انٹرنیشنل کرکٹ شیڈولنگ میں بھی بھارتی من مانیاں شروع
انگلینڈ کو 5 ٹیسٹ کی آئیکون سیریزکا تحفہ، 1959کے بعد پہلا موقع
پروٹیزکوسبق سکھانے کافیصلہ،نیوزی لینڈکو 1 ٹیسٹ اور ٹوئنٹی20 سے محروم کر دیا فوٹو: اے ایف پی/فائل
بھارت نے انٹرنیشنل شیڈولنگ میں بھی من مانیاں شروع کردیں، جنوبی افریقہ کو حکم عدولی پر سبق سکھانے کا فیصلہ کرلیا۔
انگلینڈ کو5 ٹیسٹ میچز کی آئیکون سیریز کا تحفہ دے دیا، 1959 کے بعد پہلی بار بھارتی ٹیم انگلش سرزمین پر ایک ساتھ اتنے ٹیسٹ کھیلے گی، نیوزی لینڈ کو ایک ٹیسٹ اور ٹوئنٹی 20 سے محروم کردیا۔تفصیلات کے مطابق دنیا کے سب سے امیر ترین بھارتی بورڈ کی انٹرنیشنل کرکٹ میں من مانیوں کا سلسلہ دراز ہوگیا، اب اس نے براہ راست فیوچر ٹور پروگرام پر اثر انداز ہونا شروع کردیا ہے، تمام ضوابط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے لیے موزوں شیڈول خود ہی تیار کرنا شروع کردیے،اس کے غیض و غضب کا نشانہ اس وقت جنوبی افریقی کرکٹ بورڈ بنا ہوا ہے۔
جس نے حکم عدولی کرتے ہوئے لورگاٹ کو اپنا چیف ایگزیکٹیو مقرر کردیا تھا،ایف ٹی پی کے تحت بھارتی ٹیم کو نومبر سے جنوری تک جنوبی افریقہ کا دورہ کرنا ہے، پروٹیز بورڈ باقاعدہ شیڈول تیار کرکے منظوری کیلیے بی سی سی آئی کو بھیج چکا مگر ابھی تک اس پر کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا،نومبر میں ویسٹ انڈیز کو بھی2 ٹیسٹ میچز کیلیے بھارت مدعو کرلیا گیا جس سے اس ٹور پر غیریقینی کے سائے بڑھ گئے ہیں، بی سی سی آئی کے صدر این سری نواسن کا کہنا ہے جنوبی افریقہ کا ٹور منسوخ نہیں ہوگا، ایک اور آفیشل کا کہنا ہے کہ ہم کسی بھی فیصلے سے قبل اپنے اور کھلاڑیوں کے مفادات کو دیکھیں گے۔
دوسری جانب جنوبی افریقی کرکٹ بورڈ کے ایک آفیشل کا کہنا ہے کہ ہمیں شیڈول کے حوالے سے بھارتی بورڈ کی کوئی تجویز موصول نہیں ہوئی، ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سیریز کو مختصرجبکہ محدود اوورز کے میچز سے قبل ٹیسٹ سیریز کھیلنے کا مطالبہ بھی کیا جائیگا،اس سے پروٹیز بورڈ کے باکسنگ ڈے ٹیسٹ کی واپسی کے منصوبے پر پانی پھر جائیگا۔ دوسری جانب بھارت آئندہ برس جون، جولائی میں انگلینڈ کے ٹور میں 1959 کے بعد پہلی مرتبہ پانچ ٹیسٹ میچز کی سیریز کھیلے گا، دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ پانچوں ٹیسٹ صرف ایک ماہ کے دوران کھیلے جائینگے جس سے پلیئرز پر بوجھ بڑھ جائیگا۔
اس دورے میں 5 ون ڈے اور ایک ٹوئنٹی 20 بھی شامل ہے۔ بی سی سی آئی نے نیوزی لینڈ کے ساتھ سیریز بھی محدود کردی، اب وہ 19 جنوری سے 18 فروری تک محدود دورے میں تین کے بجائے 2 ٹیسٹ اور پانچ ون ڈے میچز کھیلیں گے،ایک ٹوئنٹی 20 مقابلے کو بھی ختم کردیا گیا۔ یہ معلوم نہیں ہوا کہ بی سی سی آئی2 مقابلوں کی کٹوتی پر این زیڈ سی کو زرتلافی بھی دیگا یا نہیں۔
انگلینڈ کو5 ٹیسٹ میچز کی آئیکون سیریز کا تحفہ دے دیا، 1959 کے بعد پہلی بار بھارتی ٹیم انگلش سرزمین پر ایک ساتھ اتنے ٹیسٹ کھیلے گی، نیوزی لینڈ کو ایک ٹیسٹ اور ٹوئنٹی 20 سے محروم کردیا۔تفصیلات کے مطابق دنیا کے سب سے امیر ترین بھارتی بورڈ کی انٹرنیشنل کرکٹ میں من مانیوں کا سلسلہ دراز ہوگیا، اب اس نے براہ راست فیوچر ٹور پروگرام پر اثر انداز ہونا شروع کردیا ہے، تمام ضوابط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے لیے موزوں شیڈول خود ہی تیار کرنا شروع کردیے،اس کے غیض و غضب کا نشانہ اس وقت جنوبی افریقی کرکٹ بورڈ بنا ہوا ہے۔
جس نے حکم عدولی کرتے ہوئے لورگاٹ کو اپنا چیف ایگزیکٹیو مقرر کردیا تھا،ایف ٹی پی کے تحت بھارتی ٹیم کو نومبر سے جنوری تک جنوبی افریقہ کا دورہ کرنا ہے، پروٹیز بورڈ باقاعدہ شیڈول تیار کرکے منظوری کیلیے بی سی سی آئی کو بھیج چکا مگر ابھی تک اس پر کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا،نومبر میں ویسٹ انڈیز کو بھی2 ٹیسٹ میچز کیلیے بھارت مدعو کرلیا گیا جس سے اس ٹور پر غیریقینی کے سائے بڑھ گئے ہیں، بی سی سی آئی کے صدر این سری نواسن کا کہنا ہے جنوبی افریقہ کا ٹور منسوخ نہیں ہوگا، ایک اور آفیشل کا کہنا ہے کہ ہم کسی بھی فیصلے سے قبل اپنے اور کھلاڑیوں کے مفادات کو دیکھیں گے۔
دوسری جانب جنوبی افریقی کرکٹ بورڈ کے ایک آفیشل کا کہنا ہے کہ ہمیں شیڈول کے حوالے سے بھارتی بورڈ کی کوئی تجویز موصول نہیں ہوئی، ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سیریز کو مختصرجبکہ محدود اوورز کے میچز سے قبل ٹیسٹ سیریز کھیلنے کا مطالبہ بھی کیا جائیگا،اس سے پروٹیز بورڈ کے باکسنگ ڈے ٹیسٹ کی واپسی کے منصوبے پر پانی پھر جائیگا۔ دوسری جانب بھارت آئندہ برس جون، جولائی میں انگلینڈ کے ٹور میں 1959 کے بعد پہلی مرتبہ پانچ ٹیسٹ میچز کی سیریز کھیلے گا، دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ پانچوں ٹیسٹ صرف ایک ماہ کے دوران کھیلے جائینگے جس سے پلیئرز پر بوجھ بڑھ جائیگا۔
اس دورے میں 5 ون ڈے اور ایک ٹوئنٹی 20 بھی شامل ہے۔ بی سی سی آئی نے نیوزی لینڈ کے ساتھ سیریز بھی محدود کردی، اب وہ 19 جنوری سے 18 فروری تک محدود دورے میں تین کے بجائے 2 ٹیسٹ اور پانچ ون ڈے میچز کھیلیں گے،ایک ٹوئنٹی 20 مقابلے کو بھی ختم کردیا گیا۔ یہ معلوم نہیں ہوا کہ بی سی سی آئی2 مقابلوں کی کٹوتی پر این زیڈ سی کو زرتلافی بھی دیگا یا نہیں۔