بیوہ کا پولیس کانسٹیبل پر بیٹی سے دست درازی کا الزام

ماضی میں بھی پریشان کرتا رہا، تحفظ فراہم کیا جائے، تھانے میں درخواست جمع

شور مچانے پر علاقے کے لوگوں نے سپاہی عارف راجپوت کو پکڑ لیا تاہم سپاہی نے بھاگ کر اپنی جان بچائی۔ فوٹو: فائل

لطیف آباد بی سیکشن پولیس تھانے کی حدود لطیف آباد نمبر 9 میں پولیس کانسٹیبل عارف راجپوت نے ایک بیوہ صغراں کے گھر میں گھس کے مبینہ طور پر اس کی جواں سال بیٹی''ف'' سے دست درازی کرنے کی کوشش کی۔

شور مچانے پر علاقے کے لوگوں نے سپاہی عارف راجپوت کو پکڑ لیا تاہم سپاہی نے بھاگ کر اپنی جان بچائی۔ واقعے کے خلاف بیوہ صغراں نے ایس ایچ او لطیف آباد بی سیکشن جاوید شاہ راشدی درخواست دی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ پولیس کانسٹیبل عارف راجپوت اس کو ماضی میں بھی پریشان کرتا رہا ہے جس کی شکایات پر اس کا تبادلہ کردیا گیا تھا اب وہ ایک بار پھر اسی تھانے پر آ گیا ہے اور ان کے خاندان کو تنگ کر رہا ہے اور مختلف نوعیت کی دھمکیاں دے رہا ہے اور انھیں مسلسل ہراساں کر رہا ہے اس لیے انھیں تحفظ فراہم کیا جائے۔




اس سلسلے میں ایس ایچ او لطیف آباد بی سیکشن جاوید شاہ راشدی نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ صغراں کا اپنے سسرالیوں سے جھگڑا چل رہا ہے اور ان کے درمیان تنازع ہے ، ان کے پاس صغراں نے ایسی کوئی درخواست جمع نہیں کروائی بلکہ وہ جھوٹ بول رہی ہے۔
Load Next Story