شہید ملت ایکسپریس وے پر ناقص اسپیڈ بریکرز تعمیر ٹریفک جام معمول بن گیا
ایکسپریس وے کی غلط ڈیزائن پر تعمیر کی گئی ، ہر موڑ ’’بلیک اسپاٹ ‘‘بن گیا ہے، ٹریفک ماہرین
شہید ملت ایکسپریس وے پرلگائے گئے اسپیڈ بریکر زکے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہورہی ہے۔ فوٹو: ایکسپریس
RIO DE JANEIRO:
بلدیہ عظمیٰ کی غلط منصوبہ بندی کے باعث شہید ملت ایکسپریس وے پرگاڑیوںکی رفتار کم کرنے کیلیے ناقص اسپیڈ بریکرز تعمیر کیے گئے ہیں جس کے باعث ٹریفک جام کی شکایات عام ہوگئی ہیں جبکہ اسپیڈ بریکرز میں نصب بلاکس بھی اکھڑنے لگے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ اینڈ کمیونیکیشن کے سینئر ڈائریکٹر محمد اطہر نے بتایا کہ ٹریفک حادثات کو کنٹرول کرنے کے لیے آزمائشی بنیادوں پر یہ بلاکس نصب کیے گئے تھے تاکہ گاڑیوں کی رفتار 40کلومیٹر فی گھنٹہ تک ہوجائے تاہم گاڑیوں کی رفتار انتہائی دھیمی ہوکر 20 کلو میٹر فی گھنٹہ تک ہوگئی،بہتر نتائج نہ آنے کے باعث اسپیڈ بریکرز کو بہت جلد درست کردیا جا ئے گا اور مزید اسپیڈ بریکرز تعمیر نہیں کیے جائیں گے بلکہ جدید انجینئرنگ ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے ایکسپریس وے کے ہر موڑ پر سپر ایلیویشن کے تحت سڑک کوسطح سے کچھ بلند کردیا جائیگا جس سے گاڑی رفتار کم کیے بغیر موڑ سے باآسانی گزرجائے گی اور حادثات بھی کنٹرول ہوجائیں گے۔
ایکسپریس کو مزید محفوظ بنانے کیلیے نجی یونیورسٹی کے پاس ایک پیڈسٹیرین برج بھی تعمیر کیا جائیگا ،نمائندہ ایکسپریس کے سروے کے مطابق شہید ملت ایکسپریس وے پر بلدیہ عظمیٰ کراچی کے زیرانتظام گذشتہ ہفتے تین مقامات پر رمبل اسٹریپ کے بلاکس نصب کیے گئے، ناقص تعمیر کے باعث بلاکس چند جگہوں سے اکھڑنے بھی لگے ہیں،ایکسپریس وے پر حادثات کو کنٹرول کرنے کیلیے ایک سال قبل تھرمو پلاسٹک کے بلاکس نصب کیے گئے تھے تاہم یہ اپنی افادیت برقرار نہیں رکھ سکے اور گاڑیاں بدستور تیزرفتاری سے گزرتی رہیں اور بعض اوقات بدترین حادثات کا شکار ہوگئیں ۔
ٹریفک ماہرین نے بتایا کہ ایکسپریس وے کی تعمیر غلط ڈیزائن پر کی گئی ہے جس کے باعث ہر موڑ بلیک اسپاٹ بن گیا ہے جہاں ڈرائیورز تیز رفتاری کے باعث گاڑیوں کو کنٹرول میں نہیں رکھ پاتے ہیں، انھوں نے کہا کہ اصولی طور پر ایکسپریس وے کے ہر موڑ پر سپر ایلیویشن تعمیر کرنا چاہیے تھا جس میں سڑک کا کچھ حصہ ڈھلوان کی شکل میں قدرے اونچا کردیا جاتا ہے اسطرح گاڑی رفتار کم کیے بغیر باآسانی گزرجاتی ہے تاہم ایکسپریس وے کی تعمیرات کے وقت متعلقہ انجینئرز نے یہ اہم جزو منصوبہ بندی میں شامل نہیں کیا جس کے باعث یہاں کئی جان لیوا حادثات رونما ہوئے۔
ٹریفک ماہرین نے کہا کہ شہید ملت ایکسپریس وے شہری گزرگاہ ہے لہٰذا یہاں اسپیڈ کنٹرول رکھنے کیلیے ٹریفک پولیس کو بھی سخت اقدامات کرنے چاہئیں، بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ذرائع نے بتایا کہ شہید ملت ایکسپریس وے پر بڑھتے ہوئے حادثات کو کنٹرول کرنے کیلیے گذشتہ ماہ کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا جس میں اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ یہاں رمبل اسٹرپ کے بلاکس مستقل بنیادوں پر نصب کیے جائیں تاکہ تیز رفتار گاڑیوں کی رفتار کو کنٹرول کیا جاسکے تاہم یہ منصوبہ بارآور ثابت نہ ہوا اور یہاں بد ترین ٹریفک جام کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔
بلدیہ عظمیٰ کی غلط منصوبہ بندی کے باعث شہید ملت ایکسپریس وے پرگاڑیوںکی رفتار کم کرنے کیلیے ناقص اسپیڈ بریکرز تعمیر کیے گئے ہیں جس کے باعث ٹریفک جام کی شکایات عام ہوگئی ہیں جبکہ اسپیڈ بریکرز میں نصب بلاکس بھی اکھڑنے لگے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ اینڈ کمیونیکیشن کے سینئر ڈائریکٹر محمد اطہر نے بتایا کہ ٹریفک حادثات کو کنٹرول کرنے کے لیے آزمائشی بنیادوں پر یہ بلاکس نصب کیے گئے تھے تاکہ گاڑیوں کی رفتار 40کلومیٹر فی گھنٹہ تک ہوجائے تاہم گاڑیوں کی رفتار انتہائی دھیمی ہوکر 20 کلو میٹر فی گھنٹہ تک ہوگئی،بہتر نتائج نہ آنے کے باعث اسپیڈ بریکرز کو بہت جلد درست کردیا جا ئے گا اور مزید اسپیڈ بریکرز تعمیر نہیں کیے جائیں گے بلکہ جدید انجینئرنگ ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے ایکسپریس وے کے ہر موڑ پر سپر ایلیویشن کے تحت سڑک کوسطح سے کچھ بلند کردیا جائیگا جس سے گاڑی رفتار کم کیے بغیر موڑ سے باآسانی گزرجائے گی اور حادثات بھی کنٹرول ہوجائیں گے۔
ایکسپریس کو مزید محفوظ بنانے کیلیے نجی یونیورسٹی کے پاس ایک پیڈسٹیرین برج بھی تعمیر کیا جائیگا ،نمائندہ ایکسپریس کے سروے کے مطابق شہید ملت ایکسپریس وے پر بلدیہ عظمیٰ کراچی کے زیرانتظام گذشتہ ہفتے تین مقامات پر رمبل اسٹریپ کے بلاکس نصب کیے گئے، ناقص تعمیر کے باعث بلاکس چند جگہوں سے اکھڑنے بھی لگے ہیں،ایکسپریس وے پر حادثات کو کنٹرول کرنے کیلیے ایک سال قبل تھرمو پلاسٹک کے بلاکس نصب کیے گئے تھے تاہم یہ اپنی افادیت برقرار نہیں رکھ سکے اور گاڑیاں بدستور تیزرفتاری سے گزرتی رہیں اور بعض اوقات بدترین حادثات کا شکار ہوگئیں ۔
ٹریفک ماہرین نے بتایا کہ ایکسپریس وے کی تعمیر غلط ڈیزائن پر کی گئی ہے جس کے باعث ہر موڑ بلیک اسپاٹ بن گیا ہے جہاں ڈرائیورز تیز رفتاری کے باعث گاڑیوں کو کنٹرول میں نہیں رکھ پاتے ہیں، انھوں نے کہا کہ اصولی طور پر ایکسپریس وے کے ہر موڑ پر سپر ایلیویشن تعمیر کرنا چاہیے تھا جس میں سڑک کا کچھ حصہ ڈھلوان کی شکل میں قدرے اونچا کردیا جاتا ہے اسطرح گاڑی رفتار کم کیے بغیر باآسانی گزرجاتی ہے تاہم ایکسپریس وے کی تعمیرات کے وقت متعلقہ انجینئرز نے یہ اہم جزو منصوبہ بندی میں شامل نہیں کیا جس کے باعث یہاں کئی جان لیوا حادثات رونما ہوئے۔
ٹریفک ماہرین نے کہا کہ شہید ملت ایکسپریس وے شہری گزرگاہ ہے لہٰذا یہاں اسپیڈ کنٹرول رکھنے کیلیے ٹریفک پولیس کو بھی سخت اقدامات کرنے چاہئیں، بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ذرائع نے بتایا کہ شہید ملت ایکسپریس وے پر بڑھتے ہوئے حادثات کو کنٹرول کرنے کیلیے گذشتہ ماہ کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا جس میں اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ یہاں رمبل اسٹرپ کے بلاکس مستقل بنیادوں پر نصب کیے جائیں تاکہ تیز رفتار گاڑیوں کی رفتار کو کنٹرول کیا جاسکے تاہم یہ منصوبہ بارآور ثابت نہ ہوا اور یہاں بد ترین ٹریفک جام کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔