سیلابی ریلہ ٹھٹھہ میں داخل بندوں پر پانی کا دباؤ بڑھ گیا
کچے کے رہائشیوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی، کوٹری، سکھر اور گدو بیراجوں میں پانی کی سطح بتدریج کم ہونے لگی
ڈپٹی کمشنر آغا شاہنواز بابر دریائے سندھ کے حفاظتی بندوں کا دورہ کر رہے ہیں۔ فوٹو : ایکسپریس
دریائے سندھ میں کوٹری بیراج کے مقام پر پر درمیانے جب کہ سکھر اور گدو پر نچلے درجے کا سیلاب ہے اور تینوں بیراجوں پر پانی کی سطح کم ہو رہی ہے۔
کوٹری بیراج کنٹرول روم کے مطابق دریائے سندھ میں کوٹری بیراج کے مقام پر پانی کی آمد 3 لاکھ 58 ہزار 368 کیوسک اور اخراج 3 لاکھ 22 ہزار 398 کیوسک ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پانی کی آمد اور اخراج میں 10 ہزار926 کیوسک کمی واقع ہوئی ہے۔ سکھر بیراج پر پانی کی آمد3 لاکھ 25 ہزار110 کیوسک اور اخراج2 لاکھ83 ہزار402 کیوسک ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران یہاں پانی کی آمد میں 17 ہزار624کیوسک اور اخراج میں 2 ہزار72 کیوسک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
گدو بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ12 ہزار773 کیوسک اور اخراج 3 لاکھ22 ہزار398 کیوسک ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران گدو بیراج پر پانی کی آمد میں15 ہزار493 کیوسک اور اخراج میں 30 ہزار223 کیوسک کمی ریکارڈ کی گئی ۔ درمیانے درجے کا سیلابی ریلا ضلع ٹھٹھہ سے گزر رہا ہے، جس کے باعث وہاں سورجانی، منارکی و دیگر بندوں پر پانی کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی وارننگ کے بعد کچے کے رہائشیوں کا محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
کوٹری بیراج کنٹرول روم کے مطابق دریائے سندھ میں کوٹری بیراج کے مقام پر پانی کی آمد 3 لاکھ 58 ہزار 368 کیوسک اور اخراج 3 لاکھ 22 ہزار 398 کیوسک ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پانی کی آمد اور اخراج میں 10 ہزار926 کیوسک کمی واقع ہوئی ہے۔ سکھر بیراج پر پانی کی آمد3 لاکھ 25 ہزار110 کیوسک اور اخراج2 لاکھ83 ہزار402 کیوسک ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران یہاں پانی کی آمد میں 17 ہزار624کیوسک اور اخراج میں 2 ہزار72 کیوسک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
گدو بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ12 ہزار773 کیوسک اور اخراج 3 لاکھ22 ہزار398 کیوسک ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران گدو بیراج پر پانی کی آمد میں15 ہزار493 کیوسک اور اخراج میں 30 ہزار223 کیوسک کمی ریکارڈ کی گئی ۔ درمیانے درجے کا سیلابی ریلا ضلع ٹھٹھہ سے گزر رہا ہے، جس کے باعث وہاں سورجانی، منارکی و دیگر بندوں پر پانی کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی وارننگ کے بعد کچے کے رہائشیوں کا محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔