیں اور ایک فائر ٹینڈر بھی منڈی میں موجود ہو گا۔
ہیلتھ ڈپارٹمنٹ سے 4 ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل پر مشتمل ٹیم صارفین کو ایمرجنسی کی صورت میں ابتدائی طبی سہولت فراہم کریگی جبکہ منڈی کی سیکیورٹی کے لیے240 اہلکاروں کی نفری فراہم کی جائیگی، شکیل احمد بیگ نے بتایا کہ کنزیومر رائٹس پروٹیکشن کونسل نے کمشنر کراچی سے صارفین کی سہولت کے لیے بھرپور اقدامات کی اپیل کی تھی جس میں نقص والے جانوروں کی فروخت کے امکانات کو روکنے اور دھوکہ دہی کے واقعات کی روک تھام جیسے مطالبات بھی شامل تھے.
کمشنر کراچی نے منڈی کی انتظامیہ اور کنزیومر رائٹس پروٹیکشن کونسل کے اشتراک سے صارفین کے لیے خصوصی کوآرڈی نیشن ڈیسک قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے ذریعے کوئی بھی شہری بیمار یا نقص والا جانور بیوپاری کو واپس کرسکے گا، منڈی کی حدود میں فروخت ہونیو الی خوردنی اشیا اور پانی کے معیار کی بھی مسلسل نگرانی کی جائیگی۔