تارکین وطن اور جرائم پیشہ عناصر کیخلاف کارروائی پولیس کمائی کا ذریعہ بن گئی

حالات کشیدہ ہوں یا ملزمان کی گرفتاری کی ہدایت ہو دونوںصورتیں پولیس کیلیے مثالی ہیں،زیرحراست بے گناہ افراد کی۔۔۔، ذرائع

پولیس کی جانب سے اسنیپ چیکنگ اور گشت کے باوجود ملزمان پولیس کی آنکھوں میں دھول جھونک کر لاشیں پھینک کر فرار ہوجاتے ہیں، شہری فوٹو: فائل

کراچی بدامنی کیس کی سماعت کے دوران پولیس کی ناقص کارکردگی کا پول کھلنے کے بعد اور شہر میں بڑھتی ہوئی ٹارگٹ کلنگ ، اغوا کے بعد قتل کر کے لاشیں پھینکنے کے پے در پے واقعات، بھتہ خوری اور دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کو بھی پولیس نے کمائی کا ذریعہ بنا لیا۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ شہر میں حالات کشیدہ ہوں یا اعلیٰ حکام کی جانب سے ملزمان کی گرفتاری کی ہدایات ہو دونوں صورتیں پولیس کے لیے مثالی ہیں جس میں وہ مبینہ طور پر اپنے خرچے پورے کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے ، شہر میں امن و امان کی انتہائی ابتر صورتحال اور شہریوں کے روزانہ کی بنیاد پر بے دریغ قتل عام پر کراچی بدامنی کیس کی سماعت کے دوران پولیس کی ناقص کارکردگی کا پول کھلنے پر پولیس کے اعلیٰ افسران کی جانب سے جاری کی گئی ہدایات کی روشنی میں پولیس ایسی متحرک ہوئی کہ انھیں اس دوران غیر قانونی تارکین وطن کی یاد کے ساتھ ساتھ سڑکوں پر نشے کی لت پوری کرنے والے نشئی افراد، جرائم پیشہ اور بھتہ خور بھی یاد آگئے ، گزشتہ چند روز میں پولیس کی جانب سے تابڑ توڑ چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران سیکڑوں افراد حراست میں لے کر لاک اپ میں بھر دیے گئے۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس کے تینوں زونز ساؤتھ ، ایسٹ اور ویسٹ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے لیے زیادہ سے زیادہ گرفتاریاں ظاہر کر کے اعلیٰ پولیس افسران کو خوش کرنے میں اتنے بدمست ہوگئے کہ انھوں نے زندگی سے بیزار نشہ کرنے والوں کو نہیں بخشا اور انھیں بھی گرفتار کرلیا ، پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی کو پولیس نے مبینہ طورپر کمائی کا ذریعہ بنالیا ہے اور جرائم پیشہ عناصر کے ساتھ ساتھ بے گناہوں کو پکڑ کر تھانے لا کر انھیں علیحدہ رکھا جاتا ہے۔




بعدازاں ان کی تلاش میں آنے والے اہلخانہ کو یہ بتایا جاتا ہے کہ تمہارا بچہ جرائم پیشہ ہے یا اس کا جرائم پیشہ عناصر کے ساتھ میل جول تھا اور اسے تفتیش کے لیے لایا گیا ہے، پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ بے گناہ افراد کو حراست میں لیے جانے کے بعد ان کی رہائی کے لیے آنے والے اہلخانہ سے تھانوں میں موجود ایسے لوگ جو پولیس اور بچوں کی رہائی کے لیے آنے والوں کے درمیان رابطے کا کام انجام دیتے ہیں ان کی مدد سے رقم وصول کی جاتی ہے جس میں ان کا بھی حصہ ہوتا ہے۔

پولیس کی چھاپہ مار کارروائیوں پر شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی ماہ سے شہر کے مختلف علاقوں سے اغوا کے بعد قتل کیے جانے والے افراد کی لاشیں ملنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے تاہم حیرت انگیز طور پر پولیس نے آج تک ایسا کوئی ملزم گرفتار نہیں کیا جو لاش پھینک رہا ہو جبکہ لاشیں پھینکنے کے لیے ملزمان یقیناً گاڑیاں بھی استعمال کرتے ہونگے لیکن پولیس کی جانب سے اسنیپ چیکنگ اور گشت کے باوجود ملزمان پولیس کی آنکھوں میں دھول جھونک کر لاشیں پھینک کر فرار ہوجاتے ہیں جبکہ پولیس کا کام صرف لاشیں اٹھا کر اسپتال پہنچانا ہی باقی رہ گیا ہے۔
Load Next Story