لیاری عوام میں خوف عزت بچانے کیلیےعورتوں نے ہتھیاراٹھالیے
لیاری کے کئی علاقے نوگو ایریا بن چکے ہیں، علاقہ مکین
لیاری میں گولیوں اور گولوں سے پھیلی تباہی جابجانظرآتی ہے۔ فوٹو؛ فائل
FAISALABAD:
لیاری میںمقیم بلوچوں اور کچھیوں کوکس نے لڑایا؟ صدیوں کے ساتھی،ایک دوسرے کے خون کے پیاسے کیوں؟
وہاں کے گلی محلوںمیںجنگی ہتھیارکون لایا؟کیاتالی ایک ہاتھ سے بج سکتی ہے؟آگ پرپانی ڈالاجارہاہے یاتیل؟حکومت کی رٹ کہاںہے؟ان سوالوںکے جواب ڈھونڈنے کیلئے ایکسپریس نیوزکے پروگرام تکرارکے میزبان عمران خان اپنی ٹیم کے ہمراہ بلوچ علاقوںاوران کے مکینوںکی حالت زارجاننے کیلئے اتوارکو وہاںجاپہنچے۔وہاںکے درودیواربھی کچھی کے علاقوںکی طرح جنگ کی تصویرکشی کررہے تھے، گولیوں اور گولوں سے پھیلی تباہی جابجانظرآرہی تھی،نقاب کی ہوئی عورتوںنے اسلحہ اٹھارکھاتھاجبکہ بچے اوربوڑھے خوف ودہشت کے عالم میں دکھائی دیئے۔عمران خان نے دونوںعلاقوںکی حدبندی کرنے والی 'سرحد'دکھائی کہ یہاں کے لوگ وہاں اور وہاں کے لوگ یہاں نہیں آسکتے حتی کہ پولیس بھی نہیں آسکتی۔
نھوں نے 9 نمبرگلی دکھاتے ہوئے بتایاکہ اس گلی کانام ہے تو 'پھول پتی لین'مگرآجکل یہاںگولے گررہے ہیں۔دبئی چوک کے قریب ایک لڑکے نے بتایاکہ دوروزقبل یہاںمارٹرگولے پھینکے گئے،پتہ نہیںکون لوگ ایسا کررہے ہیں ۔ایک معمرخاتون نے دہائی دی کہ پتہ نہیںلوگ کیوںلڑرہے ہیں؟بے آواز گولیاں مارتے ہیں،میرے نواسے کوگولی ماری گئی۔ پہلے امن سے رہتے تھے،پتہ نہیںکہاںسے نفرت یہاںآگئی؟ہم بہت تنگ ہیں،کام پر نہیں جاسکتے،انوشا اوردیگردوکم سن بہنوںنے بتایا کہ ہمارے گھرمیںبم پھٹاتھا،جس سے ہم ڈرگئے،کان بند ہوگئے،فرنیچروغیرہ تباہ ہوگیا، گولیوں اوربم دھماکوںکے باعث ہم سکول جاسکتے ہیںنہ مدرسے۔آٹومیٹک رائفلیں اٹھائے دونقاب پوش خواتین نے بتایاکہ ہمارے مردصبح کام پرجاتے ہیںاورشام کوواپس آتے ہیں،اپنی حفاظت خودکرناپڑتی ہے، ہمیں یہ بندوق چلانی ہے،اپنی عزت بچانی ہے۔
دوماہ سے ہم عورتوںنے اسلحہ اٹھایا ہوا ہے۔ بلوچوں کے نمائندہ ظفربلوچ نے بتایاکہ مہاجرری پبلکن آرمی والی رپورٹ درست ہے،مسلم لیک ن کی حکومت دباؤمیںہے۔فوج بلانے کامطالبہ سیاسی ہے،وہ نیک نیتی سے آئے توہمیں اعتراض نہیںہوگاتاہم ایم کیو ایم اپنے مطالبے سے پیچھے ہٹ جائے گی۔ان کاکہناتھاکہ'تیسراعنصر'تنگ کررہاہے،ہمارے علاقوں میں گولے کس نے گرائے؟دونوں طرف سے لوگ لڑرہے ہیں، چادر اور چار دیواری پامال ہوگی اورپولیس اپناکام نہیں کریگی تولڑکے اسلحہ اٹھائیںگے۔نوگوایریازتونائن زیرومیںبھی ہیں۔ظفربلوچ نے مزیدکہاکہ گلی محلوںکی سیاست میںفوج کوملوث کرنا زیادتی ہوگی۔
لیاری میںمقیم بلوچوں اور کچھیوں کوکس نے لڑایا؟ صدیوں کے ساتھی،ایک دوسرے کے خون کے پیاسے کیوں؟
وہاں کے گلی محلوںمیںجنگی ہتھیارکون لایا؟کیاتالی ایک ہاتھ سے بج سکتی ہے؟آگ پرپانی ڈالاجارہاہے یاتیل؟حکومت کی رٹ کہاںہے؟ان سوالوںکے جواب ڈھونڈنے کیلئے ایکسپریس نیوزکے پروگرام تکرارکے میزبان عمران خان اپنی ٹیم کے ہمراہ بلوچ علاقوںاوران کے مکینوںکی حالت زارجاننے کیلئے اتوارکو وہاںجاپہنچے۔وہاںکے درودیواربھی کچھی کے علاقوںکی طرح جنگ کی تصویرکشی کررہے تھے، گولیوں اور گولوں سے پھیلی تباہی جابجانظرآرہی تھی،نقاب کی ہوئی عورتوںنے اسلحہ اٹھارکھاتھاجبکہ بچے اوربوڑھے خوف ودہشت کے عالم میں دکھائی دیئے۔عمران خان نے دونوںعلاقوںکی حدبندی کرنے والی 'سرحد'دکھائی کہ یہاں کے لوگ وہاں اور وہاں کے لوگ یہاں نہیں آسکتے حتی کہ پولیس بھی نہیں آسکتی۔
نھوں نے 9 نمبرگلی دکھاتے ہوئے بتایاکہ اس گلی کانام ہے تو 'پھول پتی لین'مگرآجکل یہاںگولے گررہے ہیں۔دبئی چوک کے قریب ایک لڑکے نے بتایاکہ دوروزقبل یہاںمارٹرگولے پھینکے گئے،پتہ نہیںکون لوگ ایسا کررہے ہیں ۔ایک معمرخاتون نے دہائی دی کہ پتہ نہیںلوگ کیوںلڑرہے ہیں؟بے آواز گولیاں مارتے ہیں،میرے نواسے کوگولی ماری گئی۔ پہلے امن سے رہتے تھے،پتہ نہیںکہاںسے نفرت یہاںآگئی؟ہم بہت تنگ ہیں،کام پر نہیں جاسکتے،انوشا اوردیگردوکم سن بہنوںنے بتایا کہ ہمارے گھرمیںبم پھٹاتھا،جس سے ہم ڈرگئے،کان بند ہوگئے،فرنیچروغیرہ تباہ ہوگیا، گولیوں اوربم دھماکوںکے باعث ہم سکول جاسکتے ہیںنہ مدرسے۔آٹومیٹک رائفلیں اٹھائے دونقاب پوش خواتین نے بتایاکہ ہمارے مردصبح کام پرجاتے ہیںاورشام کوواپس آتے ہیں،اپنی حفاظت خودکرناپڑتی ہے، ہمیں یہ بندوق چلانی ہے،اپنی عزت بچانی ہے۔
دوماہ سے ہم عورتوںنے اسلحہ اٹھایا ہوا ہے۔ بلوچوں کے نمائندہ ظفربلوچ نے بتایاکہ مہاجرری پبلکن آرمی والی رپورٹ درست ہے،مسلم لیک ن کی حکومت دباؤمیںہے۔فوج بلانے کامطالبہ سیاسی ہے،وہ نیک نیتی سے آئے توہمیں اعتراض نہیںہوگاتاہم ایم کیو ایم اپنے مطالبے سے پیچھے ہٹ جائے گی۔ان کاکہناتھاکہ'تیسراعنصر'تنگ کررہاہے،ہمارے علاقوں میں گولے کس نے گرائے؟دونوں طرف سے لوگ لڑرہے ہیں، چادر اور چار دیواری پامال ہوگی اورپولیس اپناکام نہیں کریگی تولڑکے اسلحہ اٹھائیںگے۔نوگوایریازتونائن زیرومیںبھی ہیں۔ظفربلوچ نے مزیدکہاکہ گلی محلوںکی سیاست میںفوج کوملوث کرنا زیادتی ہوگی۔